اختصارئےرضی الدین رضیلکھاری

رضی الدین رضی کا اختصاریہ : آصف رشید کی یادیں

چند روز پہلے مجھے لیک ویو اپارٹمنٹس کے سامنے سے گزرتے ہوئے آصف رشید بہت یاد آئے ، وہ اسی مہینے اس وقت بھی یاد آئے تھے جب میں نے ادبی بیٹھک کی 2011 ء کی تقریبات کی فہرست دیکھتے ہوئے ان کا نام دیکھا تھا وہ پہلی اور آخری بار اٹھائیس اپریل 2011 ء کو عابد قریشی صاحب کی کتاب ” پاکستان میں مصوری“ کی تعارفی تقریب میں شرکت کے لئے ادبی بیٹھک میں آئے تھے ۔ادبی بیٹھک کے احوال اور یادوں کے حوالے سے میں ”سخن وران ملتان“ کے نام سے اپنی کتاب کی جو دوسری جلد ترتیب دے رہا ہوں اس کی فہرست میں آصف رشید کا نام بھی درج ہے ۔ ممکن ہے میں ان کے بارے میں یہ تحریر چند روز بعد تحریر کرتا لیکن پھر فیس بک کی یادداشت نے بتایا کہ آصف رشید کو ہم سے بچھڑے سات برس بیت گئے ہیں ۔ آصف رشید کا جنازہ ہم نے سات جنوری 2014 کو پڑھا تھا ۔
اس روز ایک بہت خوبصورت ، بہت نفیس ، روشن خیال دوست ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گیا ۔۔ میاں آصف رشید کی شعر و ادب سے وابستگی کا بہت کم لوگوں کو علم ہو گا . ’’دلیل سحر” کے نام سے ان کے مضامین کا ایک مجموعہ چند برس قبل شائع ہوا تھا اس کتاب میں انہوں نے ایسے موضوعات کا انتخاب کیا جن پر بات کرنا آسان نہیں بہت سے فکری اور تاریخی مغالطوں کو دور کرنے کی کوشش کی ۔ جب ان کی پہلی کتاب شائع ہوئی میرا ان کے ساتھ تعارف نہیں تھا لیکن جب دوسری کتاب ” مجسموں کی دنیا“ 2010 میں منظر عام پر آئی تو وہ میرے دوست بن چکے تھے ۔ دوستی بھی ایسی جس میں فاصلہ بھی تھا اور احترام بھی ۔ہماری ایک دوسرے کے ساتھ چند ہی ملاقاتیں رہیں لیکن ان ملاقاتوں‌میں ہم نے بہت سے حساس اور ممنوعہ موضوعات پر تفصیل سے بات کی ۔ ” مجسموں کی دنیا “ ایک اچھوتا اور چونکا دینے والا کام تھا جس نے سب کو حیران کر دیا ۔ مجسمہ سازی کی تاریخ کے حوالے سے یہ اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے ۔ سولہ دسمبر 2010 کو آصف رشید نے یہ کتاب مجھے اپنے دستخطوں کے ساتھ دی تو ساتھ ہی ایک خوبصورت جملہ بھی میری نذر کیا ” رضی الدین رضی ہمارے معاشرے کے ان گنے چنے لوگوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے کبھی کسی بھی بت کو نہیں پوجا “
میں نے مسکرا کر کہا آصف بھائی آپ کا یہ جملہ میرے لیے بہت معتبر ہے ۔ آصف نے بات تبدیل کی اور سگریٹ میری جانب بڑھا دیا ۔ پھر ایک روز معلوم ہوا کہ یہ خوبصورت اور نفیس دوست کینسر کا شکار ہو گیا ہے ۔ بہت حوصلے کے ساتھ اس نے بیماری کا مقابلہ کیا اور آخر زندگی کی بازی ہار گیا ۔۔ 7 جنوری کی شب ملتان چھاؤنی کی عید گاہ میں اس کا جنازہ تیار تھا ۔۔

( بشکریہ : روزنامہ سب نیوز اسلام آباد )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker