کتب نمالکھاری

صدام حسین کے ایام اسیری ۔۔ پھانسی پر امریکی محافظ بھی رو پڑے (کتاب سے اقتباسات)

عراق کے سابق صدر صدام حسین کی سکیورٹی پر مامور 12 امریکی فوجی ان کی زندگی کے بہترین دوست تو نہ تھے تاہم وہ ان کے آخری ایام میں بہترین ساتھی رہے۔ یہ 551 ملٹری پولیس کمپنیوں سے منتخب ہوئے تھے اور انھیں ‘سپر 12‘ کہا جاتا ہے۔ ان محافظوں میں سے ایک ول بارڈنورپر تھے جنھوں نے ‘دی پرزنر اِن ہز پیلس’ (The prisoner in his palace) کتاب لکھی۔ جس میں انھوں نے صدام حسین کی زندگی کے آخری دنوں کے بارے میں لکھا۔ بارڈنورپر کا کہنا ہے کہ جب صدام حسین کو پھانسی دینے والے اہلکاروں کے سپرد کیا جا رہا تھا تو ان کے تمام محافظوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اپنے ایک ساتھی ایڈم فوگرسن کا حوالہ دیتے ہوئے کتاب کے مصنف محافظ نے لکھا کہ ہم نے صدام کو کبھی بھی نفسیاتی مریض اور قاتل کے طور پر نہیں دیکھا ہم اسے گرینڈ فادر کے طور پر دیکھتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ صدام اپنے آخری دنوں میں امریکی گلوکار میرے جے بلیزرڈ کے گانے سنا کرتے تھے۔ وہ اپنی قیمتی ایکسرسائز بائیک جسے وہ ‘پونی’ کہتے تھے پر بھی بیٹھا کرتے تھے۔ وہ میٹھا کھانے کے بہت شوقین تھے اور ہر وقت انھیں مفنز کھانے کا دل کرتا تھا۔ بارڈنورپر کہتے ہیں کہ آخری ایام میں صدام کا دوسروں کے ساتھ رویہ بہت نرم تھا اور انھوں نے یہ تاثر نہیں چھوڑا کہ وہ بہت ظالم حکمران تھے۔ صدام کو سگار پینے کا بہت شوق تھا جسے وہ اپنے پاس رکھا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ انھیں سگار کا استعمال فیڈل کاسترو نے سکھایا تھا۔ انھیں باغبانی کا بھی بہت شوق تھا۔ وہ اپنے قید خانے کے گرد موجود بکھری ہوئی جھاڑیوں کو خوبصورت پھولوں کے طور پر لیتے تھے۔ صدام اپنی خوراک کے حوالے سے بھی بہت حساس تھے۔
ناشتے میں پہلے آملیٹ، پھرمفنز اور پھر تازہ پھل کھاتے تھے لیکن اگر آملیٹ کہیں سے بھی ٹوٹ جاتا تو وہ اسے کھانے سے انکار کر دیتے تھے۔بارڈنورپر کہتے ہیں کہ صدام نے ایک بار اپنے بیٹے کے حوالے سے ایک واقعہ سنایا۔ ایک دن صدام کے بیٹے ادے کی پارٹی میں بہت سے لوگ زخمی اور ہلاک ہو گئے۔ صدام نے غصے میں حکم دیا کہ ادے کی تمام گاڑیوں کو آگ لگا دی جائے۔ صدام کہتے تھے کہ انھوں نے بیٹے کی تمام قیمتی گاڑیوں جن میں فراری، پورشے بھی شامل تھیں کو جلائے جانے کے مناظر دیکھے۔ ایک بار ایک امریکی سپاہی جو کہ صدام کی حفاظت پر مامور تھے نے انھیں اپنے بھائی کی موت کے بارے میں بتایا تو جواب میں صدام نے کہا کہ ‘تم مجھے آج سے اپنا بھائی سمجھو۔’ انھوں نے ایک دوسرے محافظ سے کہا کہ اگر مجھے میرے اپنے پیسے کو استعمال کرنے کی اجازت ملے تو میں تمھارے بیٹے کی تعلیم کے اخراجات ادا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ مصنف کا کہنا ہے کہ ایک شب ہم نے دیکھا کہ ایک 20 سالہ سپاہی ڈوسن اپنے سائز سے بڑا سوٹ پہن کر گھوم رہا تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ اس نے صدام حسین کا سوٹ جو انھوں نے اسے تحفے میں دیا تھا پہن رکھا تھا۔ بارڈنورپر لکھتے ہیں کہ بہت دن تک ہم ڈوسن کا مذاق اڑاتے رہے لیکن اس نے پھر بھی سوٹ پہنے رکھا اور جب وہ چلتا تھا تو ایسے لگتا تھا کہ وہ فیشن شو میں کیٹ واک کر رہا ہے۔ اگرچہ صدام کے محافظوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اس سے قریب نہ جائیں لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا محافظوں کی صدام سے دوستی بڑھتی گئی۔ مقدمے کے دوران صدام حسین کو دو جیلوں میں رکھا گیا تھا۔ پہلی جیل بغداد میں موجود انٹرنیشنل ٹریبونل کا تہہ خانہ اور دوسری شمالی بغداد میں موجود ان کا محل تھی۔ یہ محل ایک جزیرے پر تھا جس تک پہنچنے کے لیے پل کا استعمال کیا جاتا تھا۔ بارڈنورپر کہتے ہیں کہ ہم نے صدام کو اس سے زیادہ نہیں دیا جس کے وہ حقدار تھے لیکن ہم نے کبھی بھی ان کی تضحیک نہیں کی۔’ سٹیو ہٹکنسن اور کرس ٹاسکر سمیت دیگر محافظوں نے سٹور روم کو صدام کا دفتر بنانے کی کوشش کی۔ منصوبہ یہ تھا کہ صدام کو ‘سرپرائز’ دیا جائے۔
سٹورروم میں پڑے سامان سے چمڑے کی ایک کرسی اور ایک چھوٹی سی میز کو نکالا اور میز پر ایک چھوٹا سا جھنڈا رکھا دیا گیا۔ یہ سب اس لیے کیا گیا تاکہ ہم آفس کا ایک ماحول پیدا کر سکیں ا ور جیسے ہی صدام کمرے میں داخل ہوئے ایک سپاہی نے میز کی گرد صاف کرنی شروع کر دی۔ یہ دیکھ کر صدام اونچی آواز میں ہنسنے لگے اور کرسی پر بیٹھ گئے۔ ان کی سکیورٹی پر مامور سپاہی ان کے سامنے موجود کرسی پر بیٹھ گیا۔ یہ منظر ایسا تھا جیسے صدام عدالت میں موجود ہیں ۔ بارڈنورپر کہتے ہیں کہ سپاہیوں کی یہی کوشش تھی کہ صدام کو خوش کیا جائے۔ جواب میں صدام بھی ان کے ساتھ مذاق کیا کرتے تھے اور ماحول کو خوشگوار رکھتے تھے۔ بہت سے سپاہیوں نے بعد میں بارڈنورپر سے کہا کہ ‘انھیں اس بات پر پورا یقین تھا کہ اگر ان کے ساتھ کچھ برا ہوتا تو صدام ان کے لیے اپنی زندگی کی پرواہ بھی نہ کرتے۔’ جب بھی صدام کو وقت ملتا تھا تو وہ سپاہیوں سے پوچھتے تھے کہ ان کے خاندان کی حفاظت کون کرتا ہے۔ اس کتاب کا سب سے حیران کن حصہ وہ ہے جس میں بتایا گیا کہ صدام جسے امریکہ کا دشمن تصور کیا جاتا تھا کی موت پر سپاہی بہت غمگین ہوئے۔ ان سپاہیوں میں شامل ایڈم روتھرسن نے بارڈنورپر کو بتایا کہ ‘جب صدام کو پھانسی دے دی گئی، ہمیں لگا ہم نے اسے دھوکہ دیا ہے۔ ہم خود کو قاتل تصور کرتے تھے۔ ہمیں لگا جیسے ہم نے ایک ایسے شخص کو قتل کر دیا ہے جو ہمارے بہت قریب تھا۔’ جب صدام کو پھانسی دے دی گئی اور ان کی لاش کو باہر لایا گیا تو باہر موجود ہجوم میں شامل لوگوں نے ان پر تھوکنا شروع کر دیا اور انھیں گالیاں دینے لگے۔ بارڈنورپر لکھتے ہیں 12 میں سے ایک نے کوشش کی کہ وہ ہجوم کو ایسا کرنے سے روکے تاہم ان کے ساتھیوں نے اسے واپس کھینچ لیا۔ ایک اور سپاہی سٹیو ہچنسن نے امریکی فوج سے استعفیٰ دے دیا۔ سٹیو اس وقت جارجیا میں اسلحے سے متعلق ٹریننگ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں کہا گیا تھا کہ وہ صدام کی لاش کی بے حرمتی کرنے والوں سے نہ الجھیں۔ مصنف کا کہنا ہے کہ اپنے آخری ایام میں صدام کو توقع تھی کہ انھیں پھانسی نہیں دی جائے گی۔ 30 دسمبر 2006 کو صدام حسین کو صبح تین بجے اٹھایا گیا۔ انھیں بتایا گیا کہ انھیں کچھ ہی دیر میں پھانسی دے دی جائے گی۔ صدام کو مایوسی ہوئی۔ وہ خاموشی سے جا کر نہائے اور پھانسی کے لیے خود کو تیار کرنے لگے۔ اپنی پھانسی سے کچھ ہی دیر پہلے صدام نے سٹیو کو باہر بلایا اور اپنی کلائی پر بندھی گھڑی اسے دے دی۔ اب بھی جارجیا میں سٹیو کے گھر میں وہ گھڑی محفوظ ہے اور اس کی ٹک ٹک سنائی دیتی ہے۔
(بشکریہ:بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker