ادبصائمہ نورین بخاریلکھاری

یاران چمن ، حامد سراج کو الوداع کہیے .. ۔صائمہ نورین بخاری

سردیوں کی دھیرے دھیرے دبے پاؤں آتی ہوئی رت۔۔۔۔ ہمیشہ کے لیے جدا ہونے والوں کا احساس لے کر درو دیوار پر اترتی ہے۔۔اور یاد دلاتی ہے کہ سرد ہواؤں میں بچھڑنے والے ہمیشہ ایسا درد بن ساتھ رہتے ہیں ۔۔۔۔جو ایک سرد ہوا کے جھونکے سے جاگ اٹھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔آج سرد ہواؤں اور تیز بارش میں بھیگتی ہوئی اداس شام میں عالمی افسانوی ادب کے فورم ”سے عہد حاضر کے معتبر معروف بڑے افسانہ نگار ومحقق بزرگ ومحترم جناب حامد سراج کی رحلت کی خبر ملی ۔۔۔۔ہوا میں گھلی ہوئی گہری افسانوی اداسی کا سبب مل گیا ۔۔۔۔۔۔۔



آج میری وہ فرصت جو اردو ادب کو مزید سمجھنے کی شدت آمیز خواہش کی جدوجہد میں کھو گئی تھی اور ۔۔۔ ایم اے اردو فائنل کے امتحانات دینے کی صورت میں گیارہ نومبر کو مکمل ہوئی تھی ۔۔۔۔اپنے ملنے کا احساس دلا رہی تھی ۔اس ہمت افزائی میں ڈ اکٹر فرزانہ کوکب فارحہ جمشید اور خود حامد سراج صاحب کی دعاؤں کا دخل بھی تھا ۔اور بخدا آج میرا ارادہ تھا کہ وہ تمام خوب صورت کتابیں جو گذشتہ سال بھر سے بذریعہ ڈاک موصول ہورہی تھیں ان کو سکون کے ساتھ پڑھنا شروع کروں گی ۔۔۔۔اور جو ایم اے معاشیات نے مارکس ازم کی پرچھائیں میری تحریر کے تعاقب میں لگادی ہے اس کو اردو ادب کے سماجی رویوں سے سمجھنے کی کوشش کروں گی ۔اور ان میں سرفہرست حامد سراج کے افسانے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔



مگر اس خبر نے تو ذہن کو شل کردیا۔۔۔آنکھیں بارش کے پانی کی طرح برسنے لگیں ۔۔ذہن میں ایک جھماکے کے ساتھ وہ سب تصاویر چلنے لگیں جو محترم ہمیں اپنے ہونے کا احساس دلانے کےلیے ارسال کیا کرتے تھے ۔۔۔۔آخری مسیج ۔”
یاران چمن ۔۔۔۔
اب رات سے ہچکی لگی ہے ۔لگتا ہے۔۔آپ تو ہمیں بھول گئے مگر ہم آپ کو نہیں بھولے ۔۔۔۔”



مجھے معاف کردینااے عظیم محقق۔۔ محترم افسانہ نگار ۔۔۔کہ میں آپ کو ان آخری دنوں میں ایک فون بھی نہ کرسکی ۔۔۔آپ کی پر اعتماد آواز نے ڈھیروں دعاؤں نے میری والدہ والد اور شوہر کی وفات پر وہ حوصلہ دیا تھا اس کا بدلہ نہ اتار سکی ۔۔۔۔بے لوث محبتوں کے قرض بڑے بھاری ہوتے ہیں ”اس بات کا احساس تھا مجھے شدت سے ۔۔کئی بار سوچا کہ رضی بھائی شاکر بھائی سے کہوں کہ ایک شام افسانہ جناب حامد سراج کے اعزاز میں رکھتے ہوئے منائی جائے ۔۔۔۔میا ۔۔کے خالق ۔اور عالمی افسانوی ادب کے محقق سے اہل ادب ۔۔طالبان ادب اور اہل ملتان بہ نفس نفیس متعارف ہوں مگر ۔۔۔”ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں ” ۔ہم سب منیر نیازی کی عملی تفسیر ٹھہرے ۔۔۔۔اب کیا فائدہ تعزیت کا جب ان کی زندگی میں ان کے سچ کو بھی افسانہ سمجھا ۔۔۔۔سوچا تھا کہ بالکل ٹھیک ہوجائیں گے جلد صحت یاب ہوں گے تو تقریب ضرور رکھیں گے ۔۔۔۔۔اور سب کچھ بہت آسان نظر آرہا تھا۔۔۔



یہ افسانہ نگار بھی خود کو سچ ثابت کرتے کرتے افسانہ ہوجاتے ہیں ۔۔اور ہم روتے پیٹتے رہ جاتے ہیں ۔۔۔۔کہ یہ ایک محبت تھی سو افسانے نہیں ۔۔۔۔۔محترم حامد سراج جب سے کینسر کے مرض میں مبتلا ہوئے تھے ۔۔مسلسل واٹس ایپ پیغامات خوب صورت افسانوی جملوں حسین پھولوں بھری باسکٹ سبز چائے یا بلیک کافی کے مگ کے خوش گوار احساس لیےصبح بخیر شام بخیر کے پیغامات ۔۔۔۔۔
۔۔۔اپنی افسانوی تحریروں اور کتابوں کی بھر پور ترسیل کے ذریعے ۔۔۔۔۔اپنی شگفتہ مزاجی کے ذریعے ہمیں یہ احساس دلاتے تھے کہ یہ زندگی بڑی قیمتی ۔۔۔نستعلیق ۔۔۔۔گراں قدر پینٹنگ کی طرح ہے ۔۔۔۔اپنی ہمت سے اس میں وہ رنگ بھرتے ہوئے بھی نظر آتے تھے۔۔انہوں بلاشبہ اپنے ہم عصروں کی قدر بھی کی اور اپنے بعد آنے والوں کی توقیر بھی ۔۔۔انتہائی محبت پائی اور عقیدت بھی ۔۔وہ اردو افسانے کے سلسلے میں جناب جاوید اختر چودھری ۔۔جناب خاقان ساجد اورمحترمہ سلمی اعوان کو بہت معتبر اور قابل قدر جانتے تھے ۔۔۔۔2017۔۔میں جب مجھے اپنی کتاب اور افسانوں پر ان کابعنوان ” صائمہ نورین بخاری کے افسانوی مجموعے کا طلسم “تبصرہ ملا اوراردو تنقید کے تخلیقی زاوئیے پر اپنا گراں قدر تبصرہ انہوں نے فیس بک پر بھی شئیر کیا تو یہ میرے لئے اعزاز و ایوارڈ سے کم نہیں تھا۔۔۔۔آپ ایک وسیع المطالعہ اور ہمہ جہت ادیب تھے ۔۔۔۔انہوں نے عالمی افسانوی ادب کی ضخیم تاریخی مجموعہ مرتب کرکے اہل ذوق پر احسان کیا ۔۔۔فرحین چودھری صاحبہ نے افسانہ نگاری کے حوالے سے جو ان کا انٹرویو کیا وہ ان کا آخری جامع انٹرویو تھا۔۔۔جس کی تصویری خوشی انھوں نے ہم سے شئیر کی ۔۔۔۔۔بس اجل نے ان کو ہم سے جلد چھین لیا ۔۔۔ان کا ہر لفظ گونجتا ہوا محسوس ہورہاہے کہ سہل تونے ”سراج ”کو جانا ۔۔۔اور واقعی ایسا ہی ہوا ۔۔آہ ۔۔۔ملنسار بااخلاق ۔۔۔خوش آواز عاجز مزاج سراج بھائی تواگلے جہان آسودہ نشین ہوگئے مگر ۔یاران چمن “اب مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی ۔۔۔۔صدا لگانے والے افسانہ نگاروں پر غور سے دھیان دینا ہوگا۔۔۔۔۔وہ بعض اوقات ہنستے مسکراتے ہوئے خاموش بھی ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔ اور سردیوں کی ہوائیں صرف درد کے فسانے لکھتی رہ جاتی ہیں ۔۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker