رضی الدین رضیکالملکھاری

رضی الدین رضی کا کالم ۔۔ فہیم اصغر کیسے خواب و خیال ہوئے ؟

چاہ بوہڑ والا میں محترم اسلم یوسفی کے گھر سے واپسی پر میں اسی گلی میں ایک دروازے پر دستک دیتا تھا ، وہ گھر کا نہیں ایک بیٹھک کا دروازہ تھا اور وہ بیٹھک فہیم اصغر کی تھی ۔ فہیم کی بیٹھک میں بعض اوقات کچھ دوست بھی موجود ہوتے اور وہ کبھی تنہا ہوتے تھے ۔ کتابیں پڑھتے یا کوئی مضمون لکھتے ہوئے ۔ پھر وہاں وقت گزرنے کا احساس بھی نہ ہوتا ۔
ہماری ملاقات تواتر سے نہیں ہوتی تھی بسا اوقات ہفتوں اور کبھی مہینوں بعد ملتے تھے ۔ لیکن ان کی محبت اور گرم جوشی ہمیشہ یکساں ہوتی ۔
وہ بہت کم گو ، نفیس اور وضعددار تھے ۔ یہ رکھ رکھاؤ اور سلیقہ ہی ان کی شخصیت کا حسن تھا ۔ فیم اصغر سے ملاقاتیں کینٹ کے چائے خانوں پر بھی ہوتی تھی جہاں محسن گردیزی ، امیر علی شاہ ، عدیل سید ،اشرف شیخ ، رضوان ہاشمی اور کبھی کبھار عرفان ہاشمی بھی موجود ہوتے تھے ۔
قہقہوں اور لطیفوں کی اس محفل میں بھی فہیم اصغر کا ایک اپنا انداز ہوتا تھا بات کرنے اور مسکرانے کا ۔ کچھ دوست جب محسن گردیزی کے ساتھ مذاق میں حد سے آگے بڑھ جاتے تو فہیم، محسن کی مدد کو آتے اور سب کو خاموش کرا دیتے ۔ محسن کے لیے دوستوں کو خاموش کرانے والے فہیم اصغر 28 ستمبر کو خود ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے ۔ وہ کرونا کا شکار ہوئے تھے ۔ کئی روز ہسپتال میں زیر علاج رہے ۔ ان کی رخصتی سے ایک روز قبل معروف صحافی عائشہ صغیر نے اپنی وال پر ان کے لیے دعا کی التماس کی تھی ۔ ہم سب نے فہیم اصغر کے لیے بہت سی دعائیں‌ بھی کیں لیکن ہماری پہلے کوئی دعا مستجاب ہوئی جو فہیم کی زندگی کے لیے کی جانے والی دعائیں قبول ہوتیں ؟ فہیم اصغر چپکے سے رخصت ہو گئے اور ان کے رخصت ہونے کی خبر جب تک مجھے موصول ہوئی انہیں سپرد خاک بھی کیا جا چکا تھا ۔
فہیم اصغرایکسپریس نیوز سے وابستہ عائشہ صغیر کے استاد تھے ۔ صرف عائشہ کے ہی نہیں ان سیکڑو ں طالب علموں کے استاد تھے جو ان سے مختلف ادوار میں پڑھتے رہے ۔ ان کی رخصتی کے بعد اندازہ ہوا کہ وہ اپنے شاگردوں میں کتنے زیادہ مقبول تھے ۔
فہیم اصغر ، قمر رضا شہزاد ،خالد اقبال اختر شمار اور رفعت عباس نے 1986 میں‌اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں ایک ساتھ ایم اے اردو کا امتحان دیا ۔ میں اس زمانے میں لاہور میں مقیم تھا ۔۔ قمر رضا بتاتے ہیں‌کہ وہ رفعت عباس اور فہیم اصغر کے ہمراہ ملتان سے ویگن پر بہاول پور جاتے تھے ۔ رات بھر سرور ناز کی دکان پر شاعری کا دور چلتا تھا اور صبح آنکھیں ملتے ہوئے کمرہ امتحان میں پہنچ جاتے تھے ۔
تینوں ذہین تھے سو امتیازی نمبروں میں کامیاب بھی ہو گئے ۔ اس کے بعد قسمت کا کھیل شروع ہوا ۔ قمر رضا اور رفعت عباس پبلک سروس کمیشن کے امتحان پاس کر کے سرکاری ملازمتوں میں آ گئےخالد اقبال اور اختر شمار کو بھی نوکری مل گئی لیکن سرکاری ملازمت کے حصول کے لیے فہیم اصغر کی ہر کوشش رائیگاں گئی ۔ پھر انہوں نےپہلے صحافت اور بعد ازاں شعبہ تعلیم کو ذریعہ روزگار بنایا ۔ 1988 میں ملتان سے روزنامہ قومی آواز کا اجراء ہوا تو میں لاہور سے واپس ملتان آ گیا ۔ اس اخبار میں میرے ساتھ نذر بلوچ اور اسلم جاوید کے علاوہ رفعت عباس اور فہیم اصغر بھی کام کرتے تھے ۔نذر بلوچ رپورٹر ،اور اسلم جاوید نیوز ایڈیٹر تھے ۔ مجھے میگزین کا شعبہ دیا گیا ۔ کالم میں اپنے شوق سے لکھتا تھا جو رفعت عباس ادارتی صفحہ پر شائع کرتے تھے کہ وہ اس صفحے کے انچارج تھے اور اداریہ نویس بھی اسی اخبار میں فہیم اصغر کے ذمے ضلعی نمائندوں والے صفحات تھے ۔قومی آواز کے مالی حالات خراب ہوئے تو نوبت ہڑتال تک پہنچ گئی ۔ پھر میں تو اس اخبار کی سیڑھیاں‌اترا اور سڑک کے دوسری جانب روزنامہ آفتاب کی سیڑھیاں چڑھ گیا ۔ فہیم اصغر اس کے بعد اخبار ملت اور روزنامہ نوائے ملتان سے وابستہ ہو گئے ۔ اخبار کی نوکری میں کسی شریف آدمی کے معمولات زندگی بھلا کب معمول پر آتے ہیں ۔ فہیم کے ساتھ بھی یہی ہوا ۔ پھر وہ نجی سکولوں اور گھروں میں جا کر بچوں کو ٹیوشن پڑھانے لگے۔ انہوں نے کہکشاں آرمی پبلک سکول میں اردو کے استاد کی حیثیت سے بھی فرائض انجام دیے ۔
جب تک روزگار کے مسائل نہیں تھے فہیم ادبی منظر میں بہت متحرک تھے۔ صدر بازار میں حزیں صاحب کی بیٹھک میں باقاعدگی سے جاتے اور مشاعروں اور نشستوں میں شریک بھی ہوتے تھے ۔ اس دوران شائع ہونے والی ان کی مطبوعہ کتب میں ہائیکو کا مجموعہ” خواب و خیال“ ، اور مضامین کے مجموعے” گزشتہ را صلوٰۃ “ اور” عہد اقبال منظر و پس منظر“ شامل ہیں انہوں نے ادراک کے نام سے ایک ادبی جریدہ بھی شائع کیا تھا ۔ فہیم کی زندگی مسلسل محنت سے عبارت تھی ۔ وہ انتھک محنت کرتے رہے ۔ کسی شکوے یا شکایت کے بغیر اور ماتھے پر کوئی بل لائے بغیر۔ ہاں اس دوران انہوں نے بہت سے رابطے ختم کر دیے یا پھر انہیں رابطوں کی مہلت ہی نہ ملی ۔ ایک مرتبہ میں نے فیس بک کے ذریعے ان سے رابطہ کیا اور انہیں ادبی بیٹھک میں آنے کی دعوت دی مگر انہوں نے معذرت کر لی ۔ کئی سال پہلے میں ان سے ملنے ان کے گھر بھی گیا تھا ، لیکن فہیم دوبارہ ادبی منظر میں متحرک نہ ہو سکے ۔ اور اٹھائیس ستمبر 2021 کو انہوں‌ نے مجھے ان کبھی کبھار کی ملاقاتوں سے بھی مستقل روک دیا ۔ جی چاہتا ہے فہیم کو ظالم کہوں ان سے دریافت کروں کہ انہوں نے دوستوں کے ساتھ یہ ظلم کیوں کیا ؟ لیکن یہ سوال پوچھنے کے لیے تو اب مجھے خود کسی روز ان کے پاس جانا پڑے گا ۔۔ کہ فہیم تو اب اپنے ہائیکو مجموعے کی طرح ” خواب و خیال “ ہو گئے ہیں

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker