اختصارئےرضی الدین رضیلکھاری

سانپ ۔ می لارڈ !! سانپ ۔۔ رضی الدین رضی

می لارڈ !! ہمارے ساتھ پہلی مرتبہ تو ایسا نہیں ہوا۔ اور ہم جانتے ہیں کہ یہ کھیل آخری مرتبہ بھی نہیں دہرایا جا رہا۔ ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہم یہ سب کچھ خاموشی سے دیکھ رہے ہیں اور برداشت بھی کر رہے ہیں۔ یہ سانپ سیڑھی کا کھیل ہے می لارڈ ۔۔ اور ہم سب سے پہلے تو یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ سانپ سیڑھی کے اس کھیل میں ہم آپ سے انصاف لینے تو نہیں آئے۔ ہم آپ سے زہر کا تریاق لینے بھی نہیں آئے۔
می لارڈ !! آپ کو تو معلوم ہے کہ ہمارے ساتھ یہ سانپ سیڑھی کا کھیل برسوں سے کھیلا جا رہا ہے۔ اس کھیل میں سیڑھیاں کم اور سانپ بہت زیادہ ہیں۔ ہم جب کسی سیڑھی پر چڑھنے لگتے ہیں تو ہمارے پاؤں کے نیچے سے سیڑھی کھینچنے والے بھی بہت ہوتے ہیں لیکن ہم ان کی پرواہ کئے بغیر ہانپتے کانپتے اس جھولتی سیڑھی پر چڑھتے ہیں اور ہمیں یقین ہوتا ہے کہ یہ سیڑھی ہمیں اس منزل تک لے جائے گی جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا۔ ہم سیڑھی کے اس کونے تک پہنچتے ہیں جہاں خوشبو ہماری منتظر ہوتی ہے ۔۔ جہاں روشنی ہوتی ہے اور جہاں ہوا ہوتی ہے۔ اور جہاں یہ سب کچھ ہوتا ہے وہاں بہت سے سانپ بھی تو ہوتے ہیں ۔۔ سانپ می لارڈ سانپ ۔۔ ہر رنگ اور ہر نسل کے سانپ ۔۔ اودے اودے نیلے نیلے۔ لچکیلے اور زہریلے سانپ۔ جی ہاں می لارڈ سانپ ہی سانپ ۔۔ اچھے سانپ اور برے سانپ۔۔ وہاں کوئی ہمیں بتاتا ہے کہ یہ دوست سانپ ہیں۔ ہمدرد سانپ ہیں اور محب وطن سانپ ہیں۔ اور می لارڈ یہ سانپ ہمیں آپ کے قدموں میں لا پھینکتے ہیں۔۔
می لارڈ !! پھر ہم آپ کے سامنے فریاد کرتے ہیں،ہم ہاتھ جوڑتے ہیں،گڑگڑاتے ہیں اور آپ سے انصاف کی بھیک مانگتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ انصاف کا لفظ اب لغت میں موجودہی نہیں۔ یہاں چور کو کلین چِٹ دی جاتی ہے اور بے گناہ کو پھانسی چڑھایاجاتا ہے۔ می لارڈ !! سانپ سیڑھی کے کھیل میں جہاں سیڑھی کھینچنے والے زیادہ ہوں اور سانپ ان سے بھی بہت زیادہ ہوں وہاں بھلا انصاف کا لفظ کسی لغت میں کیسے ہوسکتا ہے۔
می لارڈ !! ہمیں معلوم ہے کہ ہم آپ سے اپنے حصے کی ذلت وصول کرنے آئے ہیں اور ہم اس بات پر خوش ہیں کہ ہمیں جس کام کے لیے یہاں بھیجا گیا وہ ہم بخوبی سرانجام دے رہے ہیں۔ ہمارا مقصد حیات اچھے خواب دیکھنا تو نہیں تھا ۔ہم صرف ذلت جھیلنے کے لیے یہاں آئے اور ہمیں خوشی ہے می لارڈ !!کہ یہ تذلیل ہم کسی ایرے غیرے کے ہاتھوں نہیں آپ کے ہاتھوں کروائیں گے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ انصاف کا لفظ لغت میں موجود نہیں ہم آپ سے اگر انصاف کی بھیک مانگتے ہیں اور فریاد کرتے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم آپ کا اقبال بلند کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کو عزت دینا چاہتے ہیں ورنہ ہم جانتے ہیں کہ انصاف کاترازو کس کے ہاتھ میں ہے۔ اور اس ترازو کا پلڑا ہمیشہ سے مقتولوں کی بجائے قاتلوں کے حق میں جھکتا ہے۔
می لارڈ !! جان کی امان پائیں تو عرض کریں کہ ہم روز کے اس کھیل سے تنگ آ چکے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہم غدار ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم بے بس ہیں۔ بس ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ نے جو بھی فیصلہ کرنا ہے کر دیجئے ۔سزا اور جزا سے تو ہمیں غرض ہی نہیں ۔۔ بس اس فیصلے میں تاخیر ہر گز نہ کیجئے۔ اور یہ تو ہم جانتے ہیں کہ فیصلہ پہلے بھی کبھی ہمارے حق میں نہیں آیا۔ آئندہ بھی یہ پلڑا ہماری طرف نہیں جھکے گا۔ ہم کوئی جنرل پرویز مشرف یل جنرل اسلم بیگ ہیں کہ جو آئین شکنی اور مالی بدعنوانیوں کے باوجود دندناتے پھریں۔ آئین شکنی تو ”چھوٹی سی بات “ ہے یہاں تو ملک دولخت کرنے والے یحییٰ خان سے بھی بازپرس نہیں ہوئی تھی۔ می لارڈ !! فیصلہ کیجئے۔ بس جلدی سے فیصلہ کیجئے۔ یہ چتکبرے اور زہریلے سانپ ہمیں جکڑ رہے ہیں۔ ہماری پسلیاں توڑ رہے ہیں۔بس دکھ یہ ہے کہ یہ ہماری جان نہیں لیتے، لیکن یہ ہمارے بچوں کو تو ڈس رہے ہیں‌۔ سانپ می لارڈ !! سانپ ہر طرف سانپ ۔بس فیصلہ کیجئے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker