ادبصائمہ نورین بخاریکتب نمالکھاری

صائمہ نورین بخاری کا مضمون : نوازش علی ندیم کی الہامی روداد ِ عشق

ناقدین فن کے مطابق ہر میعاری کلام عمدہ کتاب یا تخلیقی فن پارے کا ایک مقصد گفتگو کا راستہ ہموار کرنا اور مکالمے کا فروغ بھی ہوتا ہے خواہ وہ تخلیقی ہو یا تحسینی یا پھر تادیبی ۔آج کی اس بھرپور تحسینی محفل میں جو اہم نکتہ سامنے آیا ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ شاعری میں تخیل سے استفادہ کاری ایک بہت بڑا فن ہے ۔اور کسی شاعر کی شاعری میں درویشییت کا رنگ عشق سے استفادہ کی صورت غالب ہوجانا عین مقام عروج ہے اور اس کے کمال فن کی دلیل ہے ۔۔۔۔بقول غالب
” شاعری جز ساز درویشی نہیں حاصل نہ پوچھ ۔“
کلاسیکل اساتذہ سخن کے نزدیک شاعری ایک طریقت ہے ایک الہامی راستہ ہے ۔ایک باا ختیار مگر اختیاری دین ہے ۔اسی لیے ”حی علی العشق “کے منفرد شاعر لکھتے ہیں ۔
”ہر اختیار مگر ترک کرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔
یہ دین عشق بھی کہنے کو اختیاری ہے ۔“۔عوامی سوچ کے مطابق
۔۔۔۔ایک شاعر عوام سے ہوکر بھی اگر خاص نہیں ہوتا تو میرا یقین یہ ہے کہ ایک سچا شاعر عوام سے ہوکر بھی عام نہیں ہوتا۔کیوں یہ pure soul…اپنی الہامی روداد کا عروضی مصنف بھی ہوتا ہے۔اور اپنے صحیفہ دل کا قاری بھی ۔جناب نوازش علی ندیم بھی ایسی ہی الہامی روداد عشق کے مصنف ہیں جسے انہوں نے نام دیا
ہے ۔”حی علی العشق “۔جناب نوازش علی ندیم خطہ ملتان کے انہی نامور شعرا میں سے ایک ہیں جو اپنے تخیل کی زمینوں کے بہت بڑے زمین دار ہیں ۔علم عروض علم جفر علم الاعداد ردیف قافیہ بحر اور بے مثال مضامین کی دولت سے مالا مال ہوکر انہوں نے انا العشق کا نعرہ یوں لگایا ہے
میں کون قبیلے سے ہوں کیا نام ونسب ہے
ان سب سے الگ ہے مری پہچان اناالعشق
اور حی علی العشق کی صدا پر زندگی کے مصائب وآلام بے پناہ دکھوں اور غموں کو ایک روشن حقیقت جان کر گذارتے ہوئے یوں تحریر کیا کہ
بڑی روشن حقیقت ہے بڑی دل کش کہانی ہے
محبت ہی فقط اک شے زمیں پر آسمانی ہے
جو مرے خون میں کچھ رتجگے تشکیل دیتی ہے
مجھے وہ گفتگو شب کی ہتھیلی سے اٹھانی ہے
مگر اسی ہتھیلی پر جب عقیدے مسلک، ابہام ،تشکیک سماج، دوست دشمن اور غم معاش کے سکے چمکنے لگتے ہیں تو جناب محترم کا قلم یہ شعر لکھتا ہے
کوئی بتائے کہ تجدید مجھ پر لازم ہے
معاشیات عقیدہ نگل گئی میرا
محترم احباب ہمارے اساتذہ فرما گئے کہ شاعر اور صوفی کا دل بیت الحکمت ہوتا ہے شرط یہ ہے کہ وہ گرد طمع سے بچا رہے ۔آلودہ ء ہوس نہ ہو ۔شاعر کی سوچ اس کا تخیل اور وجدان اس کے قاصد کام دیتا ہے ۔اسی لیے شاعر کا علاقہ تو ہوتا ہے مگر اس کی شاعری کا نہیں ۔شاعری تو سرحدوں سے ماورا آفاقی عطیہ ہے ۔جس طرح عالمی مشاعرے پڑھنے سے کوئی شاعر ” انٹر نیشنل پوئٹ یعنی عالمی شاعر نہیں بن جاتا ۔اسی طرح صرف مقامی سطح پر اپنے علاقے میں اپنے حلقہ احباب میں چند ناگزیر وجوہات کی بنا پر یا اپنے مزاج کی مجبوری کے تحت مشاعراتی دنگل میں عدم شرکت سے کوئی بھی شاعر یا شاعرہ” غیر عالمی شاعر “نہیں بن جاتا ۔ادبی حلقے شاعر وادیب اپنے اپنے مزاج اور اسلوب و انداز کے مطابق خود بناتے ہیں اور ان کی مضبوطی میں معاشی مضبوطی کے عوامل کو رد نہیں کیا جاسکتا ۔مگر یہ حلقے کسی بھی شاعر یا شاعرہ کو اہم یا بڑا نہیں بنا سکتے ۔ادب میں بڑا چھوٹا معروف و غیر معروف کی بحث کار حاصل ہی نہیں بلکہ کار زیاں بھی ہے ۔سینئر اور جونیئر کی بحث میں سینیئر کا احترام اپنی جگہ مگر فن کار کی عمدگی کا فیصلہ وقت کا پہیہ اورزمانےکی چھلنی کرتی ہے ۔کہاجاتاہے کہ ادب کو قومیایا یا مذہبیایا نہیں جاسکتا ۔مگر ہمارے جیسے ترقی پذیر معاشروں میں یہ دونوں کام ہوتے ہیں اور ہوتے چلے آرہے ہیں ۔ایسے ماحول میں حی علی العشق کی صدا سنتے ہوئے یہی خیال آتا ہے کہ ہر بڑا شاعر اور صوفی ایک خرابہ آباد کرتا ہے ۔ کسی دانا حکیم کی مانند پہلے دلوں کو تسخیر کرنے کا نسخہ مرتب کرتا ہے جناب نوازش علی ندیم کہتے ہیں ۔۔۔
صرف ایک عشق سے مشروط ہے تسخیر مری
اس قدر بھی مجھے آسان نہ سمجھا جائے
جناب نوازش جیسے بڑے استاد شاعر شاعر گر بھی ہوتے ہیں تو ایسے مستحسن موقع پر میری استاد محترم سے درخواست ہے کہ اردو شاعری کی توقیر خطرے میں ہے جیسے ایک سچے پکے محب وطن فوجی کی ایک دن زندگی ایک لٹیرے مکار و عیار سیاست دان کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہوتی ہے تو ایسے ہی ایک جینوئن نثر نگار کی ایک دن کی زندگی ایک ٹک ٹاکر جھوٹے فیشنی خوشامدی سرقہ پسند شاعر کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہوتی ہے ۔برائے مہربانی نئی نسل کے علاوہ سوشل میڈیاکی شتر بے مہار اردو شاعری آپ ایسے تمام بڑے اساتذہ کی رہنمائی چاہتی ہے۔۔ جسے شہرت اور لائکس کے دھوکے میں” حی العشق “کی پکار سنائی نہیں دے رہی ہے۔
اپنی لاعلمی سے اپنی بے خبری سے کوئی کوئی باخبر ہوتا ہے ۔زندہ ضمیر ایک بہت بڑا رہنما ہے اس سے بڑھ کر کوئی مرشد نہیں ۔۔۔نوآموز اہل قلم کی ادبی راہ نمائی کرنا آپ ایسے مشق آموز و کہنہ مشق اساتذہ کی علمی ذمہ داری ہے ۔کیوں میرا یقین ہے کہ ہر زبان اہل زبان سے زیادہ شاعروں ادیبوں کالم نگاروں صدا کاروں کی وجہ سے زندہ رہتی ہے آپ ایسے بلند حوصلہ شاعر جو اپنی زندگی کی آزمائشوں۔۔اندوہ ناک دکھوں اور غموں کے پہاڑ دل وجاں سے سہتے ہوئے ”حی العشق“ کی پکار پر لبیک کہتے ہیں تو ہم ایسے کم حوصلہ لوگوں کو یقین ہوجاتا ہے کہ
صرف اک عشق ہے جس میں ہے سہولت ورنہ
زندہ رہنے کے لیے سینکڑوں دشواریاں ہیں

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker