رضی الدین رضیکالملکھاری

مسعود کاظمی ۔۔ آزادی سے آوارگی تک ۔۔ رضی الدین رضی ( پانچ سال قبل تحریر کیا گیا مضمون)

جس طرح ہم دین اور مذہب کا فرق نہیں سمجھتے ، جس طرح ہم جہاد اور فساد کو ایک ہی سطح پر لے آئے ہیں اور جیسے ہم مصلحت کے نام پر منافقت کرتے ہیں بالکل اسی طرح ہمارے ہاں آزادی اور آوارگی میں تفریق بھی ختم ہو گئی ہے۔ہم نے آوارگی کو آزادی کا نام دیا اور آزادی کو اپنی سہولت کے لئے آوارگی میں تبدیل کر لیا۔نتیجہ ُاس معاشرتی انتشار کی صورت میں سامنے آیا جس کا ہمیں آج بحیثیت قوم سامنا ہے اور اس لئے سامنا ہے کہ ہم قوم اور ملت کے فرق سے بھی آشنا نہیں ۔
آزادی اور آوارگی کا موضوع ہم نے آج اس لئے چھیڑا کہ ہمیں ذکر کرنا ہے مسعود کاظمی کا کہ جن کی ساری زندگی آزادی کے حصول کے لئے آوارگی کی نذر ہو گئی ۔آوارگی کوئی بری بات بھی نہیں کہ شاعر کے مزاج میں اگر آوارگی نہ ہو توپھر وہ عبدالعزیزخالد کی طرح بے برکتے شعر کہتا ہے ، شاعری میں صرف زبان و بیان کا خیال رکھتا ہے اور اس میں صرف اصلاحی موضوعات زیرِ بحث لاتا ہے۔ایسے ”نیک پروین“ قسم کے شعرا محبوبہ کو کن اکھیوں سے دیکھتے ضرور ہیں مگر شعر میں اس کے ذکر سے گریز کرتے ہیں ۔اگر ذکر کریں بھی تو کچھ اس انداز میں کرتے ہیں کہ محبوبہ اور والدہ میں فرق بھی ملحوظِ خاطر نہیں رکھ پاتے۔ ہمارے مسعود کاظمی ایسے ہر گز نہیں ہیں ۔زندگی میں بس ایک محبوبہ ہی تو انہیں محبوب ہے۔ یہاں ”ایک“سے مراد واحد بھی نہیں کہ محبوبہ کے معاملے میں ہمارے شاہ جی واحد جمع کے فرق سے تو آشنا ہی نہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ آج میں اگر 63 سال کی عمر میں بھی لرزتا کانپتا دکھائی نہیں دیتا اور آنکھوں میں دَم کے ساتھ ساتھ میرے ہاتھوں میں جنبش بھی موجود ہے تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ میں محبت میں توحید کا قائل نہیں ہوں۔ کاظمی صاحب کی زندگی کا حاصل لاحاصلی ہے اور یہ لا حاصلی انہوں نے بہت تگ و دو کے بعد حاصل کی ہے۔
مؤرخین بتاتے ہیں کہ انہوں نے بہت سچائی کے ساتھ بہت سی محبتیں کیں ۔سادھو بنے، دھونی رمائی ، قشقہ کھینچا، دَیر میں بیٹھے۔۔ ہاں میر کی طرح ترک اسلام نہ کیا ورنہ شاید ۔۔۔خیر اس” شاید “ کو چھوڑیں بات آگے بڑھاتے ہیں ۔ہم نے ایک بار شاہ جی کے حضور زانوئے تلمذ تہہ کیا ۔دریافت کیا کہ شاہ جی ایک محبت تو چلو ہو جاتی ہے ،چلئے دوسری بھی مان لی،شرعی نقطہءنظر کو سامنے رکھیں تو چار محبتوں کی گنجائش بھی نکل ہی آتی ہے لیکن یہ سالانہ چار محبتیں کیسے ہوتی ہیں؟ شاہ جی پہلے تو مسکرائے اور پھر آبدیدہ ہو گئے ۔ (ان کے بعض حاسدین کا خیال ہے کہ قلبی وارداتوں کے دوران ان کی فتوحات اور پسپائیوں میں ان کے رقیق القلب ہونے کا بھی بہت عمل دخل ہے) مسعود کاظمی نے ہمارا ہاتھ تھاما اور دودھ والے کی دوکان پر لے گئے ۔ ٹھنڈے دودھ کا آرڈر دیا اور کہنے لگے۔ ”میری محبت تو ایک ہی چلی آرہی ہے۔ صدق دلِ سے محبت کی میں نے۔ لیکن جس سے بھی کی وہ مجھے چھوڑ گئی“۔ہمیں ڈاکٹر انوار احمد کا جملہ یاد آ گیا جو انہوں نے ہمارے پہلے شعری مجموعے”دن بدلیں گے جاناں“کی تعارفی تقریب میں کہا تھا کہ جب دن بدلتے ہیں تو جاناں بھی بدل جاتی ہے۔
مسعود کاظمی کی زندگی کی کہانی بہت سنسنی خیز ہے۔ بہت سے اتار چڑھاؤ ہیں ، بہت سے نشیب و فراز ہیں ، بوسن روڈ کالج کے گراؤنڈ میں جماعتیوں کے خلاف تقریریں کرتا ایک انقلابی نوجوان، کالج کے بین الکلیاتی مباحثوں میں کامیابی کی ضمانت سمجھا جانے والاجوشیلا مقرر اور مشاعروں میں رومانوی شاعری کے ذریعے دھوم مچانے والا شاعر۔ مسعود کاظمی کو ملتان آرٹس کونسل کی افسری ملی ، اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے میں اہم عہدے پر فائز رہے، سرکاری گاڑیاں ، رہائش گاہیں ، غیر ملکی دورے ۔۔ سب کچھ ملا لیکن یہ حسنِ آوارگی کا اعجاز ہے کہ وہ ہمیں آج بجلی سے چارج ہونے والی موٹر سائیکل پر ہی گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے اور وہ داستاں بہر حال محبت کی تھی۔ عجیب شخص ہے یہ مسعود کاظمی بھی ۔لوگ محبت میں شاعری کرتے ہیں اس نے ترک کر دی۔ نہ کسی اخبار یا رسالے میں شائع ہوئے ، نہ مشاعروں میں شرکت کی اور نہ ہی کوئی کتاب منظرِ عام پر لائے ۔شاید جو بھی شعر کہے انہی میں بانٹ دئے جن کے لئے کہے گئے تھے ۔
ایک دن میں نے اور نوازش علی ندیم نے شاہ جی کی دکھتی رگ کو چھیڑ دیا ۔ بس پھر یوں شروع ہوئے کہ اپنی کامیاب محبتوں کی ناکامی کا تمام احوال سنا ڈالا۔ سنایا بھی کچھ اس سلیقے سے کہ کوئی حرفِ شکایت زبان پر نہ لائے۔ ہم نے پوچھا آرٹس کونسل میں اسلم انصاری صاحب بھی تو آپ کے ساتھ ہوتے تھے سنا ہے کسی ایسے ہی معاملے میں ان کے ساتھ کوئی اختلاف ہوا تھا ؟مگر مسعود کاظمی کہاں پکڑائی دیتے تھے ۔انہوں نے کسی حبیب یا رقیب کا نام نہ لیا ، مقاماتِ وآہ و فغاں کی بھی نشاندہی نہ کی ۔بس خلاؤں میں گھورتے ہوئے ماضی کی راکھ کریدتے رہے۔جیسے کوئی بچہ اپنے کھلونے ٹوٹ جانے کا احوال بیان کر رہا ہو اور اسے یہ معلوم ہی نہ ہو کہ کھلونا تو وہ خود تھا جسے زمانے نے توڑ دیا۔۔یا پھر وہ خود ہی ٹھوکروں کی زد میں آکر ریزہ ریزہ ہو گیا اور اب اپنی کرچیاں سمیٹتا پھر رہا ہے۔محبت کی ہر کہانی کا انجام کم و بیش ایک سا ہوتا ہے۔کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ زندگی کو رائیگاں کرنے کے لئے تو کسی ایک خواب کا ریزہ ریزہ ہونا ہی کافی ہوتا ہے تو یہ کیسا شخص ہے جو اتنے بہت سے خواب بے تعبیر ہونے کے باوجود ہمیں زندہ نظر آتا ہے۔مسعود کاظمی کی ہر رائیگانی کی بنیاد ان کی آزاد منش طبیعت ہے۔ انہوں نے اپنی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اپنے جیون میں آزادی اور آوارگی کے فرق کو ختم کر بیٹھے۔ اب انہیں آزادی کے ساتھ ساتھ اپنی آوارگی بھی بہت عزیز ہے۔ انہیں ان کی محبتیں تو نہ ملیں لیکن دوستوں کی بے پناہ محبتیں شاہ جی کو میسر آ گئیں۔ نجم الاصغر شاہیا کے مشورے پر وہ سخن ور فورم سے وابستہ ہوئے ۔یہ مشورہ انہوں نے کاظمی صاحب کو اپنی آخری ملاقات میں دیا تھا ۔عجیب اتفاق ہے کہ کاظمی صاحب پہلی بار جب ادبی بیٹھک میں آئے تو وہاں شاہیا صاحب کی یاد میں ہی تعزیتی ریفرنس ہو رہا تھا۔ اس روز سے وہ بیٹھک اور فورم کے مستقل رکن ہیں ۔ اور ہم سب ان سے اس لئے بھی محبت کرتے ہیں کہ انہیں فورم کا عہدیدار شاہیا صاحب نے نامزد کیا تھا۔ شاہیا صاحب خود تو ادبی بیٹھک میں شرکت کی حسرت لئے اس جہان سے رخصت ہو گئے لیکن آج مسعود کاظمی ان کے نمائندے کی حیثیت سے اس بیٹھک میں شریک ہوتے ہیں۔ وہ ہر مشاعرے کے لئے نئی غزل یا نظم کہتے ہیں ، ادبی موضوعات پر بحث میں حصہ لیتے ہیں ،تخلیقات پر دو ٹوک رائے دیتے ہیں۔ کسی کو اچھی لگے یا بری مسعود کاظمی اپنی بات ضرور کہتے ہیں اور ان کی یہی بات سب کو ان کا گرویدہ بناتی ہے۔
مسعود کاظمی اور پاکستان کم و بیش ہم عمر ہیں۔پاکستان سے محبت مسعود کاظمی کا ایمان ہے۔ انہوں نے ”آزادی“ کے نام سے کتاب ترتیب دی تو میں بہت دن سوچتا رہا کہ انہوں نے اس موضوع کا انتخاب کیوں کیا ہے۔ بالآخر میں ایک نتیجے پر پہنچا جس سے آپ کا متفق ہونا ضروری بھی نہیں۔نتیجہ یہ نکلا کہ مسعود کاظمی کی طرح پاکستان بھی آزادی کے حصول کی کوشش میں رائیگانی کا شکار ہوا۔ پاکستان نے بھی سب سے محبت کی لیکن سب اس سے بے وفائی کر گئے ۔ آج وطنِ عزیز میں بھی آزادی اور آوارگی کی حدیں ختم ہو چکی ہیں ۔عدلیہ، فوج اور میڈیا سمیت تمام ادارے اپنی آزادی کی جنگ لڑتے لڑتے آوارگی کا شکار ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب عوام ہیں جن کے خواب ریزہ ریزہ ہو کر ان کے قدموں میں بکھر چکے ہیں ۔لوگ خوابوں کی کرچیاں چننے میں مصروف ہیں اور انہی میں ایک مسعود کاظمی ہے جو خوابوں کی کرچیاں اس لئے چنتا ہے کہ انہیں جوڑ کر ایک نیا خواب بنا سکے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker