سروش خانکالملکھاری

کلبھوشن کیس:کیا نظر ثانی فوجی عدالت میں ہونی چاہیئے ؟ سروش خان

’عالمی عدالت انصاف نے بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد کردی۔‘
یہ وہ جملہ ہے جو پاکستان کی بیشتر اردو انگریزی ویب سائٹس اور اخبارات نے 17 جولائی کے فیصلے کے بعد بطور سرخی اختیار کیا۔
بات اہم ہے بھی اور نہیں بھی۔ آپ پوچھیں گے کہ اہمیت نہ ماننے کی بنیاد کیا ہے تو اس سے پہلے آپ کو پاکستان اور بھارت میں پولیس کارروائیوں اور عدالتی طریقہ کار کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ مقدمے کو ’بھاری بھرکم‘ بنانے اور مخالف پارٹی پر دباؤ بڑھانے کے لیے ملزم کے بہن بھائیوں، ماں باپ اور بعض اوقات دوستوں کو ملوث کردیا جاتا ہے۔ کون مجرم اور اور کون بے قصور یہ تو بعد میں پتہ چلتا ہے لیکن اس وقت تک انہیں ٹھیک ٹھاک رگڑا لگ چکا ہوتا ہے۔



بھارت نے یہ چال ذرا اور طریقے سے چلی۔وہ چونکہ خود عالمی عدالت انصاف میں گیا اس لیے اس نے کلبھوشن کی بریت، رہائی اور بھارت واپسی جیسے مطالبات بھی ڈال دیے جن کے بارے میں اسے یقین تھا کہ عالمی عدالت انہیں منظور نہیں کرے گی۔ ’بھاری بھرکم‘ مطالبات کے بیچ بھارت اپنا سب سے بڑا اور اہم مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہا یعنی کلبھوشن کو قونصلر رسائی کا حق، جسے پاکستان نے مسترد کردیا تھا۔ اس فیصلے میں بھارت کو اضافی ریلیف یہ ملا کہ عالمی عدالت انصاف نے پاکستان سے مطالبہ کیاکہ وہ کلبھوشن کو دی جانے والی سزا پر نظر ثانی کرے۔ میری یہ تحریر اسی ضمن میں ہے۔
پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیز نے کلبھوشن کی گرفتاری مارچ 2016ء کو اس وقت ظاہر کی جب ایران کے صدر حسن روحانی پاکستان کے دورے پر تھے۔ اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کی اور آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نے ملاقات میں پاکستان کےداخلی معاملات خصوصاً پاکستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی راکی مداخلت کا معاملہ بھی اٹھایا۔ بھارتی جاسوس کے خلاف اکیس ستمبر 2016ء کو ملٹری کورٹ میں کارروائی کا آغاز کیا گیا اور 10 اپریل 2017ء کو ملٹری کورٹ نے پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے جرم میں اسے سزائے موت کا حکم دیا جس کی توثیق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی۔ بھارت کی جانب سے عالمی عدالت میں معاملہ لے جانے کے سبب کلبھوشن کی سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا اور پھر عالمی عدالت نے17 جولائی کا فیصلہ سنا دیا۔



کلبھوشن جادیو کے مقدمے کی نظر ثانی کون سی عدالت کرے گی؟اس بارے میں پاکستان میں قانون دان منقسم ہیں۔ کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ سول عدالتیں جیسے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کو نظر ثانی کا اختیار ہے، دوسروں کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق نظر ثانی وہی عدالت کرسکتی ہے جس نے فیصلہ سنایا ہو۔ میں کوئی قانونی ماہر نہیں اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ پاکستان کے مقتدر ادارے اس بارے میں کیا فیصلہ کریں گے تاہم میری خواہش ہے کہ کلبھوشن جادیو کے مقدمے پر نظر ثانی فوجی عدالت کرے۔ سول عدالتیں ٹھوس اور ناقابل تردید ثبوتوں کی بنا پر فیصلے کرتی ہیں۔ کلبھوشن سول عدالت میں اپنے وڈیو بیان سے بھی مُکر سکتا ہے۔ وہ کہہ سکتا ہے کہ یہ بیان اس پر دباؤ ڈال کر لیا گیا ہے۔بار ثبوت پاکستان کے سکیورٹی اداروں پر ہوگا اور ملک کی ساکھ داؤ پر لگی ہوگی۔ یہ بہت ہائی فائی کیس ہے اور پوری دنیا کی نظریں اس پر جمی ہوں گی۔ اس لیے ہمیں کوئی ’رسک‘ نہیں لینا چاہیے۔ ہمیں اصولی موقف اپناتے ہوئے مقدمے کی نظر ثانی ملٹری کورٹس میں کرانا ہوگی۔



دنیا بھر میں ملٹری کورٹس کی سماعت ان کیمرہ ہوتی ہے۔ اس لیے دنیا کی کوئی اتھارٹی ہمیں کھلا مقدمہ چلانے پر مجبور نہیں کر سکے گی۔ پاکستان عالمی عدالت کے فیصلے سے مکمل انحراف بھی کر سکتا تھا لیکن اس نے ذمہ دار ملک ہونے کا ثبوت دیا اور فیصلہ آنے کے دو روز بعد ہی کلبھوشن کو قونصلر رسائی دینے کا اعلان کیا ہے۔ میرے خیال میں اتنا کافی ہے۔نظر ثانی کا فیصلہ کسی بیرونی دباؤ کے بغیر ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان کی سول عدالتیں پہلے ہی بہت قسم کے دباؤ کا سامنا کررہی ہیں۔ انہیں امتحان میں ڈالنا مناسب نہیں ہوگا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker