رضی الدین رضیکالملکھاری

رضی الدین رضی کا کالم: لوڈشیڈنگ،موم بتی اور اگربتی

بجلی کے بحران میں تاجروں کو جلدی دکانیں بند کرنے پر آمادہ کرنے کی کوششیں سردست توناکام ہو گئیں جس کے بعد حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ بازاروں کی بجلی شام سات بجے کے بعد بند کردی جائے تاکہ تاجر دکانیں بند کرنے پر مجبورہوجائیں۔ یہ الگ بات کہ اس کی سزا ان گھریلو صارفین کو بھی ملے گی جن کے گھربازاروں یا ان سے ملحقہ محلوں میں ہیں۔ اس دوران حکومتی عہدیداروں نے بھی اور سماجی تنظیموں نے بھی مثالوں کے ساتھ یہ بتانے کی کوشش کی کہ دنیا بھر میں سورج کی روشنی کو زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے اور دفاتر یا کاروباری مراکز طلوع سحر سے غروب آفتاب تک کھولے جاتے ہیں۔پاکستان میں تاجروں کو بازار اور دکانیں دوپہر کے بعد کھولنے کی عادت ہے اوراس کے بعد رات بارہ ایک بجے تک خریدو فروخت اور کاروبار جاری رہتا ہے۔ اگرچہ کرونا کے زمانے میں مارکیٹیں جلد بند کر نے کی کوششیں کی گئیں لیکن اس کے باوجود دکاندار چوری چھپے کاروبا رکرتے تھے اور مارکیٹوں کی بندش دراصل پولیس کی روزی روٹی کاذریعہ بنی رہی۔ پولیس موبائلوں کی آمد پر آدھے کھلے شٹر بند کردیئے جاتے تھے ا ور دکاندار برملا کہتے تھے کہ ہمیں اپنی آمدن کا خاص حصہ پولیس کوجمع کرانا ہوتاہے تاکہ ہم مقررہ وقت کے بعد بھی بازار کھلے رکھ سکیں۔
ایسی ہی ایک کوشش پرویز مشرف کے دور میں بھی ہوئی اور اس زمانے میں دکانیں رات آٹھ بجے بند کرنے کی کوشش کی گئی۔یہ وہ زمانہ تھا جب ملک میں 1857ء کی جنگ آزادی کی 150سالہ تقریبات منائی جارہی تھیں۔ان میں مماثلت تو کوئی نہیں مگر پھربھی بعض لوگ اس میں کوئی قدر مشترک تلاش کرنے کی سعی ناکام میں مصروف رہے۔محلے کاسب سے بڑا دانشور علاقے کاحجام ہی سمجھاجاتاہے۔جب لوگ اس کے سامنے سرجھکا کر بال بنواتے ہیں تو وہ ان کی گردن دبا کراپنا فلسفہ بھگارنا شروع کردیتا ہے۔اس کے ہاتھ میں چونکہ استرا ہوتاہے اس لیے محلے کے سبھی لوگ اس کی ہرغلط بات کو بھی فوری طورپر درست تسلیم کرنے میں ہی عافیت جانتے ہیں۔پس ثابت یہ ہوا کہ فی زمانہ خود کودانشور تسلیم کرانا مقصودہو تواس کیلئے ہاتھ میں استرا رکھنا ضروری ہے۔انہی دنوں اسی حجام نے بال بناتے ہوئے آٹھ بجے دکانوں کی بندش اور1857ء کی جنگ آزادی میں مماثلت تلاش کرلی۔اس کاکہناتھا کہ واپڈا والوں نے بہت سوچ سمجھ کر آٹھ بجے دکانیں بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔آٹھ بجے دکانیں بند ہوجانے سے پورے علاقے میں تاریکی پھیل جاتی ہے اور 1857ء والا ہی ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔واپڈا والے دراصل لوگوں کوبتانا چاہتے ہیں کہ 1857ء میں جب جنگ آزادی شروع ہوئی تو اس وقت ماحول کیسا ہوتا تھا۔ظاہرہے حجام کی بات تسلیم کرنے کے سواء کوئی چارہ نہیں تھا سو جوبھی بال بنوانے گیا اس نے دکانوں کی بندش اور 1857ء کی جنگ آزادی میں اس مماثلت پرحجام صاحب کو خوب خوب داد دی۔ویسے حاضرین سچ پوچھیں تو ہمیں بھی اب تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ آٹھ بجے بازاربند کرنے سے واپڈا کوبجلی کی کتنی بچت ہوئی۔پہلے روز اخبارات اورٹی وی میں جو رپورٹیں آئیں ان میں بتایاگیاتھا کہ دکانوں کی بندش سے کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچا۔ہمارے ایک دوست او ران کے چار بھائیوں کی ایک مشترکہ دکان ہے۔یہ دکان عام حالات میں رات گیارہ بجے تک کھلی رہتی تھی۔دکان بند کرنے کے بعد یہ برادران اپنے اپنے دوستوں کے ہمراہ کسی ہوٹل پر جاتے پھرگھومتے پھرتے اپنے گھروں کو پہنچتے تھے۔جلدی بندش کا پہلا نقصان تو انکے اہل خانہ کاہوا۔پانچوں بھائی ٹھیک آٹھ بجے دکان بند کرکے گھرکی راہ لیتے۔جووقت بچوں کے ہنسنے کھیلنے کا ہوتا ہے عین اسی وقت یہ حضرات ان کے درمیان موجودہوتے تھے ان میں سے ایک صاحب بتارہے تھے کہ المیہ یہ ہے کہ بچے بھی ہم سے زیادہ مانوس نہیں۔ بچوں کو توبرس ہابرس سے عادت تھی کہ وہ ہم سے چھٹی والے دن ہی ملا کرتے تھے۔رہی بات بجلی کی بچت والی توہمارے کمروں کے جوایئرکنڈیشنر رات 12بجے چلاکرتے تھے وہ اب رات آٹھ بجے کے بعدہی چلنا شروع ہوجاتے ہیں۔ادھر دکان کا اے سی بند ہوتا ہے ادھر گھر کا آن ہوجاتا ہے۔
لیکن صاحب ہم نے دکانوں کی اس جلدی بندش کے کچھ فوائد بھی تلاش کیے ہیں۔آپ انہیں لوڈشیڈنگ کی روشن پہلوبھی قراردے سکتے ہیں۔ لوڈشیڈنگ کاسب سے مثبت پہلو تویہ ہے کہ اس کے نتیجے میں ورزش ہوتی رہتی ہے کیونکہ بجلی بند رہتی ہے آپ ہاتھ میں پنکھاپکڑ کر ہوالیتے رہتے ہیں پنکھانہ ملے تو قمیض کے دامن کوہی اپنے چہرے تک لا کر خودکوہوادینے کی کوشش کرتے ہیں یابے قراری میں اپنے صحن یابرآمدے میں ٹہلنا شروع کردیتے ہیں۔یہ تمام عمل آپ کی صحت کیلئے فائدہ مند رہتا ہے۔آپ کے ہاتھوں،بازوؤں اورٹانگوں کی ورزش ہوجاتی ہے اورآپ بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ لوڈشیڈنگ آپ کونظم وضبط اور وقت کی پابندی بھی سکھاتی ہے۔ہم نے دیکھا ہے کہ لوگ لوڈشیڈنگ کے وقت سے پہلے پہلے اپنے تمام ضروری کام نمٹانے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں۔لائٹ نے ایک مقررہ وقت پر ضرور بند ہونا ہوتا ہے یہ الگ بات کہ لائٹ کی واپسی کاکوئی ٹائم مقرر نہیں ہے مگر یہ کیاکم ہے کہ واپڈا والے ہمیں لائٹ کی بندش کے صدقے وقت کی پابندی کاعادی بنارہے ہیں۔ہمارے ایک دوست نے لوڈشیڈنگ کاجوسب سے اچھا پہلوبتایا اس پر متفق ہوناضروری نہیں مگر یہ بھی بہرحال ایک نقطہ نظر تو ہے۔ان کاکہنا ہے لوڈشیڈنگ اور خاص طورپر رات کوبجلی کی بندش کافائدہ یہ ہے کہ بیگم کی شکل دکھائی دینا بند ہوجاتی ہے۔اگرچہ ان کی بیگم کے نزدیک بھی لوڈشیڈنگ کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہے مگر وہ ا پنے شوہر کواس عارضی سکون سے محروم رکھتی ہیں اورلائٹ بند ہوتے ہی موم بتی روشن کرلیتی ہیں۔شوہر کاکہنا ہے کہ موم بتی تو محض ایک بہانہ ہے ورنہ بیگم صاحبہ کابس چلے تو اگر بتی جلانے سے بھی گریز نہ کریں اورحاضرین محترم ہم یہیں تک لکھ پائے تھے کہ لائٹ آف ہو گئی۔ لوڈشیڈنگ کاسب سے اہم فائدہ آپ کیلئے یہ ہے کہ ہم یہ کالم ادھورا ہی چھوڑ رہے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker