تجزیےرضوان فیصللکھاری

میڈیا کی ترجیحات اور ہلاکو خان ۔۔ رضوان فیصل

گاڑی آ نے میں ابھی کافی دیر تھی اور اڈے پر موجود عوام کا ہجوم بتارہا تھا کہ ابھی کا فی دیر تک گاڑی آنے کی امید  نہیں ہے ۔ سو میں نے فیصلہ کیا کہ چائے کے  توسط سے دن بھر کی تھکا ن کم کی جائے۔         قریب ہی ایک مناسب سی دکان مل گئی۔ایک چائے کا کپ لے کر میں ایک چارپائی پر براجمان ہو گیا اور ایک کونے میں موجو د ٹیلی ویژن پر نظریں جمالیں۔نشرِمکرر میں  ایک ٹاک شو  سب انہماک سے دیکھ رہے تھے۔انٹرٹینمنٹ کی دنیا میں انقلا ب آنے کے باوجود ٹیلی ویژن سستی اور معیاری تفریح کے حوالے سے آج بھی اپنا امتیاز قائم کیے ہوئے ہے۔اس انقلا ب نے دنیا کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔سمارٹ فون نے دنیا کی معلومات کے دروازے آپ کی انگلیوں کی پوروں پر کھول دیے ہیں۔ایک ٹچ سے دنیا بھر کی معلومات آپ کے قدموں میں حاضر ہو جاتی ہیں مگر اس کے باوجو د ٹیلی ویژن کی اہمیت برقرار ہے۔ اس کی بڑ ی صاف سی وجہ تو یہ ہے اس کا تاثر بہت گہرا ہے، رسائی سب تک ہے،    ادھیٹر عمر کے لو گو ں کے لئے بھی اس کو استعمال کرنا آسان ہے، اور ایک وقت میں بہت سے لوگ اس سے محظوظ ہو سکتے ہیں۔میں اپنے خیالات کے گھوڑوں کو مزید دوڑاتا رہتا اگر دکان میں ہونے والی سیا سی بحث تلخ کلامی کا روپ نہ دھار لیتی۔  مختصر سی دکان میں ہونے والی  تلخ کلا می نے فضا کشیدہ کر دی تھی۔ ایسی صورتحال کو دیکھ کر سر سید کا مضمون بحث و تکرا    یا د آتا ہے۔ ابھی صورتحال بدستورویسی  ہی تھی کہ ایسے میں گاڑی آگئی۔ خوش قسمتی سے سیٹ بھی مل گئی۔ گاڑی چند ساعتوں کے بعد منز ل مقصود کی جانب روانہ ہو گئی مگر میراذہن ابھی تک اس تلخ کلامی میں الجھا ہوا تھا۔
ٹیلی ویژن پر پیش کیا جانے والا مواد اذہان پر نہ صرف اثر انداز ہوتا ہے بلکہ ذہن سازی کے فرائض بھی سرانجام دیتاہے۔ عوام الناس اس کو دیکھتے ہیں اور اثر قبول کرتے ہیں۔ اب آئیے ہم میڈیا پر پیش کیے جانے والے پروگرامز کا جائرہ لیتے ہیں اور خاص طور پر ان پروگرامز کا جو پرائم ٹائم میں پیش کیے جاتے ہیں۔پرائم ٹائم میں بیشتر چینلز پر ٹاک شوز پیش کیے جاتے ہیں۔جن میں مختلف سیا سی جماعتوں کے نمائندوں کو بلا کر اس بات کا مقابلہ کروایا جاتا ہے کہ کو ن زیادہ ”مہذب“ ہے۔ ان ٹاک شوزکے موضوعات کا مطالعہ کریں تویہ اس روز پیش آنے والے کسی نہ کسی سیاسی واقعے، تازہ ترین پریس کانفرنس، کسی سیا سی جماعت کے جلسے یا پھر کسی عدالتی کارروائی پر مبنی ہوتے ہیں اور پھر عوام اسی پر بحث کرتے ہیں۔ یہاں پر ایک معصوم سا سوال یہ ہے کہ کیا یہ ہمارے بنیادی مسائل ہیں؟ ان واقعات کا ایک عام آدمی کی زندگی پر کتنا اثر پڑتا ہے؟
اب ذرا ہم اپنے حافظے کا امتحان لیتے ہیں اور یاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جو ہمارے بنیادی مسائل ہیں ان پر کتنی گفتگو کی جاتی ہے۔ سوچئے کہ آپ نے ایسا ٹاک شو کب دیکھا تھا کہ جس کا موضوع اس ملک کی شرح خواندگی تھا؟یا جس میں تعلیم کے نظام پر بات کی گئی تھی، شرح خواندگی کو بڑھانے کی تجاویز دی گئی تھیں،یہ سوال پیش کیا گیا تھا کہ کیوں ہمارا تعلیمی نظام جدید دنیا سے ہم آہنگ نہیں ہے؟ ہم اپنے تعلیم یا فتہ افراد میں بھی شعور اور تہذیب کیوں داخل نہیں کر سکے؟ ہماری جامعات میں تحقیق کے نام پر کیا مذاق ہو رہا ہے؟ جامعات کسی بھی ملک میں علم و شعور کی علامت ہو ا کرتی ہیں۔ مختلف شعبو ں میں تحقیق سے علم کی نت نئی راہیں کھو لی جاتی ہیں  اور اس  بنیاد پر ایجادات کی جاتی ہیں۔ کیا کسی پروگرام میں یہ سوال رکھا گیا کہ ہماری قوم نے کون سی آخری ایجادات کیں تھیں؟ ہمارے تعلیمی نظام میں کون سی خامیاں ہیں کہ عرصہ دراز سے ہم کوئی بل گٹس، سٹیو جابس یا آئن سٹائن پیدا نہیں کرسکےاورمحض یورپ کے لئے تجارتی منڈی بن کر رہ گئے ہیں۔
کسی بھی قوم کے عام افراد کے لئے دوسرا بنیادی مسئلہ صحت کا ہے۔میں پھر آپ کو غورو فکر کی دعوت دیتا ہوں۔ اس وطن ِ عزیز کے عام شہریوں  کو بنیادی صحت کی سہولیات کس حد تک حاصل ہیں؟ سامنے کی بات ہے کہ حادثات میں بیشتر زخمی اس لئے مو ت کی نیند سو جاتے ہیں کہ ان کو ابتدائی طبی امداد میسر نہیں آتی۔جو ہسپتال موجو د ہیں ان میں مریضوں کاکوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی ایک اور اہم مسئلہ ہے۔ ہمسایہ ملک کی آبی جارحیت اور ہمارے ارباب واختیار کی مناسب حکمتِ عملی نہ ہونے کے باعث نہ صرف پانی کی مقدار کم ہوتی جارہی ہے بلکہ زیر زمین پانی تیزی سے آلودہ ہورہا ہے۔  جس کا نتیجہ مہلک ترین بیماریوں کی صورت میں نکل رہا ہے۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی معیشت میں زراعت کو کلیدی حیثیت حاصل ہے اور زراعت کے لئے پانی اہم ترین عنصر ہے۔اگر ہم نے مناسب منصوبہ بندی نہ کی تو ہم آنے والے وقتوں میں قحط سالی کا سامنا کریں گے۔
میں نے وطنِ عزیز کے بنیادی مسائل میں سے چند ایک پر روشنی ڈالی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا میڈیا ان مسائل کو پیش کرتا ہے؟ کیا ان مسائل کی نزاکت کو سمجھنے کا شعور بیدار کرتا ہے؟ کہ اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو  ”تمہاری  داستاں  تک  بھی نہ ہو گی داستانوں میں“۔ مگر یہاں حقیقت یہ ہے کہ ہماری عوام کے سامنے ثانوی مسائل کو بنیادی مسائل بنا کر پیش کیا جاتا ہے ۔     میڈیا کا عوام الناس کی ذہن سازی میں بڑا  اہم کردار ہے مگر میڈیا اپنی ذمہ داری کو سمجھنے کے بجائے ریٹنگز کی دوڑ میں اندھا دھند بھاگ رہا ہے ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر گاؤں یا قصبے میں چائے کی دکان پر بیٹھنے والے ان پڑھ گنوار ٹیلی ویژن سے اس قدر اثر قبول کر رہے ہیں تو پڑھے لکھے افراد پر اس کا تاثر کیا ہوگا ۔ ضرورت اس مر کی ہے کہ میڈیا اپنی ذمہ داری کو سمجھے۔ منصب کے مطابق ذمہ داری اور ظرف نصیب نہ ہو تو نعمت زحمت بن جاتی ہے  اوراگرمیڈیا نے اپنی روش نہ بدلی تو اس کا نتیجہ وہی ہو گا کہ ہلاکو خان بغداد پہنچ جائے گا اور ہم اس امر پر بحث کر رہے ہوں گے کہ کوا حلا ل ہے یا حرام یا پھر سوئی کی نوک پر کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں؟

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker