سلمان عابدکالملکھاری

سلمان عابد کا کالم:مقامی جمہوری حکومتیں او رسیاسی ترجیحات کا تعین

سیاست ، جمہوریت، حکمرانی او رسیاسی استحکام کے لیے مقامی حکومتوں کا نظام پہلی سیڑھی ہے۔جس ملک میں مقامی حکومتوں کا جمہوری نظام موجود نہیں وہاں جمہوریت پنپ سکتی ہے او رنہ ہی لوگوں کے بنیادی مسائل کے حل کی ضمانت دی جا سکتی ہے ۔اسی لیے کہا جاتا ہے کہ مقامی جمہوری حکومتوں کے بغیر جمہوریت نامکمل ہوتی ہے۔
پاکستان مقامی حکومتوں کے نظام سے عملاً محروم رہا ہے۔ پاکستان میں جب تک بنیادی اصول یعنی تیسرے درجے کی حکومت کوتسلیم نہیں کریں گے، مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ وفاق اور صوبائی حکومتوں کے بعد مقامی حکومت کا نظام محض سیاسی مجبوری نہیں بلکہ صوبائی حکومتوںکی یہ آئینی اور قانونی ذمے داری بھی ہے ۔
حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر پنجاب میں سابقہ مقامی حکومتوں کا نظام بحال ہوا ہے ۔ حکومت نے اگرچہ تاخیری حربے اختیار کیے مگر اسے ان اداروں کو عدالتی حکم کی بنیاد پر بحال کرنا پڑا۔ صوبائی حکومت نے اپنی خوشی سے ان اداروں کو بحال نہیں کیا بلکہ عدالتی حکم کی کڑوی گولی کے تحت یہ ادارے بحال ہوئے ہیں۔ مگر ان اداروں کی بحالی محض 31دسمبر 2021 تک ہی محدود رہے گی۔
کیونکہ سابقہ نظام کی مدت 31دسمبر 2021تک ہے۔ محض 70دن کے لیے یہ ادارے محض مصنوعی طور پر بحال ہوئے ہیں ۔پنجاب میں سابقہ مقامی حکومتوں میں عوامی نمائندوں کی اکثریت مسلم لیگ ن کی ہے لیکن وہاں بھی ان اداروں کی بحالی سے گرم جوشی دیکھنے کو نہیں ملی۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ ن لیگ کو سیاسی فائدہ ملنے کا امکان نہیں ہے ۔
کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ اب مستقبل میں بلدیاتی اداروں کی معطلی دوبارہ نہیں دہرائی جاسکے گی ۔ یہ سوچ محض خوش فہمی ہے کیونکہ جب تک 1973کے دستور میں مقامی حکومتوں کوآئینی تحفظ نہیں دیا جائے گا ، معطلی کی تلوار ہمیشہ مقامی حکومتوں پر لٹکی رہے گی۔ ہمارے سامنے ایک اچھی مثال بھارت کی ہے جہاں آئین میں باقاعدہ مقامی حکومتوں کے نظام پر ایک مکمل باب موجود ہے۔
ایسی ہی ترمیم کی پاکستان کو بھی ضرورت ہے۔ ملک میں چاروں صوبوں میں کئی کئی برس تک بلدیاتی نظام تعطل کا شکار رہتا ہے ۔لیکن صوبائی حکومتوں کے آمرانہ طرز عمل اور غیر جمہوری سوچ پر آئین خاموش رہتا ہے کیونکہ مقامی حکومتوں کا نظام صوبائی مسئلہ ہے، وفاق اس نظام میں براہ راست کوئی مداخلت نہیں کرسکتا ۔آخری راستہ سیاسی قوتوں یا سول سوسائٹی کے پاس عدالتی یا قانونی ہی رہ جاتا ہے ۔ عدالتی فیصلے بھی پاکستان میںمضبوط مقامی حکومتوں کے نظام کی تشکیل کو یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں ۔
اس لیے مسئلہ محض کسی ایک جماعت یا حکومت کا نہیں بلکہ ہمارے آئینی ڈھانچے میں موجود خرابیوں کا ہے جس کی وجہ سے مقامی حکومتوں کا مضبوط نظام ہماری سیاسی ترجیحات کا حصہ نہیں بن سکا۔سب سے زیادہ قصور ارکان قومی یا صوبائی اسمبلی کے ممبران کا ہے جو مقامی حکومتوں کو اپنی سیاسی بقا،اختیارات او رترقیاتی فنڈز کے حصول میں ایک بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔
جب تک آئینی اور قانونی فریم ورک میں یہ ترقیاتی فنڈز میں ممبران اسمبلی کی شمولیت کے معاملات کو حل نہیں کیا جاتاتب تک مقامی جمہوری نظام سیاسی تماشہ کا منظرنامہ پیش کرتا رہے گا اور ہم بے بسی سے یہ تماشہ دیکھتے رہیں گے۔ دنیا نے مقامی جمہوری حکومتوں کے نظام کے لیے جو آئینی اور انتظامی طریقے اختیار کیے اور اپنے اپنے ملکوں میں یہ نظام کو چلایا جارہا ہے، ہمیں ان سے ضرور سیکھنا چاہیے ۔یہ جو ہم تسلسل کے ساتھ ملک میں بری حکومت، گڈ گورننس کا کا رونا روتے ہیں اس کی بھی بڑی وجہ مقامی حکومتوں کا کمزور ہونا ہے۔
مقامی حکومتوں کا نظام موجودہ روایتی، فرسودہ اور مبہم قانون کے تحت نہیں چل سکے گا۔ عوام خصوصاً دانشوروں، اہل علم اور مڈل کلاس کو اس کے لیے سیاسی محاذ پر ایک بڑی جنگ لڑنی ہوگی۔ یہ لڑائی اگرچہ سیاسی جماعتوں کی سطح پر ہونی چاہیے تھی او ر ان کی ترجیحات کا حصہ ہوتا۔مگر اب یہ بڑی ذمے داری سول سوسائٹی ، میڈیا اور اہل دانش یا علمی یا فکری محاذ پر کام کرنے والے تھنک ٹینک کی زیادہ ہے کہ وہ حکومتوں اور سیاسی جماعتوں پر دباو کی پالیسی ایک بڑے پریشر گروپ کے طور پر ڈالیں کہ وہ اس نظام کو اپنی سیاسی ترجیحات کا حصہ بنائیں۔ وفاق کو ایک بنیادی فریم ورک تشکیل دینا ہوگا جس کی مدد سے صوبائی حکومتیں، بلدیاتی حکومتوں کو معطل نہ کرسکیں اور نہ ان کے اختیار پر شب خون مارسکیں۔
جب تک وفاق، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے نظام کی مدت ایک جیسی نہیں ہوگی اور آئینی طور پر صوبائی حکومتوں کی تشکیل کے بعد 120دنوں میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کو لازمی قرار دینے کی شرط نہیں ہوگی، یہ نظام تسلسل سے نہیں چل سکے گا۔ 1973کے دستور کی شق 140-Aاور32 کے تحت مقامی حکومتوں کی انتظامی اورمالی خود مختاری کو یقینی نہیں بنایا گیا ہے۔سیاسی جماعتوں کی مقامی حکومتوں کے نظام کے بارے میں عدم دلچسپی ، ترجیحات اورمفادات کے ٹکراؤ کی پالیسی نے مقامی جمہوریت کو کمزور کیا ہے۔ اس لیے مقامی حکومتوں کے نظام کی مضبوطی کے لیے نیا آئینی فریم ورک درکار ہے ۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker