ڈاکٹر صلاح الدین حیدرسرائیکی وسیبلکھاری

کامریڈ شاہ صاحب کی مجلسِ اسیران ۔۔ ڈاکٹر صلاح الدین حیدر

دراصل سید قسور شاہ گردیزی اُس زمانے سے ہی انقلاب یا بنیادی ، سماجی تبدیلی کی آرزو میں جیل جاتے رہے جب لالی پاپ کی تمنا لے کر ہم سکول جایا کرتے تھے۔ شاید یہ سماجی ناآسودگی ہی تھی جو عطاءاللہ ملک کے نیا مکتبہ یا شاہ صاحب کی انکاری دانش کی بزم تک لے آئی تھی۔
مارچ 1981 ءکے زمانے میں شاہ صاحب کی مجلس اسیران میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملا اور اس کی رُوداد کچھ اس طرح ہے اور جہاں تک مجھے یاد ہے کہ 11 مارچ 1981 ءکم وبیش رات کے ایک بجے کے سمے پولیس اہلکاروں نے مجھے ویگن سے اُتار کر سنٹرل جیل ملتان کی انتظامیہ کے رُوبرو پہنچایا تو کاﺅنٹر پر مدہم روشنی تھی اور غنودگی میں جاگنے کی سعی کرتے ہوئے ایک اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ نے نوکری کی مجبوری سے ’دست ِ تہ سنگ آمدہ ‘کے نا طے مجھے اس طرح وصول کیا جیسے ریلوے کی ترسیل ڈاک کا عملہ اساتذہ کے پرچوں کے بنڈل یا پارسل وصول کرکے رسید لکھ دیتا ہے۔ پھر ایک سہمے اور اُونگھتے ہوئے نوجوان مشقتی کو آواز دے کر طلب کیا اور اُسے حکم دیا کہ مجھے بیرک کے سیل میں پہنچا آئے۔ یہ طویلے کی بلا بندر کے سر والا معاملہ تھا۔ مشقتی نہیں جانتا تھا کہ مجھے کہاں پہنچانا ہے۔ اس نے ایک کونے سے پرانی بوسیدہ ، زنگ آلودہ پنشن یا فتہ معلم کے مماثل ایک لالٹین دریافت کی اور پھر اُس کی روشنی میں فصیل نما دیوارو ں کے طلسم سے گزار کر ایک بیرک میں پہنچایا ۔ جس کے چہار جانب بہاولپور کے چڑیا گھر جیسے پنجروں میں سلاخیں نظر آرہی تھیں اور یہاں ’سیاسی، غیر سیاسی ملزمان ‘نظر بندی کے روز وشب گزار رہے تھے۔ اب مجھے یاد نہیں کہ یہ چاند کی روشنی تھی یا لالٹین کی غم ِ ہستی کی طرح ٹمٹماتی لَو۔ مشقتی نے کئی سیلوں کو ٹٹولا لیکن کوئی بھی خالی نہ ملا۔ ہر قیدی اپنے طلسم کا آپ ہی اسیر نظر آیا۔ لیکن اچانک ایک سیل میں سفید پاجامہ وکُرتہ زیب تن کئے ایک تختے پر دراز ایک شخص نظر آیا جسے میں نے فوراً پہچان لیا ۔ لیکن قسور شاہ کا رخ دوسری جانب تھا ۔ مشقتی بھائی نے آواز دے کر متوجہ کرنا چاہا تو انہوں نے پلٹ کر بھی نہ دیکھا لیکن جب میں نے انہیں مخاطب کرکے سلام کیا تو انہوں نے کروٹ بدل کر سراٹھایا اور پھر معصومانہ حیرت سے دیدے گھما کر اٹھتے ہوئے انہوں نے کہا ’ جناب !میں سمجھا تھا کہ جیل والے مجھے پریشان کررہے ہیں لیکن یہ آپ کو بھی پکڑ لائے ہیں ۔ آپ جیسے لوگوں کو بھی نہیں بخشا ‘وغیرہ وغیرہ ۔شاہ صاحب نے ایک مختصر احتجاجی گفتگو کے بعد مشقتی کو آگاہ کیا کہ بیرک کی دوسری منزل پر دو سیل خالی پڑے ہیں۔ علاوہ ازیں اسے تاکید کی کہ سیل میں پہنچا کر مجھے پانی، تکیہ ، کمبل وغیرہ بھی مہیا کرے۔
جب صبح ہوئی تو لالٹین کی چاندنی کا خمار ختم ہوا۔ سیل کا دروازہ کھول کر مجھے نیچے بیرک میں پہنچایا گیا ۔ اس کے ایک کونے میں سٹیل کی چار کرسیاں بچھی تھیں ۔ ایک کرسی پر شاہ صاحب کھدر کا پاجامہ اور کرتہ پہنے تشریف فرما تھا ۔ انہوں نے خوش دلی سے خیر مقدم کیا۔ ان کے پہلو میں ایک کرسی پر عہد حاضر کے صدارت کے امیدوار چودھری اعتزاز احسن بھی تشریف فرما تھے۔ ایک چائے کی پیالی کے ساتھ شاہ صاحب نے خفیہ مرتبان سے کچھ پاپے نکال کر میرے رُوبرو رکھ دئیے ۔ اب مکالمے کا آغاز ہوا تو یہ بات علم میں آئی کہ کئی دوست دو روز قبل گرفتار کرکے جیلوں میں پہنچائے جاچکے ہیں۔ اس دوران اچانک بیڑیو ں کی جھنکار سنائی دی اور ایک خوبرو نوجوان سامنے آیا وہ بہت گرم جوشی سے ملا اور بے تکلفانہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر مجھ سے ملاقات رہتی تو شاید اس کا راستہ مختلف ہوتا۔ میں اسے اس وقت سے جانتا تھا جب وہ واقعی ایک معصوم نوجوان تھا۔ یہ ایک علیحدہ لیکن اہم سوال ہے کہ بعض  اوقات معصومیت قتل وغارت کی سمت کیوں جا نکلتی ہے۔ یہ نوجوان سعادت بلوچ تھا اور اُس کی سعادت مندی نے میرے علاہ شاہ صاحب کو بھی سراسیمگی سے دور چار کردیا تھا۔ جب وہ بیڑیوں کی جھنکار کے ساتھ منظر سے غائب ہوا تو سرگوشی ، متانت ،وضع داری ، انکساری ،مرصع اسلوب میں شاہ صاحب نے مجھے مخاطب کرکے کہا ”جناب اس بات کا خیال رکھیں کہ ہم جیل میں ہیں اور یہ کسی ریستوران کی محفل نہیں ہے ،جیل والوں کو ہماری ہر بات کی خبر ہوتی ہے “۔ یوں کم وبیش تین روز تک شاہ صاحب کے اسیرانہ قرینے کی محفل میسر رہی۔ پھر جب جیل سپرنٹنڈنٹ عملے کے ساتھ دورے پر آیا تو مجھے دوسری بیرک میں منتقل کردیا گیا جہاں نور محمد چوہان، اشفاق احمد خان، رب نواز چاون، پیر سجاد قریشی ، راﺅ لطیف ، عزیز نیازی، عارف محمود قریشی اور دیگر دوستوں کی بذلہ سنجی ، لطیفہ گوئی ، تلخی ء  ایام کو گوارہ بناتی رہی۔ شاہ صاحب سمیت اُن دوستوں میں سے کوئی بھی اس دنیا میں نہیں رہا۔ سنا ہے کہ پیر نذر سجاد قریشی اس دنیا میں ہیں لیکن کبھی نظر نہیں آئے۔ میرے ہم پیشہ ساتھیوں میں پروفیسر ساجد ترمذی، پروفیسر شاہد علی ، پروفیسر شوق سومرو، پروفیسر عبدالسلام بھی اسی بیرک میں ایام اسیری کی رونق بنے رہے۔اس کے بعد مجھے شاہی قلعے میں لے جایا گیا اور یوں میں شاہ صاحب کی رفاقت سے محروم ہوگیا۔
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker