رضی الدین رضیکالملکھاری

رہبردکھوں سے نجات کا رستہ دکھا گیا ۔۔ رضی الدین رضی

پتہ نہیں پہلی ملاقات رہبر سے کب ہوئی تھی یہ تو اب اضافی سی بات ہے ۔ جن کے ساتھ پہلی ملاقات یاد نہ رہے وہ یقینی طور پر ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جن کے ساتھ ہمارا تعلق اتنا پرانا ہو تا ہے کہ جیسے وہ ہمیشہ سے ساتھ ہوں ۔ رہبر صمدانی بھی ایسے ہی تھے ۔ ہنستے مسکراتے ، جملے بازی کرتے ، طنز کرتے شعر سناتے مشاعروں میں متشاعروں کی شرکت پر کڑھتے ، کبھی رضی بھائی کہہ کر گلے لگاتے اور کبھی کسی بات پر احتجاج کرتے ۔
پہلی ملاقات تو مجھے یاد نہیں لیکن آخری ملاقات ہمیشہ یاد رہے گی ۔ اور یہ ملاقات اسی مہینے ( سات فروری کو ) ہوئی تھی ۔ رہبر کی علالت کی خبریں کئی روز سے آ رہی تھیں ، سرور ان کی علالت کی خبر فیس بک پر دیتے اور ہم وہیں عیادت کر کے فرض پورا کر دیتے تھے ، کئی بار دوستوں کے ساتھ پروگرام بنا کہ رہبر کی عیادت کر آئیں لیکن ہر بار کوئی فضول سی نام نہاد مصروفیت نے راستہ روک لیا ۔ پھر ایک روز شاکر کے ساتھ طے ہوا کہ کوئی اور جائے نہ جائےہم دونوں تو رہبر سے ملاقات کے لیے ضرور جائیں گے لیکن ایک بار پھر ہم اکٹھے نہ ہو سکے ۔ پھر سات فروری کو آفس کی مصروفیات کے دوران میں تنہا رہبر کی طرف نکل پڑا ۔ اور جب میں رہبر کے پاس پہنچا تو وہاں رہبر نہیں کوئی اور ہی تھا ۔ بڑھی ہوئی شیو کے ساتھ رہبر کی جگہ ہڈیوں کا ڈھانچہ میرا منتظر تھا ۔ وہ جو بستر پر دراز تھا جو اٹھ کر بیٹھ بھی نہیں سکتا تھا اور جو ہنستا نہیں روتا تھا اور جس کے پاس قہقہے نہیں صرف ہچکیاں تھیں ۔
یہ تو وہ رہبر نہیں تھا جو مجھے اکتوبر میں ادبی بیٹھک میں ملا تھا ، اور جو دسمبر میں اشہر حسن کامران کے دفتر میں‌مجھے ملا تھا اور کہتا تھا ابھی تو میں جا رہا ہوں لیکن اب جلد ہی آپ کے پاس اپنی کتاب کے مسودے کے ساتھ آؤں گا ۔ ادبی بیٹھک میں نعت کی ایک محفل میں رہبر نے جو صدارتی گفتگو کی تھی وہ ہم میں سے کسی کو نہیں بھولی ، اور پھر اسی روز اس نے کہا تھا ”رضی بھائی میں تو جو کچھ دل میں ہو کہہ دیتا ہوں لیکن سچ لوگوں سے برداشت نہیں ہوتا ۔ بھائی کم از کم نعت کی محفل میں تو ہمیں سچ بولنا چاہیئے “ ۔
اور جب میں سات فروری کو اسے ملا تو وہ رہبر نہیں محض ہڈیوں کا ڈھانچہ تھااور ڈھانچہ ہچکیاں لیتا تھا ۔” رضی مجھے پتا تھا تم آؤ گے میں تمہارے بارے میں اور شاکر کے بارے میں پتا نہیں کیوں بدگمان رہتا ہوں ۔ میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ یہ تو لوگوں کے مرنے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں کہ فوراً ان کے بارے میں مضمون لکھ سکیں “۔
میں نے انہیں حوصلہ دینے کی کوشش کی ،
” رہبر یار ایسی باتیں سننے نہیں آیا میں “
لیکن اس روز انہیں چپ کرانا مشکل ہو رہا تھا ۔
منظر نظروں میں گھومتے تھے ، پریس کلب کے مشاعرے جن میں رہبر اپنے والد کے ساتھ آتے تھے ۔ وسیم ممتاز کے گھر پر ہونے والے مشاعرے جن میں رہبر سماں باندھتے تھے ۔ ملتان ٹی ہاؤس کی تعمیر پر ہونے والی گرما گرمی جب رہبر اور سرور ٹی ہاؤس مخالف اتحاد میں شامل ہوئے اور پھر ایک روز دونوں بھائی میرے دفتر پہنچ گئے ۔ رہبر بہت جذباتی تھے ۔
” رضی بھائی وہ ہمیں استعمال کرنا چاہتے تھے ، ان کے مقاصد کچھ اور تھے میں انہیں بتا کر آیا ہوں کہ میں کسی کے ہاتھوں استعمال نہیں ہو سکتا “
رہبر بہت معصوم انسان تھا ، اس کے اندر ایک چھوٹا سا بچہ تھا جو ضد بھی کرتا تھا ، لڑتا بھی تھا اور چھیڑ چھاڑ بھی کرتا تھا ۔ رات کو ڈیڑھ دو بجے اسے ہم اسے فیس بک پر دھواں دھار سیاسی یا ادبی بحث کرتے بھی دیکھتے تھے ، میں خاموشی سے اس کی بحث کو پڑھتا رہتا تھا پھر جب مجھے یوں لگتا کہ اب رہبر بہت جذباتی ہو گئے ہیں تو میں انہیں فون کرتا تھا ۔
“ بس کرو بھائی کیوں ان پاگلوں کے ساتھ ہلکان ہو رہے ہو “
”رضی بھائی حکم کریں “ وہ چہک اٹھتے
”بس معاف کر دو یار کیا فرق پڑتا ہے “
“ آپ نے کہہ دیا تو بس بات ختم ۔ان سالوں کو شاعری کی الف بے بھی نہیں آتی اور مقابلہ ہم سے کرتے ہیں‌“
پھر کسی محفل میں ملتے تو کہتے
”اس روز آپ نے اسے بچا لیا ، اچھا نہیں کیا“
اور میں مسکرا کے کہتا ”یار رہبر کوئی بات نہیں “۔
بے شمار یادیں ہیں کہ جن کا ایک سیلاب ہے جو مجھے اشکبار کر رہا ہے ۔ اس آخری ملاقات میں انہوں نے جتنے بھی اشعار سنائے وہ رخصت کے تھے اور میں انہیں کہتا تھا یار رہبر ابھی تو ہم نے بہت سے مشاعرے پڑھنے ہیں ۔لیکن وہ ہمت ہار چکے تھے ۔ ان سے وعدہ کیا تھا کہ ہم سب دوست ان کی علالت کے دوران ادبی بیٹھک کا ایک اجلاس ان کے گھر پر منعقد کریں گے ان سے شعر سنیں گے لیکن اس وعدے کو ایفا کرنے کی مہلت بھی نہ ملی ۔میں نے ان کے پاس بیٹھ کر چائے پی اور واپس لوٹ آیا ۔ سرور کہہ رہے تھے کہ رہبر اب پہلے سے بہت بہتر ہیں‌جلد مزید بہتری کی صورت پیدا ہو جائے گی لیکن رہبر کے سب دکھ آج ختم ہو گئے ۔ اگر وہ زندہ رہتے تو شاید یہ دکھ بھی ان کے ساتھ زندہ رہتے ۔وہ رہزنوں کے معاشرے میں سانس لیتا رہبر تھا ۔ اور رہزن معاشرے میں بھلا کوئی کتنی دیر سانس لے سکتا ہے ۔۔ آج رہبر عدم کے سفر پر روانہ ہو گیا ، وہ رہبر تھا سو ہم سب کو دکھوں سے نجات کا رستہ بھی دکھا گیا ۔

( بشکریہ : سب نیوز اسلام آباد )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker