اختصارئےرضی الدین رضیلکھاری

رضی الدین رضی کا اختصاریہ : شہری بابو وزیر عباس سہو اور دھرتی ماں کی کہانی

چیچہ وطنی کے قریب بورے والا روڈ پر غازی آباد سے چند کلو میٹر دور ایک گاؤں چک نمبر 26/11ایل ہے ۔ اس گاؤں کے ایک قبرستان میں جمعرات نو ستمبر کی صبح ہم نے ایک ایسی ہستی کو سپرد خاک کیا جو اسی گاؤں کی گلیوں میں پلی بڑھی اور پھر اسی کی مٹی میں آسودہ ہو گئی ۔
چوہدری وزیر عباس سہو تھے ، ایک سیلف میڈ انسان جنہوں نے اپنی محنت اور لگن سے اپنا اور اپنے خاندان کا نام بنایا ۔جنازے میں ان کے بیٹے اسدوزیر ، ڈاکٹر خرم اوراحمد بلال ، بھتیجے اور عزیز و اقارب موجود تھے ۔ سبھی غم سے نڈھال تھے اور دھاڑیں مار کر روتے تھے ۔ سر پر چمکتا سورج تھا جو ہمیں پسینے میں شرابور کرتا تھا ۔ یہی سورج تھا جس کی چلچلاتی دھوپ میں کئی برس قبل وزیر عباس بھائی نے اپنے گاؤں سے ہجرت کی تھی کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے ۔ایک دیہاتی ماحول سے نکل کر شہری بابو بن جانے والے وزیر عباس نے لیکن اپنی مٹی کے ساتھ وابستگی کچھ اس طرح برقرار رکھی کہ تخت لاہور بھی انہیں اپنا قیدی نہ بنا سکا ۔ انہوں نے ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوٹ سے وابستگی اختیار کی مختلف شہروں میں تعینات رہے اور پھر چند برس قبل لاہور سے ڈائریکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوگئے ، ایک بڑے منصب پر رہتے ہوئے بھی ان کے اندر کی بے ساختگی ، خلوص اور محبت کی چاشنی سدا بہار تھی ۔ وزیر عباس میرے چچا ظہیر احمد اوپل کے بڑے داماد تھے ۔ ایک محبت بھرا تعلق ان کا میرے انکل ستار کے ساتھ بھی تھا ۔ گزشتہ دو عشروں کے دوران ہماری بیشتر ملاقاتیں خاندان کی تقریبات میں ہوئیں ۔ کبھی خوشی کے موقع پر مبارکباد دیتے اور کبھی سوگ کے لمحات میں ایک دوسرے کو حوصلہ دیتے ہوئے ۔ یہ ملاقاتیں زیادہ طویل بھی نہیں تھیں ، لیکن ایسی ضرور تھیں کہ ان کے نقش آج بھی میرے دل و دماغ میں محفوظ ہیں ۔ ہم جب بھی ملے انتہائی گرم جوشی کے ساتھ ملے اور دوبارہ ملنے کی خواہش کے ساتھ جدا ہوئے ۔آخری بار مجھے وہ طاہر اوپل کی قل خوانی پر ملے تھے ۔ چلنے پھرنے میں انہیں کچھ دشواری ضرور تھی لیکن یہ گمان بھی نہیں تھا کہ ہم آخری بار مل رہے ہیں ۔ بعد کے دنوں میں وہ طاہر کے بچوں کے حوالے سے فکر مند رہتے تھے مجھ سے ان کے مستقبل کے بارے میں بارہا طویل گفتگو کرتے ۔ اور میں بھی گاہے گاہے بعض معاملا ت پر ان سے رہنمائی لیتا رہتا تھا ۔ اسی دوران ان کی بیٹی ماہ نور ڈاکٹر بن گئیں اور میں نے انہیں مبارک باد کے لیے فون کیا ۔ وزیر بھائی بہت خوش تھے اس روز اور بیٹی کی کامیابی پر ایک ناقابل بیان خوشی ان کے لہجے سے جھلکتی تھی ۔۔ پھر کوئی پندرہ روز قبل اچانک ان کی علالت کی خبریں آئیں ۔ اور وہ دو تین روز میں ہی ہم سے جدا ہو گئے ڈاکٹر بیٹا اور بیٹی لاہور کے بہترین ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کر نے کے باوجود بے بس ہو گئے ۔ ۔
برادرم فہد بھٹہ اور طاہر فرید کے ہمراہ قبرستان سے واپسی پر میں سوچتا تھا کہ ہمارے بہت سے دوست دھرتی سے محبت کا بہت شور مچاتے ہیں ۔ ماں دھرتی کے نام پر سیاست کرتے ہیں مفادات حاصل کرتے ہیں لیکن بہتر مستقبل کے بہانے دھرتی کے ساتھ بے وفائی سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ دھرتی سے سچی محبت کرنے والے توبھائی وزیر عباس جیسے ہوتے ہیں جو غم روزگار جہاں مرضی جھیلتے رہیں لیکن اپنی دھرتی ماں کے ساتھ اپنا رشتہ ایسا مضبوط رکھتے ہیں کہ دھرتی بھی انہیں اپنی آغوش میں لینے کے لیے بے قرار ہوتی ہے ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker