صائمہ نورین بخاریکالملکھاری

صائمہ نورین بخاری کا کالم:کمپیوٹر دور میں بوسیدہ نظام اور حلقہ ء پٹواریان

ایک درد مندانہ تحریر لے کر تمام ارباب اختیارات خصوصا ً خطہء ملتان کے ذہنوں پر دستک دینے کے لیے حاضر ہوں ۔ میری اس تحریر کا انداز بیان آفاقی ہے نہ فردوسی۔۔۔ بس عوامی ہے کچھ درخواستی ہے اور تحریک انصاف کی توجہ کا متقاضی ہے ۔اس مرتبہ ہمیں خسارے کے بجٹ کے حوالے سے کوئی منافع بخش بات ہرگز نہیں کرنی ہے ۔۔کیوں کہ تبدیلی واضح کر چکی ہے کہ خسارہ بجٹ ہمیشہ کی طرح گذشتہ حکومتوں کا کیا دھرا نتیجہ ہوتا ہے ویسے بھی یہ لفظوں اور ہندسوں کے گورکھ دھندے بحیثیت معاشیات کے طالب علم ہمیں ما لیاتی خساروں ۔۔۔۔منافعوں ۔۔۔۔امداد کے مرہموں اور آئی ایم ایف کی ڈکٹیشنوں کے حوالے سے پڑھائے جاتے ہیں اور چارٹرڈ اکاوٹنٹنس کی اکاؤنٹنسی کے قلم کا شاہکار سمجھے جاتے ہیں جسے وزیر خزانہ کی کارکردگی کی پٹاری میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ سو یہ کہانی بڑی پرانی ہوگئی ۔۔۔آج میں ایک غیر جانب دار لکھاری کی حییثت سے حکمران پارٹی خصوصا جنوبی پنجاب کے نمائندگان سے مخاطب ہوں ۔۔جو ٹی وی پر تواتر سے نظر آتے ہیں ۔ مجھے نااہل عوام کی طرح بس یہی مشہور چہرے معلوم ہیں سو وہی حاضر ہوں عوامی عدالت میں ۔۔محترم حضرات ۔آپ کو تبدیلی کا واسطہ ۔۔بجٹ کے عوام دوست پلندے بنالیں تو ۔خدارا ہمارے سسکتے تڑپتے محکموں کے “بوسیدہ سسٹم” نام کی” بلا ئے انسانی“ پر توجہ دیجیے ۔۔۔دور کیجیے اس کی نحوست ۔۔۔ دشوار ہو چکا ہر سسٹم کو سمجھنا اور چلانا ۔۔۔۔۔کہاں ہے آسانی ۔۔۔کہاں ہے خدمت مراکز ۔۔۔۔ایک نیا سسٹم دوسرے بوسیدہ سسٹم سے اسقدر پیوستہ ہے جیسے مقناطیس اور اسقدر دور ہے جیسے شمال اور جنوب ۔۔
یقین کیجیے بہت سے لوگ وزیر اعظم کو براہ راست فون کرکے پھوٹ پھوٹ کر رونا نہیں چاہتے ان سے مدد کی بھیک نہیں مانگنا چاہتے کہ وہ ایک آز اد ملک کے آز اد شہری ہیں ۔ان کو آگاہی کی سہولت درکار ہے ۔۔۔ ان کے لیے یہ ہر مسئلے کا حل چیخ و پکار اور سفارش بھرے فون کالز یا دہائی بھرے دھرنے میں کیوں ہے ۔بہت سے کمزور لوگ فردوس عاشق کی طرح ایک طاقت ور تھپڑ رسید کرکے پرانے لوگوں کا ذہن نہیں بدل سکتے ۔ وہ صرف سوچ سکتے ہیں اور سوچ سوچ کر ایک حساس شہری کی طرح جان بھی دے سکتے ہیں ۔وہ جانتے ہیں اس بجٹ اجلاس میں روایتی طوفان بدتمیزی ۔۔جاری رہا اور ہماری ترجیحات میں ہماری نئی کوتاہیوں کا ملبہ پرانی حکومتوں پر ڈالنے کی روایت برقرار رہی۔لونڈے لپاڑوں کا ماحول بنا کر پختہ عمر کے لوگوں کا آوازیں کسنا ۔واہیات ۔۔جملے بازی ۔۔۔بس اس سال بھی نوجوان نسل نے یہی سیکھا ۔تعلیم و ہنر سے بے نیاز لوگ گلی محلوں کے آوارہ بچوں کی طرح معشیت کے بجٹ اجلا س میں خوش ہوتے رہے ۔کہ نئے منصوبوں کا اعلان ہونے جارہا ہے ۔۔۔۔آپ شوق سے نئے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھیے مگر سالہا سال سے بد حال شعبوں پر تو نظر کرم کر لیجیے۔۔۔عروس البلاد ۔۔۔۔کراچی تباہ شدہ جنگ برداشتہ شہروں اور ناقابل رہائش شہروں عالمی فہرست میں چھٹے نمبر آچکا ہے ۔اورمسائل کا جہنم بن جانے والے شہروں کی لسٹ میں یقینا پہلے نمبر پر ۔۔۔کیا ملتان جیسا قدیمی شہر بھی اسی روش پر گامزن ہونا چاہتا ہے ۔عوام بے بسی اور نا واقفیت کے کرب سے دوچار ہیں یا اسی کے حق دار ہیں ۔ایسی کون سی سکیمیں ہیں جو واضح طور پر عوام کی سہولت کے لیے لکھی نہیں جاسکتیں ابہام کیوں رکھا جاتا ہے۔تعلیمی اداروں میں کوئی شگوفہ یا پودا لگانے کے بہانے جا کر دیکھیے ۔کبھی آپ کو گورنمنٹ کالجوں میں لکھے ہوئے وہ بینر وہ نظر نہیں آئے جن پر ہر سال تعمیر کے نام پر اس مخدوش عمارت میں داخلہ منع ہے لکھا جاتا ہے ۔سب جانتے ہیں کہ شہر ملتان کےاہم گرلز کالج اور سکول کس بد حالی کا شکار ہیں۔۔
اب ترقیاتی اداروں کی جانب بڑھیے۔تجاوزات کے نام پر ایم ڈی اے کے قوانین کسی کے لیے آسان ہتھیارہیں اور کسی کے لیے سوائے سر پر لٹکتی ہوئی تلوار۔کچھ سمجھ نہیں آتا ۔آخر ایک قانون آسان بنا کر کیوں پیش نہیں کیا جاتا ۔۔تاکہ وہ ان لوگوں کے لیے بھی قابل فہم اور قابل عمل ہو جن کے سروں پر کوئی دست شفقت رکھنے والا نہیں جو خوداری سے اپنا کام خود سسٹم کے تحت کرنا چاہتے ہیں ۔سیاسی اثر و رسوخ کی تلاش ۔۔ایک اہم فوجی کال کا انتظار ۔۔۔ایک عام شہری بوسیدہ سسٹم کی سنے یا پھر ان دو کا اہتمام کرے ۔۔ ضروری مگر انتہائی معمولی مسائل یعنی ڈیتھ اور برتھ سرٹیفیکیٹ کا حصول ۔۔۔انتقال وراثت ۔کیوں دفاتر کے منشیوں کے محتاج ہیں اکیسویں صدی میں بھی ۔۔۔یونین کونسلز کے دفاتر کی بہتری اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک آپ خود وہاں جاکر ان مخدوش دفاتر میں اندارج زندگی و موت نہیں کروائیں گے ۔سب سے بڑا مسئلہ حلقے کے یونین کونسلز کی دفاتر کی حلقے سے دوری ہے ۔ یعنی اگر شالیمار کا یونین کونسل کا دفتر ڈھونڈا جائے تو وہ عام خاص باغ میں ایک بدحالی کے نمونے کی صورت ملتا ہے جہاں دو اہل کاروں کے بیٹھنے اور ریکارڈ رکھنے کی جگہ نہیں عوام کہاں سمائے گی ان سے۔ حیران کن بات ہے ۔زندگی کا ہر شعبہ خواہ وہ لینڈ اراضی کا ہو یا نقشہ سازی کا ۔۔وہ برتھ سرٹیفیکیٹ کا حصول ہو یا ڈیتھ سرٹیفکیٹ کا وہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ ہو یا لوکل گورنمنٹ کا وہ انتقال وراثت ہو یا انتقال اراضی ہر ایک میں ایک پٹواری سب پر بھاری نظر آتا ہے ۔ہر مسئلہ اسسٹنٹ کمشنر کے سائن سے تحصیل دار تک جب ایک پٹواری کے قلم کی جنبش اور ان کی مہر کے منتظر ہیں اور ان پٹواریوں کا رعب و ”دبدبہ “کسی بھی اکیسویں گریڈ کے افسر سے کم نہیں ۔۔ ان کے دفاتر دوزخ کے کسی ایک کیبن کی دنیاوی تصویر معلوم ہوتے ہیں ۔وہی کھاتوں اور رجسڑوں کے ملبے ۔اجارہ داری کے پراسرار اڈے یہ کب ختم ہوکر کمپیوٹرائزڈ ہوں گے۔ ۔۔۔۔۔لینڈ اراضی کے کچھ علاقوں کے دفاتر کمپیوٹرائزڈ ہوئے تو عوام نے سکھ کا سانس لیا۔۔۔مگر اب بھی عوام پریشان حال ہے کیوں کہ پٹواری کی ضرورت وہاں بھی کسی وینٹلیٹر کی طرح اس سانس لیوا سسٹم میں ناگریز نظر آتی ہے ۔۔ یہ علاقے بھی کمپیوٹرائزڈ ہونے کے باوجود اکیسویں صدی میں ایک پٹواری کی تصدیقی مہر کے محتاج کیوں ہیں؟اور اگر کوئی مجبوری جان کا عذاب ہے کوئی پٹواریاں کی کھیپ بے روزگار ہوجانے کاخدشہ ہے تو ان کے دفاتر ڈی سی آفس۔۔اراضی دفاتر کچہری اور ایم ڈی اے کے پاس کیوں نہیں ہیں ۔مثال کے طور پر ملتان کی ۔۔پٹھان کالونی کی ایک ناگفتہ بہ بلکہ خطرناک جان لیوا حد تک خوفناک سیڑھیوں پر دھری دھوپ بھرے برآمدوں میں حبس زدہ دو کمروں میں دریوں پہ بیٹھے مغل بادشاہوں کے منشیوں کی تصویر بنے اکتائے ہوئے سگریٹ سلگا کر رجسٹروں پر راکھ اڑاتے ۔۔۔پٹواری کھاتے کھول کھول کر لوگوں کی فرد ملکیت عکس شجرہ فراہم کر رہے ہیں ذرا سی چنگاری مسئلہ بن سکتی ہے ۔۔جناب وزیر اعظم صاحب بارہا لکھ رہی ہوں جناب محترم کہ ای خدمت مرکز ہو یا لینڈ اراضی۔تحصیل آفس ہو ۔۔یا ملتان ترقیاتی ادارہ ۔ یونین کونسل کے ریلوے کی پٹٹریوں جیسے بوسیدہ سسٹم کے حامل دفاتر سب کی تان پٹواری پر آکر ٹوٹتی ہے ۔نظری نقشہ یہ بنا کر دے نہیں سکتے جو بلڈنگ کمرشل کے لیے اہم جز ہیں فرد ملکیت بناکر فوٹو کاپی کی فراہم کرنے کی سہولت بھی ان کے دفاتر میں موجود نہیں ایسے ماحول میں عوام کی کاروباری معاشی زندگی کا پہیہ کیسے چلے گا ۔سائل ای خدمت مرکز پر جائے تو پہلے پٹواری کے در پر جوتے اتار کر زمین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھے پھر ڈرتے ڈرتے اپنا مدعا بیان کرے اور رجسڑوں کے پلندوں سے کاغذات بنوائے اور ان کے غضب سے جان و مال بچا کر پھر شہر کے دوسرے سرے پر جائے ۔ ای مرکز پر کاغذات کا پلندہ لے کر جمع کروائے نقشہ نویس کی تلاش ایک الگ عذاب جاں ۔جہاں کچھ نئے بھرتی والے افسران بھی صم بکم کی عملی تصویر ہوں ۔۔۔ایم ڈی اے میں بھی نئے بھرتی شدہ افسران کو پرانے تجربہ کار کلرکوں کا سہارا ہے ۔ان کی ٹریننگ کچے ڈاکٹروں کی مانند جان لیوا ہے ۔۔۔نئی پالیسی کیا ہے ۔؟کیا فیس ہے؟ کیا انسالمنٹ ہے ۔۔۔سب بچارے کورونا سے بچ جانے والے ادھ موئے کلرک کو پتہ ہے ۔وہ فوت ہوگیا تو موصوف یا موصوفہ کو سمجھانے میں ایک زمانے لگ جائیں گے ۔بیوروکریسی مجبور ہے یا پھر پورے دن میں دوچار اجڑے ہوئے پارکوں میں ایک پودا لگا کر اپنا فرض ادا کرنے کی عکاس نظر آتی ہے ۔ماڈل ٹاؤن ہو یا واپڈا ٹاؤن ہر جگہ خالی پلاٹوں میں کوڑا پھینکنے کی روایت پر سب حسی سے عمل پیرا نظر آتے ہیں۔۔ خدارا جنوبی پنجاب زبانی کلامی نہیں حقیقی معنوں میں توجہ کا شدید محتاج ہے ۔۔۔۔۔
اب بات کچھ مثبت تبدیلی کی ۔۔۔۔۔۔
اچھی تبدیلی کے نام پر کچھ تبدیلی قومی سطح کے مالیاتی اداروں میں واقعی بہتری دیکھنے میں آئی ہے ۔ میرے جیسے قلم کاروں کے قلم کا سفر رائیگاں نہیں گیا ۔قومی بچت بنکوں کی صورت حال پر لکھے گئے۔۔بزرگ پنشنروں شہدا کے خاندانوں گھر والوں کے حوالے سے لکھےگئے میرے مضمون کی شنوائی ہوئی بہت لوگوں نے پڑھا اور شئیر کیا۔۔۔اور شعبہ معاشیات میں پڑھانے والوں نے بھی تائید کی ۔۔۔احتجاجی مگر مثبت لوگوں کی بات اعلی حکام نے سنی ۔پذیرائی ہوئی ۔ایک ڈیڑھ سال سہی مگر سسٹم کو نوید مل گئی کہ قومی بچت بنک کے مراکز کی عمارتوں کی خستہ صورت اور بدحالی تو دور نہیں ہوسکے گی مگر سسٹم میں بہتری نظر آئے گی ۔قومی بچت مراکز بنکوں کا سسٹم کمپیوٹرائزڈ اور نسبتا آسان ہوگیا۔اب اس کالم میں بھی درخواست یہی ہے مدعا یہی ہے کہ اب پاسپورٹ آفس اور ۔نادرا کے دفاتر کی طرز پر یونین کونسل کے دفاتر بنائے جائیں ۔۔۔ایک چھت کے نیچے عوامی مسائل کا حل فراہم کرنے والے اداروں کا سسٹم بہتر اور آسان بنایا جائے میری ان گذارشات پر یقین نہ آئے تو برائے مہربانی حکام سے گذارش ہے بنا کر فقیروں کا تم بھیس غالب ذرا تماشائے اہل ستم خود دیکھیے۔خیبر پختون خواہ کے وزیر اعلی کی طرح ۔۔۔۔دفتر سے نکلیے مثلا عام خاص باغ میں بنے یونین کونسل کے دفتر کی خستہ حالی۔۔بجلی کے تعطل کے باعث سسٹم کی خرابی ۔۔۔دیری ۔۔۔سب خود دیکھیے ۔مختلف پٹوار خانوں کی زبوں حالی ملاحظہ کیجیے اور بہتری کی تجاویز پر عمل درآمد کیجیے ۔۔۔۔جن بچوں کے والدین سر پر نہیں رہے ۔۔۔کورونا کی جنگ میں شہید ہوئے یا ٹرین حادثوں کی نذر ہوگئے ۔ان کے وراثتی جائیداد کے کاغذات کے حصول کے لیے اس بوسیدہ طریقہ کار میں آسانی پیدا کرنے کے ہنگامی اقدامات اٹھائیے ۔۔۔۔یہ ایک پودا لگا کر تصویر بنوانے کا کام فردوس بریں پر چھوڑدیجیے ۔۔۔۔۔ورنہ اس سسٹم پر جو عوامی طمانچہ پڑے گا وہ آپ ہی کا تربیت یافتہ اور سکھلایا ہوا ہوگا ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker