آنچلاختصارئےثمانہ سیدلکھاری

عورت کی ’’آزادی‘‘ کا دن ۔۔ ثمانہ سید

آج میں بہت خوش ہوں۔ خود کو جتنا ہلکا، آزاد اور مسرور میں آج محسوس کر رہی ہوں شاید اتنا پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔دور آسمان پر سورج اور بادلوں کی آنکھ مچولی جاری ہے۔سورج منہ نکالتا ہے تو بادلوں کا رنگ پھیکا پڑنے لگتا ہے اور جب بادل سورج کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہیں تو سورج اداس دِکھنے لگتا ہے۔ یہ ہوا میں جو سرخ گلابوں کی مہک اور کافور ہے اس نے میری روح کو معطر کر دیا ہے۔میں اپنے کمرے میں بیٹھی ہوں۔ اب سے کچھ دیر پہلے مجھے نہلا، دھلا کر نئے کپڑے پہنائے گئے ہیں۔
مجھے ساتھ لے جانے والے ابھی پہنچے نہیں اس لیے میں بھی اپنے ملنے والوں میں ابھی تک گھری بیٹھی ہوں۔ باہر دیگوں کی دیگیں تیار ہو رہی ہیں اور میرا دل ہے کہ خوشی کے مارے ناچے جا رہا ہے۔ مگر میری فیملی، محلہ، جاننے والے، رشتہ دار ، کولیگز۔۔۔ میرے سوا کوئی خوش نظر نہیں آ رہا بلکہ سب اداس نظر آتے ہیں جو کہ میرے لیے باعث حیرت ہے۔
ایک شور سا برپا ہے میرے گھر میں۔۔۔ میرے جاننے والے عزیز، رشتے دار اور وہ بھی جن کو میں نے شاید زندگی میں کبھی نہ دیکھا تھا۔۔۔۔ سب جمع ہیں۔ سب دوڑے چلے آ رہے ہیں۔ کچھ تو غم سے واقعی نڈھال ہیں اور کچھ کوشش کر رہے ہیں کہ میل جول کی وجہ سے تعزیت کر کے”چاول” ہی کھا لیں۔ خیر یہ طے کرنا اتنا آسان بھی نہیں ہے سو میں اپنے الفاظ واپس لیتی ہوں ۔ سو کم یا زیادہ سب ہی کو افسوس ہے کہ میرا جسم ایسے کیوں بے سدھ پڑا ہوا ہے۔ سب مجھے یاد کر رہے ہیں اور سب ہی میرے لئےغمگین دکھائی دیتے ہیں۔ میرے گھر میں میری اولاد، شوہر، بہن بھائی۔۔۔ سب کی ہی آنکھیں نم ہیں۔ اور ۔۔۔۔ سب ہی میرے بے سدھ پڑے جسم پر نوحہ کناں ہیں”بہت اچھی خاتون تھیں،” بڑی ہی با اخلاق، با حیا، سلجھی ہوئی اور شریف آنٹی تھیں،” میری رشتہ دار عورتوں میں سے ایک، (جنہیں شاید میں دوسری بار اپنے گھر دیکھ رہی ہوں) نے صدا بلند کی ہے۔ میرا بیٹا، جو میرے بڑھاپے کی وجہ سے میرے قریب تک نہ آتا تھا اب رو رو کر اپنا برا حال کیے ہوئے ہے۔ میری بیٹی جو بیاہ کے میرا ساتھ چھوڑ کر دور دیس بس گئی تھی ،اس کو غشی کے دورہ طاری ہے۔ اورمیرا میاں جو مجھے ساری عمر “بےپردگی ” کے طعنے دیا کرتا تھا اب سر پکڑے بیٹھا ہے۔میرے پوتے، جو میرے پاس بیٹھنے سے بھی گھبراتے تھے اب میرے واپس لوٹنے کی دعائیں کر رہے ہیں۔ میرے سسرال والے، جنہوں نے میرا زندگی بھر جینا دو بھر کیے رکھا تھا اب مجھے سپارے بخش بخش کر شرمندہ کر رہے ہیں۔ میری موت کی رسمیں ادا کرنے میں جو پیسہ انہوں نے اپنی محلے میں “ناک رکھنے” کے لیے لگا دیا ہے، کبھی اتنا مجھے دیا ہوتا تو شاید میں بچ ہی جاتی۔ بس آج میں یہ تماشا دیکھ دیکھ حیراں ہوں لیکن شکر کرتی ہوں کہاں سب دنیاوی مطلبی رشتوں، رسموں اور جھوٹے رواجوں سے بندھن ٹوٹ گیا۔ ہاں، آج میں بہت خوش ہوں کیونکہ آج میری آزادی کا دن ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker