آج 31اکتوبر ہے ۔91برس قبل 1931 ءمیں آج ہی کے روز ملتان میں ایک ایسے بچے نے جنم لیا جس کا نام اس کے والد ملک نصیر الدین نے منیر الدین رکھا لیکن وہ شعر و ادب کی دنیا میں ممتاز العیشی کے نام سے پہچانا گیا۔ منیر الدین(ممتاز العیشی) کا بچپن اورلڑکپن دہلی میں گزرا کیونکہ ان کے والد آل انڈیا ریلوے دہلی میں بطور ویلفیئر انسپکٹر تعینات تھے۔ حصول تعلیم کے بعد 1950ءمیںممتاز العیشی محکمہ دیوانی میں بطور سول ناظر تعینات ہوئے ۔1980ءتک اسی محکمے سے منسلک رہے اورپھر قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لے لی۔ مملاز العیشی خود کو ”عیشی “اپنے استاد علامہ عیش فیروزپوری کی نسبت سے کہلواتے تھے۔انہوں نے دوران ملازمت میلسی ، وہاڑی، لودھراںمیں قیام کیا اوراس دوران وہاں بھی شعر وادب کی محفلیں آباد کیں۔ نامور محقق اورشاعر سید مسعود کاظمی اپنی کتاب ”دبستان ملتان“ میں لکھتے ہیں کہ ممتاز العیشی نے صرف اردو ہی نہیں مادری زبان سرائیکی کوبھی ذریعہ اظہاربنایا۔ وہ صحافت کے ساتھ بھی منسلک رہے اورہفت روزہ ”شمس“ ،روزنامہ آفتاب اور روزنامہ اعلان میں اپنی ریاضت کے جوہر دکھائے۔وہ شطرنج کے بہترین کھلاڑی تھے اورانہوں نے قومی و عالمی مقابلوں میں بھی حصہ لیا۔ادبی، سیاسی وصحافتی احباب پرمشتمل” انجمن قاتلان شب “کے وہ جنرل سیکرٹری بھی رہے۔اس تنظیم کے صدرصاحب علی شاہ گردیزی، نائب صدر شبیر حسن اختر ،جوائنٹ سیکرٹری سابق ڈپٹی میئر ملک بشیر اعوان تھے جبکہ معروف صحافی سعید صدیقی اس تنظیم کی مجلس عاملہ کے چیئرمین قرارپائے۔
ممتاز العیشی انتہائی زودگو اور بلند آہنگ شاعر تھے لیکن انہوں نے اپنی کوئی بیاض ترتیب نہیں دی تھی ۔ان کابلا کاحافظہ تھا اور کم وبیش اپناتمام کلام ازبرتھا۔19نومبر 1990ءکو وہ ملتان میں انتقال کرگئے تھے۔ ممتاز العیشی کی وفات کے 16برس بعد ان کے صاحبزادے وسیم ممتاز نے اپنے والد کاکلام ”میں ابھی زندہ ہوں“ کے نام سے کتابی صورت میں محفوظ کردیا۔اس کتاب کی تعارفی تقریب19نومبر2006ءکو رضا ہال ملتان میں منعقد ہوئی تھی اور اس تقریب میں اظہارخیال کرتے ہوئے ہم نے کہاتھا کہ ایک ایسے ماحول میں جب بعض عجلت پسند مصنفین اوروں کی کتابیں اپنے نام سے چھپوا کر اپنی مطبوعہ کتب کی تعداد میں مصنوعی اضافہ کر رہے ہیںوسیم ممتاز مبارکباد کے مستحق ہیں کہ وہ اپنے والد کی کتاب انہی کے نام سے منظر عام پر لے آئے ۔وہ اگر ممتاز العیشی کی شاعری اپنے نام سے بھی شائع کرا لیتے تو کوئی انہیں کچھ نہ کہتا کہ ایسا ہمارے ہاں بارہا ہوتا آیا ہے اور پھر ممتاز صاحب کی شاعری کے بارے میں تو وہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ اگر یہ میرے نام سے شائع ہو گئی ہے تو اس میں حرج ہی کیا ہے یہ تو مجھے وراثت میں ملی ہے ۔ ویسے بھی ممتاز العیشی صاحب کا شمار اساتذہ میں ہوتا تھا اساتذہ کی شاعری پر شاگرد اگر اپنا حق جتلا سکتے ہیں تو اولاد بھلا کیوں نہ جتلائے ۔ ہم بہت سے ایسے شعراءکو جانتے ہیں کہ جن کے شعری مجموعوں اور بیاضوں سے ممتاز العیشی، بیدل حیدری ، نسیم لیہ اور حزیں صدیقی جیسے اساتذہ کی غزلیں من وعن جھانکتی ہیں اور وہ ان غزلوں کو استاد کا اسلوب قرار دے کر احباب کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
وسیم ممتاز نے ممتاز العیشی صاحب کا شعری مجموعہ شائع کرا کے بلاشبہ ایک ایسا کام کیا ہے کہ جسے بھر پور انداز میں سراہا جانا چاہیے ۔ انہوں نے صرف اپنے والد کے کام کو ہی نہیں اس شہر کے شعری ورثے کو بھی محفوظ کیا اور یہ کام انہوں نے ایک ایسے دور میں اور ایک ایسے ماحول میں کیا جب لوگوں کو فراموش کرنے کی روایت مستحکم ہو رہی ہے ۔ بہت سے شاعر اور ادیب ہمارے درمیان سے اٹھ گئے اور ہم نے پلٹ کر کبھی انہیں یاد بھی نہ کیا۔ ہر سال ان کی برسیاں گزر جاتی ہیں اور ہمیں یاد بھی نہیں رہتا کہ اس روز ہم نے کوئی جنازہ بھی پڑھا تھا۔
ممتاز العیشی کی کتاب ان کی برسی کے موقع پر شائع ہوئی اوراس کی تعارفی تقریب بھی عین اسی روز منعقد ہوئی جس روز ممتاز العیشی 16برس قبل ملتان کے ادیبوں اور شاعروں کو اداس کر گئے تھے ۔ کسی شاعر کی برسی منانے کا بھلا اس سے اچھا طریقہ اور کیا ہو سکتا تھا۔ممتاز العیشی ان لوگوں میں سے تھے کہ جنہوں نے ملتان کے شعری ماحول کو ترتیب دینے اور اس کی بنیادیں مستحکم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ عظیم ادبی روایات کے امین تھے ۔ ان روایات کے امین تھے جو اب ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ آج ہمارے ہاں شعر کہنے والے تو بہت ہیں مگر نئے لوگوں کو شعر گوئی کے ہنر سے آشنا کرنے والا کوئی نہیں۔ ممتاز العیشی نے اپنے استاد عیش فیروز پوری سے جو کچھ سیکھا اسے آنے والی نسلوں کے سپرد بھی کر دیا۔ ایک شمع جو ان کے ہاتھ میں ان کے استاد نے تھمائی تھی انہوں نے اسے صرف اپنے تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ اس کے ذریعے نئے لوگوں کو بھی راستہ دکھایا۔
”میں ابھی زندہ ہوں“ کی اشاعت نے کتاب کے عنوان کو ایک نئی معونیت دے دی ۔کتاب کے سرورق پر ممتاز صاحب کی ایک بولتی ہوئی تصویر ہے اور اس پر لکھی ہوئی یہ لائن تحریر کی صورت میں صرف دکھائی ہی نہیں دیتی آواز بن کربھی ہمارے کانوں تک آتی ہے ۔
میں جو مر جاؤں تو کر لینا پھر اپنی مرضی
دوستو مان بھی جاؤ میں ابھی زندہ ہوں
ممتاز العیشی زندہ رہیں گے ۔ مرتا وہ ہے جسے یاد کرنے والا کوئی نہ ہو۔ ممتاز العیشی کو یاد کرنے والے جب تک یاد کرتے رہیں گے وہ زندہ رہیں گے اور صرف وہی زندہ نہیں رہیں گے ان کے ساتھ عیش فیروز پوری بھی زندہ رہیں گے کہ ممتاز صاحب نے اپنے استاد کے نام کو اپنے نام کا حصہ بنایا ہی اس لئے تھا کہ جہاں جہاں میرا نام آئے وہیں میرے ساتھ میرے استاد کا نام بھی آئے ۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)
فیس بک کمینٹ

