سلمان عابدکالملکھاری

سلمان عابد کا کالم:معاشی مفادات اور عوامی جنگ

مرکز سمیت صوبوں کے بجٹ آچکے ہیں۔ حکومت وفاقی ہو یا صوبائی وہ اپنے بجٹ کو عوامی بجٹ یا عوامی توقعات کے عین مطابق کہتی ہے اور ان کے بقول عام آدمی کی معاشی مشکلات کو بنیاد بنا کر ہی ہم نے حکومتی سطح پر اپنی معاشی ترجیحات کا تعین کیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود قومی سطح مرکز یا صوبائی حکومتوں کے بجٹ یا اس سے جڑی معاشی پالیسیوں یا عوامی ریلیف کے تناظر میں لوگوں میں بداعتمادی پائی جاتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بجٹ اور عوامی توقعات یا خواہشات کے درمیان ہمیشہ سے ایک واضح خلیج رہی ہے۔
عمومی طور پر بجٹ کی بنیاد سالانہ معاشی سطح کی پالیسیوں پر مبنی ہوتی ہے۔ لیکن کمال یہ ہے کہ یہاں منی بجٹ کے نام پر ہونے والی سیاست نے قومی یا صوبائی بجٹ کی اہمیت کو بڑھانے کی بجائے اور زیادہ کم کر دیا ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ بجٹ ایک طاقت ور طبقہ کا کھیل ہے او راس میں عام آدمی کی حیثیت بہت کمزور بنیادوں پر کھڑی ہے۔
بجٹ کی سیاست میں سب سے اہم خوبی معاشرے میں موجود کمزور طبقات کی سیاست یا معیشت کو مضبوط کرنا ہوتا ہے۔ یہ ہی سیاست اور جمہوریت کی کامیابی کی کنجی بھی ہے اور ریاست و شہریوں کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مضبوط بھی بناتی ہے۔ اس وقت عام آدمی کی سطح پر دیکھیں تو ہمیں ان کے تناظر میں چار بڑے مسائل سرفہرست نظر آتے ہیں۔ اول معاشی بدحالی، بے روزگاری یا روزگار کے خاتمہ کا خوف، دوئم بڑھتی ہوئی مہنگائی اور آمدن کی کمی کا بحران، سوئم بنیادی معاشی حقوق تک عام لوگوں کی عدم رسائی، چہارم حکومتی پالیسیوں، قانون اور عملدرآمد کے نظام میں عام آدمی کی ترجیحات کو نظر انداز کرنا اور ایک مخصوص طاقت ور طبقہ کے مفادات کو تحفظ دینا شامل ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل میں جو معاشی ترقی کے تناظر میں خوف یا عدم تحفظ کا احساس ہے وہ سنجیدہ نوعیت کا مسئلہ ہے۔
یہ اچھی بات ہے کہ اس بار بجٹ کی سیاست میں ہمیں کچھ عوامی جھلکیاں بھی دیکھنے کو ملی ہیں۔ مثال کے طور پر پنجاب اور خیبر پختونخوا میں سات سے دس لاکھ تک صحت کارڈ کی فراہمی جس سے ایک خاندان اپنا مفت علاج کروا سکے گا۔ اگر واقعی اس نظام پر شفافیت کے انداز میں عملدرآمد ہو جائے تو یہ قومی سیاست اور عام آدمی کے تحفظ کے ضمن میں ایک بڑا گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کی حکومت میں شروع ہونے والا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جسے اب ”احساس پروگرام“ کا نام دیا گیا ہے قومی سطح پر ایک اہم پیش رفت ہے جس کے تحت 13000 روپے ایک خاندان تک شفافیت کے ساتھ جا رہے ہیں۔
سندھ کے صوبائی بجٹ میں ملازمین کی تنخواہ میں 20 فیصد اضافہ، کم سے کم مزدور کی اجرت 25 ہزار روپے مقرر کرنا، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں کم سے کم اجرت بیس یا اکیس ہزار مقرر کرنا، خیبر پختونخوا کے بعد پورے پنجاب میں صحت انشورنس، پنجاب میں کل ترقیاتی بجٹ کا 35 فیصد جنوبی پنجاب کے مختص کرنا، پنجاب میں کسان کارڈ کا اجرا، نوجوانوں کے لیے آسان شرائط پر قرضہ کی فراہمی، پانچ لاکھ تک بغیر کسی سود کے قرضوں کی فراہمی جیسے امور پیش پیش ہیں جو ظاہر کرتا ہے کہ عام آدمی کی اس بجٹ میں کہیں نہ کہیں جھلک نظر آتی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ یہ جو کچھ بجٹ میں دکھایا یا پیش کیا جاتا ہے کیا یہ واقعی عام آدمی کی حقیقی زندگی میں کوئی بڑی نمایاں تبدیلی پیدا کرسکے گا تو یہ توجہ طلب مسئلہ ہے۔ کیونکہ بجٹ میں وسائل رکھنا، اپنی ترجیحات کا تعین کرنا ایک بات جبکہ ان پر عملدرآمد کا مجموعی نظام دوسری بات ہوتی ہے۔ کیونکہ عمومی طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ بجٹ میں جو کچھ دکھایا جاتا ہے عملی طور پر اس کے مثبت نتائج کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کیونکہ ایک سیاسی روایت یہ بن گئی ہے کہ جو کچھ بجٹ میں وسائل دکھائے جاتے ہیں وہ آگے جاکر عام آدمی کے بجٹ میں کٹوتی یا ترجیحات کو تبدیل کر دیتے ہیں۔ سب سے اہم اور بڑا مسئلہ سماجی شعبہ کو نظر انداز کرنا ہوتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عام آدمی کی زندگی میں کوئی بڑی تبدیلی کا عمل محض ایک سیاسی خواہش بن کر رہ جاتا ہے۔
عام آدمی کا سب سے بڑا سنگین مسئلہ ریاست سے جڑے بنیادی حقوق کی فراہمی کے تناظر میں نج کاری کا ہے۔ یعنی ہم زیادہ سے زیادہ ان سماجی شعبوں کو نج کر کے عام آدمی کی زندگی کو اور زیادہ مشکل میں ڈال رہے ہیں۔ تعلیم، صحت کی بڑھتی ہوئی نج کاری اور تمام معاملات کو ہر سطح پر نجی شعبوں تک منتقلی ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ کیونکہ اس سے ایک بڑا خطرہ یہ جنم لیتا ہے کہ عام اور کمزور آدمی کی ان بنیادی حقوق کی فراہمی تک رسائی کا معاملہ پیچھے چلا جاتا ہے۔
اسی طرح اگرچہ حکومتوں کی سطح پر نوجوانوں کو بینکوں سے قرضہ کی فراہمی کے نظام کو لا رہی ہے۔ لیکن ابھی تک اگر حکومت کے ان تمام پروگراموں کا جائزہ لیں تو نظر آتا ہے بینکوں سے قرضوں کی فراہمی اور بالخصوص نوجوان طبقہ تک اس کی رسائی بہت مشکل ہے اور بلاوجہ مختلف شرائط کے نام پر قرضوں کی فراہمی کے نظام کو پیچیدہ بنایا جا رہا ہے۔ عام آدمی کو بنیاد بنا کر اصل مسئلہ ضلعی اور تحصیل سطح پر موجود سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار میں انقلابی اقدامات درکار ہیں۔ کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان سرکاری ہسپتالوں میں لوگوں کا جم غفیر، بنیادی سہولتوں کا فقدان، ادویات اور مشینری سمیت ٹیکنالوجی کی کمی، ٹیسٹوں کے نام پر نجی سطح پر لوگوں سے رقم بٹورنے کا کھیل بہت کچھ تبدیل کرنے کی دہائی دے رہا ہے۔
اگر وفاقی یا صوبائی حکومتیں واقعی عام آدمی اور بالخصوص نوجوان نسل کو معاشی طور پر خود کفیل کرنا چاہتی ہیں یا ان کے لیے روزگار کے مواقعوں کو پیدا کرنا ان کی ترجیحات کا حصہ ہے تو اس کے لیے چھوٹی سطح پر انٹرپنیور کے ماڈل کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھانا ہوگا۔ اگر حکومت عام آدمی کو براہ راست نوکریاں نہیں دے سکتی تو کم ازکم ملک میں روزگار یا چھوٹے کاروبار کے لیے ایسا سازگار ماحول اور پالیسیاں دینا ہیں جو عام آدمی کو خود سے معاشی میدان میں فعال کرسکے۔
بالخصوص عام عورتوں کو مقامی سطح پر زیادہ سے زیادہ کاروبار کے لیے بغیر کسی سود کو بنیاد بنا کر قرضوں اور معاشی تربیت کی فراہمی کا جامع پروگرام کا اجرا کرنا ہوگا۔ اصولی طور پر پاکستان میں مزدور، کسان سب سے زیادہ تعداد میں ہیں او ران کو معاشی سطح پر زیادہ سے زیادہ مستحکم کرنا ہوگا۔ کیونکہ اس وقت یہ دونوں طبقہ سب سے زیادہ حکومتی توجہ کے مستحق ہیں او ران کو زیادہ سے زیادہ مراعات دینی ہوگی۔
یہ حکومتی پالیسی کا حصہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے غیر ترقیاتی اخراجات اور بالخصوص وہ اخراجات جو ان کی شاہانہ زندگی یا طرز حکمرانی کو نمایاں کرتی ہے اس کا مکمل طور پر خاتمہ ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے ایک طرف ہم معاشی بدحالی اور عام آدمی کی کمزوری کی دہائی دیتے ہیں تو دوسری طرف ہمیں حکومتی سطح پر شاہانہ انداز حکمرانی کا طرز عمل ایک بڑے تضاد کو جنم دیتا ہے۔ عام آدمی کو مستحکم کرنے کے لیے اوپر کے طبقات کے مقابلے میں عام آدمی کو اپنی پالیسی اور ترجیحات کی بنیاد بنانا ہوگا۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ بجٹ، وسائل کی منصفانہ اور شفاف تقسیم میں عام آدمی کا حصہ بڑھایا جائے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے جو بڑے بڑے ترقیاتی اخراجات رکھے ہیں ان کو اس انداز سے خرچ کیا جائے جس میں عام آدمی سے جڑے مسائل اور معاملات کو بھی فوقیت ملنی چاہیے۔ اس لیے اس وقت جو لوگ یا فریقین عام آدمی کی سیاست کو مضبوط بنانا چاہتا ہے اسے حکمرانی کے موجودہ نظام کو ہر سطح پر چیلنج کرنا ہوگا۔ ریاست، حکومت اور اداروں سمیت پالیسی سازوں پر دباو بڑھانا ہوگا کہ وہ عام آدمی کا مقدمہ لڑیں، کیونکہ عام آدمی کی طاقت سے ہی ریاست اور حکومت کا شفافیت کا ایجنڈا سامنے آتا ہے اور یہ ہی ریاست سمیت حکومتوں کی سیاسی ساکھ کو قائم کرنے کا سبب بنتا ہے۔
(بشکریہ: ہم سب)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker