اختصارئےصائمہ صادقکالملکھاری

صائمہ صادق کا اختصاریہ : شادی یا عزت کا جنازہ

چاہت ،محبت ،مقام ، بڑی ریاضت اور قربانی کے بعد ملتے ہیں ۔عمریں گزر جاتی ہیں رشتوں کو سینچ سینچ کر رکھنے میں قربانیاں دے کر معاشرے میں عزت و وقار پانے میں۔۔۔۔
صرف اک لمحہ !!
عمر بھر کی ریاضت خاک میں مل جانے کے لیے ۔آج کل ہمارے معاشرے میں گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے ۔آۓ دن سننے کو ملتا فلاں کی بیٹی چلی گئی یا فلاں کا بیٹا لڑکی لے آیا ۔
کیوں ہو رہا ہے یہ سب ؟
انتہائی قدم اٹھانے سے پہلے بیٹی کیوں نہیں سوچتی ۔۔۔جن کے وجود کا حصہ ہے وہ کیسے دو دن کی محبت کی خاطر ان کی عمر بھر کی تربیت اور ریاضت کو گالی بنا دیتی ہے۔
وہ جو معاشرے میں معتبر تھے تھے ۔سر جھکاۓ چلتے ہیں ۔ہر سامنے سے گزرنے والی نظر دو گز زمین کے اند ر دھنسا دیتی ہے ان کو ۔
کاش وہ سوچ لے کے اس کے جانے سے گھر پہ کیا بیتے گی۔میرا سوال ہے ہر اس لڑکی سے جو یہ انتہائی قدم اٹھاتی ہے ۔۔۔۔
کیا روح نہیں لرزتی آنگن کو چھوڑتےہوۓ جس کے وجود کا حصہ تھی۔؟
آخر کیوں ،کیو ں بھول جاتی ہوتم اس آنگن کے باسیوں کی عزت روندتے ہوۓ ۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاں گوشت کے لوتھڑے کی صورت جنم ہوا تیرا، راتیں جا گی ، طاقت بخشی ،۔بولنا سکھایا،عزت و نام دیا معاشرے میں سر اٹھا کر چلنے کے قابل بنایا۔تمہاری پیدائش پہ سب کو بتایا ۔رب کی رحمت اتری ان کے آنگن میں۔
صرف صرف چند دنوں کی محبت کی خاطر جو محبت نہیں چھلاوا ہے۔والدین کی عزت کا جنازہ نکال دیا ۔
جہاں والدین کامان بھرم ٹوٹے ، ۔۔۔عمربھر کی ریاضت خاک میں ملے۔وہاں محبت محبت نہیں گناہ بن جاتی ہے۔جہاں اس وجود کا قتلِ عام ہو جس کا تم حصہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔
بظاہر زندہ نظر آتے ہیں ۔۔۔۔لیکن منوں مٹی کے نیچے دھنسی لاشیں جو ہر لمحہ بھربھری ہو کر مٹی میں مٹی ہو رہی ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔واہ رے محبت کی متلاشی ۔۔۔عشق کے نشے میں سر شار والدین کی پگڑی نیلام کی کیا سوچا کہ تمہیں لے جانے والا بے انتہا محبت کا ثبوت دے رہا ۔۔ارے پگلی وہ اس عمل سے عمر بھر کی بدنامی تمہارا مقدر بنا رہا۔ایسی بدنامی جو قبر تک پیچھا کرے۔تیری نسلوں کو بھی اس کا خمیازہ اٹھانے پڑے چاہ کر بھی چھٹکارا ممکن نہیں۔بدنام گھر سے بھاگی لڑکی کا تصور ملتا ہے۔ پھر تم جیسی لڑکی کا سچا عاشق یا تو نکاح کرتا یا تمہارا مقدر بازارِحسن بنتا۔گر نکاح کر بھی لے عاشق تو قسمت میں ذلت رسوائی طعنے تذلیل۔اور مقدر دارلامان یا کال کوٹھری تمہاری منتظر ۔۔
خدارا !! سوچیے ایسا کرنے سے پہلے ہزار ہا بار مان تھا نا جس کا ہاتھ تھاما ہے محافظ بنے گا ۔۔واہ واہ کیا خوب سوجی محافظ جس نے خود ہی گھر سے بھاگا کر زمانے میں گالی بنا ڈالا ہاہا وہ محافظ۔۔!!
بیٹی کی پیدائش پہ وہ رب کے در پہ سجدوں میں روتا ہے ۔وہ ماں جیسی نہ ہو ۔۔۔تو خود سوچو اس کی زندگی میں اپنا مقام ۔۔۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker