کوئٹہ : بلوچستان بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروس تیسرے روز بھی معطل رہی ہے۔ موبائل انٹرنیٹ سروس کی معطلی سے لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ اس سے ہزاروں افراد کا کاروبار بھی متاثر ہو رہا ہے۔ بلوچستان حکومت کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق صوبے میں سکیورٹی خدشات کی وجہ سے انٹرنیٹ کی موبائل سروس معطل کی گئی ہے۔ ماضی میں چند علاقوں میں مخصوص وقت تک سروس معطل کی جاتی رہی ہے۔ اس سے قبل کبھی پورے صوبے میں اس طرح سروس معطل نہیں رہی ہے۔
چیمبر آف سمال انڈسٹریز کوئٹہ کے صدر میر مراد بلوچ نے اس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن بلوچستان میں انٹرنیٹ سے ہزاروں افراد کا کاروبار جڑا ہوا ہے۔
ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ موبائل فون انٹرنیٹ بندش سے ان کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوڈ ڈیلیوری، ای کامرس، موبائل بینکنگ اور فری لانسنگ سے وابستہ یومیہ اجرت کمانے والے افراد اس سے بُری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی مکمل بندش کی بجائے بلوچستان میں روزگار کے تحفظ کے لیے انٹرنیٹ کی متوازن بندش کی پالیسی اپنائی جائے۔
دوسری جانب موبائل انٹرنیٹ سروس کی معطلی کے خلاف سینٹ میں تحریک التوا بھی جمع کرائی گئی ہے ۔ یہ تحریک التوا سینیٹر کامران مرتضیٰ نے جمع کرائی ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی ۔۔ اردو )
فیس بک کمینٹ

