آنچلاختصارئےثمانہ سیدلکھاری

کفن کہاں سے ملتا ہے بھائی ؟ ۔۔ ثمانہ سید

ارے بھائی، یہ کفن کہاں سے ملتا ہے؟ہم نے بازار پہنچتے ہی پہلی دکان والے سے پوچھا۔ شام کا وقت تھا اور سردیوں کے دن، ہمیں گھر جانے کی بھی جلدی تھی اور کام بھی ضروری تھا جو کرنے آئے تھے۔
باجی! یہ ساتھ والی گلی مڑیں تو ڈھول باجے والے کے ساتھ والی دکان ہے۔
لُنگی میں ملبوس بڑی بڑی موچھوں والے دکان دار نے رستہ بتاتے ہوئے ایک جانب اشارہ کیا۔
شکریہ بھیا، ہم نے آگے بڑھتے ہوئے اشارہ کیا۔ اور اس کی ہدایات کے مطابق آگے بڑھنے لگے حتیٰ کہ ڈھول والے کی دکان پر پہنچ گئے۔ وہاں کافی بھیڑ لگی تھی۔ہمارے ہاں خواتین کی عزت کے جتنے دعوے کیے جاتے ہیں ان میں سے محض ایک ہی ہمارے مشاہدے میں آیا تھا کہ جہاں خاتون ہو گی وہاں خواہ مخواہ کی بھیڑ لگ جائے گی مگر خاتون کے لئے راستہ چھوڑنے پر کوئی تیار نہیں ہوتا۔ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی تھا مرد حضرات دکان پر چاروں جانب سے حملہ آور تھے۔ اور مجال ہے جو ذرا جگہ چھوڑنے کے لیے تیار ہوتے۔ خیر ہمیں تھوڑا انتظار کرنا منظور تھا مگر اس بھیڑ میں گھسنے کی سکت نہیں تھی۔ سو ہم ایک کونے میں کھڑے ہو گئے۔
آج تنخواہ ہاتھ میں تھی تو اپنی دیرینہ خواہش پوری کرنا چاہتے تھے۔ کسی بزرگ کی کتاب میں پڑھا تھا کہ “دنیاوی خواہشات سے بچنا چاہو تو موت کو یاد کرو۔ اور موت کو یاد کرنے کے لیے کفن خرید کر رکھو جیسے کپڑے خریدتے ہو۔”
پس ہمارا بھی دنیا کی مستی میں اب جی نہیں لگتا تھا۔ تو تھوڑا خود کو سنوارنے کی خواہش میں بازار جا پہنچے تھے۔ دوستوں نے منع بھی کیا تھا کہ بیٹا ابھی تو جوان جہان ہو ابھی کیا کفن دفن کا سوچنے لگی۔ مگر ہمیں تو دھن سوار تھی سو جب رش کچھ کم ہوتا دکھائی دیا تو ہم گویا ہوئے۔
ارے بھیا، کفن ملے گا کیا؟ ہم نے ادھر ادھررنگین کپڑوں سے آراستہ دکان کو دیکھتے کہا۔
دکان والے بھائی نے پہلے تو غور سے ہمیں دیکھا پھر ہمارے آنکھوں کو نوٹ کرنے کی کوشش کی کہ جیسے دیکھنا چاہ رہا ہو کہ کہیں ہم رو تو نہیں رہے پھر خواہ مخواہ دکھی منہ بنا کے بولا “جی باجی، ملے گا۔۔کون سا چاہئے تیار کہ ان سلا؟”
“ارے ہمیں کیا معلوم تیار اور ان سلے میں کیا فرق ہوتا ہے، بھیا۔” ہم نے جواب دیا پھر گالوں پر انگلی رکھ کر کہا، “خیر ایسا کرو سلا سلایا دے دو، اب درزی کہاں سے ڈھونڈیں گے ہم” دونوں بازو کوٹ کی جیب میں دبائے،کاندھے اچکاتے ہوئے ہم گویا تھے۔ دل میں ایک عجیب سا غم اور خوشی کی کیفیت طاری تھی۔ “اپنا کفن اپنے ہاتھوں سے خریدنے کا اپنا ہی مزہ ہے نا،” ہم نے سوچا۔
“اوئے شبیر بھائی۔۔۔۔یہ باجی کو سلا کفن دینا۔ دکان دار نے دوسری جانب بیٹھے موٹے سے آدمی کو آواز لگائی اور پھر ہم سے گویا ہوا۔
باجی لیڈیز چاہئے کہ جینٹس؟
جی جی لیڈیز کفن چاہئے بھیا۔۔ہم نے تقریباً برا سا منہ بناتے ہوئے کہا۔

ادھر آواز سننے کی دیر تھی کہ شبیر نامی بھائی سفید تازہ دو خوبصورت کپڑے لےآیا اور ہمیں دکھانے لگا۔
“کتنا ہوا بھیا۔۔؟” ہم نے خوشی خوشی وہ کپڑے ہاتھ میں پکڑتے ہوئے پوچھا۔
“باجی بس 2500 دے دیں”دکان دار نے لجاتے ہوئے جواب دیا۔
ہمارے منہ سے ایک بے یقین سے چیخ نکلی۔ ڈھائی ہزار۔۔۔۔؟
“یہی تو ہماری پورے ماہ کی بچت ہے۔” ہم نے اپنے چکراتے سر کو پکڑتے ہوئے سوچا۔ پھر کچھ دیر اپنے”متوقع” کفن پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور پیچھے ہٹتے ہٹتے بولے۔
“ارے رہنے دو بھیا ۔۔۔امیر ہو کر موت کو یاد کریں گے۔۔۔ “ابھی تو ہم جوان جہان ہیں ابھی کوئی عمر ہے ہماری موت یاد کرنے کی۔” بڑبڑاتے ہوئے ہم الٹے پاؤں گھر کو لوٹ آئے۔ لو دسو کوئی حال اے ولا (بتائیں کوئی حال ہے کیا)۔۔۔کفن بھی غریب کی پہنچ سے باہر ہو گیا اب۔۔۔۔۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker