سمیع چوہدریکالمکھیللکھاری

سمیع چوہدری کا کالم: مگر ہیری بروک میلہ لوٹ گئے

رواں سال جون میں جب ویسٹ انڈین ٹیم اپنا ادھورا دورہ مکمل کرنے پاکستان آئی تو سبھی میچز ملتان منتقل کر دیے گئے۔ پی سی بی کی جانب سے اس کی وجہ کچھ یوں بیان کی گئی کہ چونکہ لاہور اور کراچی کی پچز پہ تعمیرِ نو جاری ہے لہٰذا ان دونوں وینیوز پہ کرکٹ ممکن نہیں تھی۔
رمیز راجہ جب سے پی سی بی کے ’اقتدار‘ میں آئے ہیں ان کا ہر دوسرا جملہ پاکستانی پچز کے بارے میں رہا ہے۔ وہ آتے ہی پاکستانی پچز کا چہرہ بدل دینے کی باتیں کیا کرتے تھے۔
ایک بار تو آسٹریلیا سے ڈراپ اِن پچز درآمد کرنے تک کی داغ بیل ڈال دی۔ وہ تو بھلا ہو آسٹریلوی کیوریٹرز کا جنھوں نے یہ بات سمجھائی کہ حضور! پاکستان کے موسمی حالات میں ڈراپ اِن پچز محض وقت اور پیسے کا ضیاع ہوں گی۔
لیکن ڈراپ اِن پچز کا منصوبہ رد ہو جانے کے باوجود رمیز راجہ کے عزائم پست نہیں ہوئے اور وہ بارہا دہراتے پائے گئے کہ اگر ان پچز کی حالت نہ بدلی گئی تو پاکستان کرکٹ کی قسمت بھی نہیں بدل پائے گی اور وہ اسے بدل کر چھوڑیں گے۔
سو، اس قدر ہنگامے کے بعد کل شب نیشنل سٹیڈیم کراچی میں جس پچ کی رونمائی کی گئی، اس سے گماں ہوا کہ شاید ورلڈ کپ آسٹریلیا سے بنگلہ دیش منتقل ہو چکا ہے اور اسی کی تیاری کے لیے یہ بے جان قطعۂ ارض معرضِ وجود میں لایا گیا ہے۔
جس نفاست سے یہ پچ تیار کی گئی، قیاس کیا جا سکتا ہے کہ کیوریٹرز نے گھاس پھوس نما کسی بھی شے کو آلودگان کے زمرے میں شمار کیا اور پچ کی حدود میں پھٹکنے بھی نہیں دیا۔
وسیم اکرم جو شروع میں اس پچ کے حوالے سے قدرے پُرامید نظر آ رہے تھے، آخری آدھے گھنٹے تک وہ بھی وقار یونس کی تائید کرنے پہ مجبور ہو چکے تھے کہ یہ پچ ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے بالکل موزوں نہ تھی، جہاں بیٹنگ صرف نئے گیند کے سامنے سہل تھی اور اس کے بعد محض ایک آزمائش تھی۔
بابر اور رضوان نے بھی اپنے تئیں سٹرائیک ریٹ کے ناقدین کو جواب دینے کی بھرپور کوشش کی اور پاور پلے میں خاصے کامیاب بھی رہے مگر جونہی گیند پرانا ہوا، پچ نے اپنا رنگ دکھایا اور پاکستانی اوپنرز کے عزائم تشنۂ تکمیل رہ گئے۔
اور ایک بار پھر پاکستان کو گزند وہیں سے پہنچی جو رواں سیزن میں اس کا مستقل المیہ رہا ہے۔ مڈل آرڈر کے لیے مطلوبہ سٹرائیک ریٹ اور اننگز کے کوٹے میں تال میل پیدا کرنے کی کوشش سارا حساب کتاب گڑبڑا دیتی ہے۔ یہاں پاکستان نے ایک نئے مڈل آرڈر کو آزمایا اور محض ایک ناکامی پہ اسے ہدفِ تنقید بنانا بلا جواز ہو گا، مگر سپن کے خلاف پاکستانی بیٹنگ کی مشکلات اب واقعی ایک عقدہ بنتی جا رہی ہیں۔
ایشیا کپ کے آخری دو میچز سے نمودار ہونے والا یہ اچھوتا مخمصہ ایک بار پھر کراچی میں بھوت بن کر منڈلاتا۔ کیونکہ اگر پاکستان کے دو تجربہ کار بلے باز گوگلی کو ہی سمجھ نہ پائیں تو یقیناً عقل ذرا ڈگمگانے لگتی ہے۔
بابر اعظم اور محمد رضوان کی پارٹنرشپ نے انگلش بولنگ پہ بھرپور دباؤ ڈال رکھا تھا مگر عادل رشید کی گوگلیاں انگلینڈ کو اس میچ میں واپس لے آئیں۔ جس طمطراق سے بابر اعظم نے اننگز کا آغاز کیا، اس سے یہ جھلکتا تھا کہ وہ 180 کے لگ بھگ مجموعہ جڑنا چاہتے ہیں۔
مگر لیوک ووڈ کی ڈیتھ اوورز بولنگ نے پاکستانی مڈل آرڈر کی ساری حکمتِ عملی کو الجھا چھوڑا اور پاکستان اس قابلِ دفاع مجموعے کی لکیر سے پندرہ رنز پیچھے رہ گیا جہاں سے یہ بولنگ اٹیک پاکستان کی فتح کو یقینی بنا سکتا۔
ایلیکس ہیلز نے تو تین سال بعد انٹرنیشنل کرکٹ میں اپنی واپسی کا جشن منایا ہی، مگر ہیری بروک تو میلہ ہی لوٹ گئے۔ بروک کی بلے بازی میں اِک عجیب سے ادائے بے نیازی ہے جو ماڈرن ٹی ٹونٹی پلئیرز میں عموماً دیکھنے کو نہیں ملتی۔ اور پھر تکنیک پہ مکمل عبور ان کی اس خاصیت کو پرفیکشن کے قریب لے جاتا ہے۔
ایلیکس ہیلز ہوں، بابر اعظم ہوں کہ محمد رضوان، اگر کراچی کی اس پچ کو کوئی کماحقہ سمجھ پایا تو وہ ہیری بروک تھے۔
ان کے بلے سے نکلنے والا ہر سٹروک تحسین کے لائق تھا۔ اس مشکل دھیمے باؤنس کی پچ پہ جس سمجھداری سے انھوں نے انگلش اننگز کو سنبھالا دیا، اگر وہ شاملِ حال نہ ہوتا تو شاید پاکستانی پیسرز ڈیتھ اوورز میں واقعی کوئی جادو جگا جاتے اور میچ کو سر کے بل پلٹ دیتے۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker