اختصارئےسائرہ راحیل خانلکھاری

دوپٹہ ۔۔ سائرہ راحیل خان

“باجی کیا آج آپ دوپٹہ اوڑھے بغیر چلیں گی باہر”
ارے، تمہیں کیوں فکر ہو رہی ہے میرے دوپٹے کی۔
کیونکہ مجھے آپ کا دوپٹہ بیحد پسند ہے۔
اچھا جی! “دوپٹہ پسند ہے تو اپنی آنکھوں پر باندھ لو” ہاہاہاہاہاہا
((“بہن نے لاپرواہی سے ہنستے ہوئے جواب دیا))

“دونوں بہن بھائی حسبِ معمول باہر کھیلنے جا رہے تھے، جب اس کم عمر بچی نے اپنے چھوٹے بھائی کو دوپٹہ سے متعلق معصوم مگر جائز شکوہ کا ایسا جواب دیا جسے سن کر ماں کے اوسان خطا ہو گئے۔ ”
ّوہ اسوقت برآمدہ میں بیٹھی سبزی بنا رہی تھی ۔ اپنی کمسن بیٹی کے منہ سے نکلا اسقدر پختہ اور غیر معیاری جملہ سن کر وہ دنگ رہ گئی۔ اس نے گھر سے باہر جاتے ہوئے دونوں بچوں کو آواز دے کر روک لیا اور اپنی طرف بلایا۔۔۔
“یہاں بیٹھو میرے پاس اور یہ بتاؤ ابھی جو بات تم نے بھائی سے کہی اس کا کیا مطلب تھا؟”
اس نے سخت لہجے میں بیٹی کی سرزنش کی جس پر وہ گھبراتے ہوئے نظریں جھکا کر بولی۔۔۔۔
” مطلب تو نہیں پتہ ماما مگر میں نے کل آپ کی فیس بک پر دیکھا جہاں کچھ آنٹیاں ہاتھ میں بڑے بڑے کارڈز لیے ہوئے تھیں۔ یہ بات بھی میں نے وہیں سے پڑھی”
بیٹی کے جواب پر اسے یاد آیا کہ کل رات اس نے بھی فیس بک پر مادر پدر آزاد خیالات کی علمبردار چند ہونہار خواتین کو ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے دیکھا، جن پر نہایت بے تکے اور غیر اخلاقی کلمات درج تھے۔ وہ اگرچہ ایک پختہ سوچ کی مالک خاتون تھی تاہم ان خرافات کا مطلب اچھے سے پرکھ سکتی تھی مگر اسے افسوس ہوا کہ اس کی بداحتیاطی کے پیشِ نظر اس کی معصوم بچی کے کورے ذہن پر ان کلمات کے منفی نقوش درج ہوئے تھے۔۔۔۔
اس نے اپنے لہجے میں قدرے نرمی برتتے ہوئے بیٹی کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا اور پیار سے مخاطب ہوئی!
“میری اچھی گڑیا دوپٹہ بھائی کی آنکھوں پر باندھنے کے لیے نہیں بلکہ بہن کے سر پر اوڑھنے کے لیے ہوتا ہے۔ کاش کہ تمام عاقبت نااندیش خواتین یہ بات سمجھ سکیں کہ اپنے باپ، بھائی اور شوہر کی آنکھوں پر دوپٹہ باندھ دینے کے باوجود بھی ایک مسلمان عورت کو یہ حق حاصل نہیں ہو جاتا کہ وہ خود کو نیم عریاں کر کے غیر مردوں کی نگاہوں کو تفریح کا ساماں میسر کرتی پھریں ۔۔۔۔ دوپٹہ کوئی جبراً پہناوا نہیں بلکہ دوپٹا تو ہر با حیا عورت کی زینت ہے بیٹا۔۔۔۔ ”
“سوری ماما! میں انجانے میں غلط بات کہہ گئی”
ماں کے سمجھانے پر بیٹی کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اس نے سر جھکاتے ہوئے معافی مانگی۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے بڑھ کر بیٹی کو سینے سے لگا لیا۔۔۔۔۔۔
جن بچیوں کے ذہن ابھی معصوم ہیں انہیں غلط اور سہی کی پہچان کروانا ہر ماں کا فرض ہے۔ مگر پختہ ذہن کی وہ تعلیم یافتہ نوجوان لڑکیاں جو پلے کارڈز کے ذریعے اپنی غیر معیاری اور شرمناک طرزِسوچ کا اشتہار لگاتی پھرتی ہیں ، کیا وہ اپنی ماں کا دیا سبق بھول چکی ہیں یا پھر انہیں اپنی ماوُں کی طرف سے ایسا کوئی درس ملا ہی نہیں؟۔
افسوس کے دونوں ہی صورتحال کے پیشِ نظر خود کو نیم دانشور اور لبرل سمجھنے والی خواتین جو کہ درحقیقت کم عقل ہیں یہ نا تو “مسلمان عورت” کی تعظیم اور وقار سے واقف ہیں اور نا ہی دوپٹے کے احترام اور تقدس سے آشنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اس نے بیٹی کو سینے سے لگائے ہوئے پرتشویش انداز میں خود کلامی کی”

اس کا بیٹا، جو خاموشی سے کھڑا ماں اور بہن کی گفتگو سن رہا تھا، دوڑتا ہوا گیا اور بہن کا دوپٹہ اٹھا لایا۔۔۔۔۔
“باجی مجھے یہ “دوپٹہ” واقعی بہت پسند ہے مگر اپنی آنکھوں پر باندھنے کے لیے نہیں بلکہ آپ کے سر پر اوڑھنے کے کے لیے ”
اس نے “دوپٹہ” بہن کی طرف بڑھاتے ہوئے معصومیت سے ماں کی کہی بات دوہرائی تو ماں اور بہن دونوں کے چہروں پر اپنائیت بھری مسکراہٹ دوڑ گئی۔۔۔۔۔۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker