ادبکالملکھاری

عمر علی خان بلوچ کی یاد میں( وفات 25 فروری 2016 ) ۔۔ سلمان عابد

بعض انسانی شخصیات اپنے کردار، مزاج، طرز عمل، سوچ ،فکر اور عمل کی صورت میں اپنی ذات سمیت معاشرے کو بنانے کے عمل میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرتی ہیں۔ دنیا میں دو طرح کے انسان ہوتے ہیں ۔ ایک وہ جو محض اپنی ذات سمیت اپنے گھر اور خاندان سمیت بعض دوستوں کی حد تک سوچتے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس انسانوں میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اپنی ذات سے باہر نکل کر دوسروں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یا ان کے لیے جیتے ہیں ۔وہ اپنی ترقی ، خوشی سے زیادہ دوسروں کے دکھ او رمسائل کے بارے میں زیادہ فکر مند نظر آتے ہیں ۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ہی لوگ معاشرے کا اصل چہرہ او رحسن ہوتے ہیں۔
جنوبی پنجاب اور ملتان سے تعلق رکھنے والے ہمارے ہر دلعزیز دوست، بھائی اور ساتھی عمر علی خان بلوچ ایک صحافی، کالم نگار، مصنف، سیاسی ، سماجی کارکن کی حیثیت سے اپنا منفرد مقام رکھتے تھے ۔ آج ان کو ہم سے جدا ہوئے دو برس گزر گئے اور ان گزرے دو برسوں میں جب بھی ان کی یاد آئی تو واقعی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ۔ ان کے ساتھ گزرے لحمات اور بیتے دنوں کے قصے یاد آجاتے ہیں۔ عمر علی خان بلوچ مرحوم کے ساتھ گزرے دنوں میں کیا خوب وقت گزرا۔ہمارے مرحوم دوست راشد رحمان ایڈوکیٹ جن کو کچھ برس قبل انسانی حقوق کی جدوجہد کرنے کی پاداش میں قتل کردیا گیا تھاوہ بھی ہماری مجلسی محفل کے روح رواں ہوتے تھے ۔ غلام مصطفے بلوچ، ملک عاشق بھٹہ، صادق مرزا، رانا محمد اسلم ، جمشید کریم خان ، طاہر شاہ ، سجاد نقوی ، اظہر بلوچ، نعیم اکبر جسکانی ، زہرہ سجاد نقوی ،مبشر وسیم لودھی ، امتیاز الحق، عطا الرحمن شیخ اور ممتاز مغل ان سب ساتھیوں کی مجلس میں عمرعلی خان بلوچ زندہ دل شخصیت تھے ۔
13مئی 1955کو پیدا ہونے عمر علی خان بلوچ بظاہر ایسا ہی لگتا تھا کہ وہ اس دنیا میں لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا جذبہ ہی لے کر دنیا میں آئے تھے ۔ ہم بڑے بڑے ناموں کے کردار وں کو تو خوب یاد کرتے ہیں ، ان کا دن مناتے ہیں او ران کو بڑے بڑے اعزازات سے نوازتے ہیں ۔مگر چھوٹے شہروں میں وہ لوگ جو عمر بھر انسانوں کی بھلائی وترقی کی جدوجہد میں پیش پیش رہتے ہیں ان کو بھول جاتے ہیں ۔بظاہر یہ گمنام لوگ ہوتے ہیں اور بڑے شہروں میں ان کی کوئی پزیرائی نہیں ہوتی ،مگر یہ ہی لوگ ہمارے معاشرے کا حسن ہوتے ہیں ۔ ان کرداروں کو آسانی سے بھول جانا ممکن نہیں اور بالخصوص ایسے لوگ جو اپنے اندر سماج کو بدلنے کا درد رکھتے ہوں اور اس کے لیے عملی جدوجہد کرتے ہوں۔ عمر علی خان بلوچ بھی ایسا ہی کردا ر تھا جو اپنہ کام کی بنیاد پر اب بھی بہت سے دلوں پر راج کرتا ہے ۔
پہلی بار جب میں عمر علی خان بلوچ سے ملا تو غالبا 1992کی بات ہے ۔آل پاکستان یوتھ لیگ کے پلیٹ فارم سے ہونے والی ایک صوبائی کانفرنس میں ان سے ملاقات ہوئی اور یہ ملاقات ایسی ہوئی کہ ہم ایک اچھے دوست میں ایسے ڈھلے کہ اب تک ان کی یاد دل میں موجود ہے ۔ ان کے جب انتقال کی خبر ملی تو کچھ دیر کے لیے تو دل آداس سے ہوگیا ، مگر پھر اس احساس کے ساتھ خود کو مضبوط کیا کہ وہ واقعی خوش قسمت انسان تھا جو زندگی کے آخری سانس تک انسانوں کے حق کی جنگ لڑتا ہوا دنیا سے رخصت ہوا ۔بغیر کسی تعصب، تفریق کے وہ سب کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا اور نہ صرف ان کی بات سنتا تھا بلکہ ساتھ چلتا تھا ۔عمرعلی خان بلوچ کی خوبی یہ تھی کہ وہ تحمل ، بردباری ، برداشت کا نہ صرف جذبہ رکھتا تھا بلکہ واقعی ایک اعلی انسانی خوبیوں سے بھرپور فرد تھا۔
جنوبی پنجاب میں سماجی اور سیاسی سطح پر کام کرنے والے عمر علی خان بلوچ کے کام کرنے کا دائرہ کار محدود نہیں تھا وہ عملی طور پر جہاں موقع ملتا اپنے کا م کا جال پھیلاتا تھا ۔ سماجی محاذ پر مختلف تنظیموں کے نیٹ ورکس یا اتحاد بنانا اور مل کر جدوجہد کرنا اس کا محبوب ترین مشغلہ تھا ۔ جب بھی مجھے ملتا تو اس کے پاس کچھ کرنے کے لیے کوئی نیا خیال موجود ہوتا تھا ۔ جب اس سے کہا جاتا تھا کہ یہ کا م کیسے ممکن ہوگا۔ تو عمر علی بلوچ سینہ تان کر کہتا تھا کہ یہ کام کوئی مشکل نہیں اصل مسئلہ نیت کا ہے اور اگر ہم طے کرلیں تو یہ مشکل کام آسان ہوسکتا ہے ۔ یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ ہم جیسے دوستوں کے لیے ایک امید کا پیغام ہوتا تھا ۔ جب بھی کبھی اپنے کام سے تھک جاتے یا مایوسی کا شکار ہوتے تو ہمیں عمر علی بلوچ کا سہارا ہوتا تھا ۔ وہ کہتا تھا کہ جس دن ہم ہمت ہار گئے وہ ہماری زندگی کا آخری دن ہوگا۔
کہا جاتا ہے کہ کسی انسان کو سمجھنا اور پرکھنا ہو تو اس کے ساتھ سفر کیا جائے ۔ مجھے ذاتی طور پر عمر علی خان بلوچ کے ساتھ بہت زیادہ سفر کرنے کا موقع ملا او رکئی اضلاع میں وہ ہمارے ہمسفر ہوتے تھے ۔خاموش مزاج اور دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ عمر علی بلوچ کمال شخصیت تھے ۔ سفر میں نہ وہ بور کرتے تھے اور نہ ہی کبھی کسی کے لیے مشکلات پیدا کرتے ، ہمیشہ لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ان کا حقیقی حسن ہوتا تھا ۔ عورتوں ، بچوں اور نوجوانوں کے حق کی خاطر خوب لڑے اور اس عمل میں وہ اکیلے نہ تھے بلکہ کئی ہزار لوگوں کو اس جدوجہد میں حصہ دار بنایا ، منظم او رمتحرک کیا اور ان کی بطور قائد ایسی راہنمائی کی جسے آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ سب کے ساتھ چلنے کا کمال رکھتے تھے ، مشکل افراد کے ساتھ بھی وہ ایسے چلتے جیسے کوئی مسئلہ نہیں ۔
عمر علی خان بلوچ کے پاس ہمیشہ ایک فائل ہوتی تھی ، فائل کیا تھی بس کاغذوں کا پلندہ ۔ جب بھی پوچھتا کہ یہ کیا ہے تو پتہ چلتا بہت سے لوگوں کی درخواتیں ہوتی تھیں ، پتہ چلتا کہ جناب گھر سے نکلتے تو مختلف دفاتر جاتے اور اپنے تعلقات کی بناپر کمزور لوگوں کے کام کرکے خود کو پرسکون پاتے تھے ۔وہ مجھے ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ اپنے لیے تو سب جیتتے ہیں اصل زندگی دوسروں کے ساتھ کھڑے ہونے کی ہے ۔جنوبی پنجاب کی محرومی کی مقدمہ انہوں نے ہر فورم پر خوب لڑا، ان کا انداز جذباتی کم اور عقل و شواہد کی بنیاد پر زیادہ ہوتا تھا ۔جنوبی پنجاب کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے انہوں نے خود کئی رسائل کا اجرا کیا ، بطور مدیر وہ رسالے چھاپتے اور پھر اس انداز سے سب میں تقسیم کرتے کہ ان کا مقدمہ سیاسی ، عملی اور فکری مجالس میں بحث کا حصہ ہوتا تھا ۔
مخدوم جاوید ہاشمی ، مخدو م شاہ محمود قریشی اور یوسف رضا گیلانی سمیت کئی بڑے سیاست دانوں سے ان کے ذاتی مراسم تھے ۔لیکن مجال ہے کہ وہ ان ذاتی تعلقات کو کبھی اپنی ذات کے لیے استعمال کرتے ، ان کا محور جنوبی پنجاب کی مظلوم عوام ہوتی اور وہ جہاں مجلس سجاتے ان کی بحث کا نقطہ محرومی سے جڑی سیاست ہوتی تھی ۔ان کی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے ایک مشکل زندگی دیکھی اور گزاری اور انسانوں کے دکھ کو بہت قریب سے دیکھا اور محسوس کیا ۔وہ ایک سچے اور کھرے انسان تھے ، لیکن مشکل اور کڑوی بات کرنے کا سلیقہ ان کو خوب آتا تھا ۔ان کی گفتگو میں تنقید کا پہلو ضرور ہوتا تھا ، مگر تضحیک نہیں کرتے تھے ۔ جن سے ان کو اتفاق نہیں بھی ہوتا تھا ان کے ساتھ بھی ان کے تعلقات مثالی تھے ۔
عمر عملی بلوچ نے درجنوں سماجی تنظیمیں بنائیں اور کئی سو شاگرد پیدا کیے جو آج اعتراف کرتے ہیں کہ آج وہ کوجو کچھ بھی ہیں اس میں عمر بلوچ کا کردار نمایاں ہے ۔ان کا ایک مثبت پہلو لوگوں کی خوب حوصلہ افزائی کرنا ہوتا تھا ۔ ان کے بقول اگر ہم انسانوں او ران کے کاموں کی تعریف کریں تو ان سے بڑا کام لیا جاسکتا ہے ۔ وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ یہ سماج لوگوں کی تعریف کرنے میں کنجوسی دکھاتا ہے ۔جنوبی پنجاب کی سماجی تاریخ جو بھی مورخ لکھے گا وہ کسی بھی صورت میں عمرعلی خان بلوچ کے کردار کو نظرانداز نہیں کرسکے گا۔ کیونکہ عمر بلوچ نے حقیقی معنوں میں عام اور کمزور طبقات کا مقدمہ لڑا ہے ۔ان کاکمال یہ تھا کہ نہ صرف سماجی میدان میں بلکہ علمی اور فکری محاذ پر ان کے قلم نے بھی خوب جدوجہد کی ۔برحال عمر علی خان بلوچ واقعی عظیم دوست تھا اور ہمیشہ اپنے کام کی وجہ سے مجھ جیسے لوگوں کے دلوں میں کل بھی زندہ تھا اور آج بھی زندہ ہے ۔
( بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker