اختصارئےادبرضی الدین رضیلکھاری

عبدالحنان کا پہلا اظہاریہ ۔۔ رضی الدین رضی

حنان نے ایک روز مجھ سے سوال کیا ۔ بابا آپ اب اخبارات میں‌کیوں نہیں‌لکھتے ۔ میں کہنا تو یہ چاہتا تھا کہ بیٹا اب بیشتر اخبارات میں‌ وہ لوگ اہم عہدوں پر فائز ہیں‌جن کی تربیت کبھی میں‌نے کی تھی ۔ سو اب وہ احتراماً میری تحریریں‌ شائع نہیں‌کرتے بلکہ اگر کہیں‌خبر میں‌میرا نام بھی آ جائے تو احتیاط کے ساتھ اسے حذف کر دیتے ہیں‌ کہ کہیں‌ بے ادبی نہ ہو جائے لیکن میں نے اسے صرف یہ کہا کہ پُتر ابتدا میں کچھ ایڈیٹر صاحبان مجھے اس لئے نہیں چھاپتے تھے کہ اُس زمانے میں‌بقول ان کے مجھے لکھنا نہیں‌آتا تھا لیکن اب اس لئے نہیں‌چھاپتے کہ شاید مجھے لکھنا آگیا ہے اور کئی جگہ میری تحریر شائع کرتے ہوئے پالیسی آڑے آ جاتی ہے ۔پالیسی آڑے آ جاتی ہے سو اب میں‌نے سوشل میڈیا کا سہارا لیا ہے اور مختلف ویب سائیٹس پر بلاگ یا کالم لکھتا ہوں ۔ حنان کے ساتھ یہ مکالمہ تین چار سال پہلے ہوا تھا کچھ عرصہ بعد محسوس ہوا کہ ویب سائیٹس پر بھی پالیسی نہ سہی مگر کچھ مصلحتیں آڑے آنے لگی ہیں ۔ سو وہاں بھی میرے لکھنے کی رفتار کم ہو گئی ۔ پھر ایک روز حنان نے اپنے چاچُو کے ساتھ مل کر مجھے ’’گِردو پیش‘‘ کا تحفہ دے دیا ۔ عامر اوپل نے یہ سائیٹ چند ماہ قبل بنائی تھی اور یہ صرف اس کے کتاب دوست ادارے ’’بک مارک‘‘ کے لئے مخصوص تھی ۔عبدالحنان نے اسے میرے مزاج کے مطابق ڈیزائن کر دیا ۔ وہ کمپیوٹر سائنس کا طالب علم ہے اور یہ اس میدان میں اس کا پہلا ‘‘اظہاریہ‘‘ ہے ۔ اب مَیں ہوں‌ اور اظہار کا یہ ذریعہ کہ جو میری ہی نہیں میرے سب دوستوں کی آواز بننے جا رہا ہے ۔ سو آپ جب بھی اس سائیٹ میں‌کوئی خوبی دیکھیں مجھے داد دینے کی بجائے حنان کی صحت سلامتی اور ترقی کے لئے دعا کریں ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker