صائمہ نورین بخاریکالملکھاری

صائمہ نورین بخاری کا کالم : ثمر آپا ۔۔ ملتان کی بانو آپا ( وفات ، سات جنوری 2012 )

کیوں نہ لکھوں ؟

رشتوں کی پاس داری علمیت میں عاجزی و انکساری لہجے میں مٹھاس و حلاوت یہ تمام عناصر ایک نفیس شخصیت میں یکجا تھے اور وہ شخصیت ہم سب کی ثمر آپا کہلاتی تھیں ۔۔۔۔۔۔مجھے یاد ہے دسمبر2011کی وہ نرم سرد دوپہر جب ہم نے ”ادبی آنگن “میں نشست ”خوشبو ”کا اہتمام کیا۔
دردانہ نوشین خاں اور مہوش انجم جیلانی کو ثمر آپا کی صحت کی فکر تھی کہ وہ ناسازئ طبیعت کی بناء پر تقریب کی صدارت نہ کر پائیں گی مگر جب وہ اپنی بیٹی شیمابتول کا ہاتھ تھامے ؛ہنستی مسکراتی ہولے ہولے قدم بڑھاتی ہال میں تشریف لائیں اور آتے ہی نوشابہ نرگس سے قدرے شوخی سے مخاطب ہوئیں۔۔۔”
لیجیے ہم آگئے۔۔۔“تو سب کے چہرے کھل اٹھے ۔۔یہ ان کی زندگی کی آخری ادبی نشست تھی ۔ان کی صحت ان کے حوصلے کا ساتھ نہیں دے رہی تھی چہرے پر صاف لکھا تھا۔۔”۔ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ۔“۔۔۔۔۔مگر وہ اپنی روایتی خوش مزاجی کے جذبے سے تمام خواتین شاعرات شہنازنقوی، ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ،ماہ رخ حفیظ ؛عطیہ الہام اورتمام شرکا لکھاری خواتین کی تخلیقات کی حوصلہ افزائی کررہی تھیں ۔ان کا جذبہ زندگی دیدنی تھا۔۔۔۔
ادبی آنگن کا شام افسانہ ہو یا محفل مشاعرہ مشاورتی کمیٹی کی تشکیل ہویا تنظیم سازی کے اصول انہوں نے ہمیشہ میرا حوصلہ بڑھایا۔”حریم فن “ ادبی تنظیم جس کی وہ روح رواں تھیں اس کے زیر اہتمام میرے افسانوں کی پہلی کتاب” منظر خواب دریچے“ کی تقریب رونمائی کروائی ۔۔۔وہ لمحات ناقابل فراموش ہیں جب جناب عاصی کرنالی ثمر آپا نے میرے گھر تشریف لاکر کشفی ملتانی پر میرے تحقیقی مضمون کی تحسین کرتے ہوئے اور شاعری کی کتاب” سفر آغاز کرتے ہیں“ کی جنگ ایکسی لینس ایوارڈ میں نامزدگی کی مبارک باد دیتے ہوئے اپنا ڈاکٹریٹ کا مقالہ مجھے بطور انعام دیا جب میری یہ خوشی اعزازمیں ڈھل رہی تھی تو ثمر آپا نے کہا ”صائمہ میں آپ کا قلمی مستقبل بہت روشن دیکھ رہی ہوں کسی بھی حال میں قلم وعلم کا سفر نہ چھوڑنا “میرے علاوہ ان کی تمام شاگرد شاعرات اور لکھاری خواتین اس بات سے ضرور اتفاق کریں گی کہ انہوں نے اپنی تمام زندگی علم وادب کی خدمت میں گزاری اور خصوصاخواتین لکھاریوں کی بے حد حوصلہ افزائی کی۔
ثمر آپا اور میری ساس امی ملتان ایک بڑےتعلیمی ادارے میں کولیگ بھی رہیں۔جب کبھی اکٹھی ہوتیں تو ایک دوسرے کی خوب تعریفیں کرتیں میں نے ایک مرتبہ” جرات بہوانہ “کرکے ازراہ مذاق کہا کیا زمانہ واقعی بدل چکا ہے دس منٹ سے زائد وقت میں دو بزرگ خواتین صرف ایک دوسرے کی تعریف میں کیسے مصروف و مشغول ہوسکتی ہیں؟
ثمر آپا نے حسب عادت چٹکتے ہوئے کہا ۔۔۔
”جناب یہ انجمن ستائش باہمی کا اجلاس ہوا چاہتا ہے ۔اگر تمام خواتین ایسے جلسوں کی عادت ڈال لیں تو باہمی جلن کے بہت سے مسائل حل ہوجائیں گے ۔اور یہ ہمیں بزرگ کہنے کی سزا کے طور پر آپ سبز الائچی کی چائے ہمیں ابھی پلوائیے بس خود بنا کر لائیے بقلم خود“ ۔۔۔۔۔ڈاکٹر انور سدید نے اپنے ایک تاثراتی مضمون دل کی وہی تنہائی پر تبصرہ میں ثمر آپا کی چائے کے تیز گہرے قہوے اور جناب عاصی کے اسی کڑوے قہوے میں شکر ڈالنے کا ذکر بہت دل نشین انداز میں کیا ہے ۔۔۔
اپنے مجازی خدا جناب عاصی کرنالی سے ان کی محبت ایک نہایت خوشگوار بے تکلفی اور اطاعت شعاری کی ایک مثال تھی ۔آپ ملتان کے بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کہلاتے تھے۔ادب کی بنیادی قدر تخلیق برائے انسانیت ہے اور انہوں نے اسی اصول و قدر کو ہمیشہ اپنایا۔۔۔۔کبھی مسلکی اختلافات کو گھریلو رنجشوں کی بنیاد نہ بننے دیا۔۔۔اگر ادیبوں شاعروں کی زندگی میں محبت ٹھہراو اور سکون مل جائے تو تخلیقی زندگی آسانی ہوجاتی ہے ۔ثمر بانو ہاشمی نے ایسی ہی سہل زندگی کی بنیاد خود رکھی ۔ایم اے اردو ایم اے فارسی بی ایڈ کے بعد تدریس کا سفر بچوں کی تعلیم و تربیت اور ان کی شادی بیاہ اور پھر گل وبلبل کی باتیں گویا ان کا شبستان غزل تہذیب و شائستگی سے فروزاں ہی نظر آتا ہے ۔گھر داری کی الجھنیں تتلیاں کرنیں پھول ہوا افسانے شاعری بذلہ سنجی برجستہ طنزیہ چٹکلے یہ سب باتیں ہم سب کی ثمر آپا میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھیں۔۔۔۔ان کا یہ شعر میرے بک شیلف میں ان کی تحفہ کردہ کتابوں ”صرف خواب میرے ہیں “
سلسلے درد کے “دل کی وہی تنہائی “ پر آٹو گراف کی صورت میں جھلملارہا ہے۔
یوں تو ہر لحظہ مروت تھی پذیرائی تھی
پر عجب بات کہ دل کی وہی تنہائی تھی
وہ ایک دوسرے کے خیال حسن کو حسن خیال بخشتے رہے ثمر آپا نے بھی عہد منافقت میں زندگی گزاری مگر کمال فن سے بہت کامیاب گزاری۔وہ عاصی صاحب سے بہت محبت کرتی تھیں اسی لیے ایک سال کی جدائی ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی ۔۔ابھی عاصی صاحب کی برسی کو چند دن ہی گزرے تھے کہ انہوں نے بھی اپنا رخت سفر باندھ لیا آخر میں میں کیوں نہ لکھوں کہ یہ ہستیاں باغبان ادب تھیں انہیں اہل گلستان کی دعا چائیے تھی اسی لیےوہ ساری زندگی دعائیں لیتی رہیں اور دعائیں دیتی رہیں یہی ان کی کامیابی کا راز تھا صائمہ نورین بخاری ۔
Comments

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker