ادبشاعری

پروفیسر حسین سحر کا سلام : آنکھیں ہیں اشک اشک توسینہ لہولہو

پروفیسر حسین سحر کا سلام : آنکھیں ہیں اشک اشک توسینہ لہولہو

آنکھیں ہیں اشک اشک توسینہ لہولہو
میں یا دِ شاہ میں ہوں سراپا لہو لہو

چشم ِشفق کے رنگ میں سرخی ہے خون کی
دیکھا ہے جب سے منظرِ صحرا لہو لہو

معصوم سوچتے نہیں پانی کا نام تک
جب سے ہوئی ہے مشکِ سکینہ لہو لہو

مالک سمندروں کے ترستے ہیں بوند کو
پیاسوں کی تشنگی پہ ہے دریا لہو لہو

الیا کوئی ہے منظرِشادی نگاہ میں ؟
سہرا ہے گرد گرد تو نوشہ لہو لہو

قرآن ہے کھلا ہوا جز دان ِسرخ میں
ہاتھوں میں ایک پھول سا بچہ لہو لہو

نیزہ سا کائنات کے دل میں اتر گیا
دیکھا جو نوجوان کا سینہ لہو لہو

زخموں سے چور چور بڑھاپا ہے سوچ میں
کیسے اٹھے جوان کا لاشہ لہولہو ؟

معراجِ بندگی ہے عبادت کی جان ہے
تپتی زمیں پر آخری سجدہ لہو لہو

شام ِمسافرت کی فضا ہے دھواں دھواں
ہے شاہِ اہلِ بیت کا خیمہ لہو لہو

ہر فرد کاروان وفا کا ہے زخم زخم
اس باغ کا ہے ہر گلِ رعنا لہو لہو

( کتاب” تطہیر“ سے انتخاب )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker