ارشد چوہدریپنجابتجزیےلکھاری

ارشد چوہدری کی خصوصی رپورٹ : سینیٹ انتخابات ،کیا پنجاب میں پی ٹی آئی مشکلات سے دوچار ہے؟

پاکستان کی سیاست میں ایک جانب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حکومت مخالف تحریک چل رہی ہے تو دوسری جانب سینیٹ انتخابات میں جوڑ توڑ کا سلسلہ عروج پر پہنچ چکا ہے۔ مارچ میں متوقع سینیٹ الیکشن میں حکمران اتحاد کی مطلوبہ نشستوں پر کامیابی چیلنج بن گئی ہے جبکہ اپوزیشن جماعتیں بھی اپنی عددی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔ حکومت اپنے ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے کی یقین دہانی کرا رہی ہے جبکہ دوسری جانب خفیہ ووٹنگ کا قانون تبدیل کر کے اوپن ووٹنگ کا طریقہ طے کرنے کی جدوجہد بھی جاری ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے دعویٰ کیا ہے کہ حکمران اتحاد کو خفیہ ووٹنگ میں اپنے ارکان کے ووٹ ’اِدھر اُدھر‘ ہونے کا خوف ہے۔ تاہم حکومت پرامید ہے کہ سینیٹ انتخابات میں پنجاب سمیت تمام صوبوں میں ان کے امیدوار بھرپور طریقے سے کامیاب ہوں گے۔ پنجاب میں سینیٹ نشستوں پر پارٹی پوزیشن کیا ہے؟ آئینی طور پر سینیٹ انتخابات میں دیگر صوبوں کی طرح پنجاب میں بھی 22 میں سے ریٹائر ہونے والے 11 سینیٹرز کی خالی نشستوں پر انتخاب ہوگا۔ پنجاب کے ایوان میں کل 371 ممبران میں سے اس وقت 368 موجود ہیں، جن میں حکومتی اتحاد پی ٹی آئی، پاکستان مسلم لیگ ق اور راہ حق پارٹی کے کل ممبران کی تعداد 192 ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبران کی تعداد 172 ہے اور چار اراکین اسمبلی آزاد ہیں۔ اس پارٹی پوزیشن کے مطابق سینیٹ کے آئینی فارمولے کے تحت 11 نشستوں میں سے دو ٹیکنوکریٹ، دو خواتین جبکہ سات جنرل نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔ پارٹی ممبران کے ووٹوں کا تناسب سینیٹ کی جنرل نشستوں پر حصہ لینے والےسات امیدواروں کے لیے48.5 ووٹ ہر امیدوارکو لینا لازمی ہوں گے جبکہ دو ٹیکنوکریٹ اور دو خواتین نشستوں کےامیدواروں کو تمام اراکین اسمبلی ووٹ ڈالیں گے اور زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار ترتیب سے کامیاب قرار دیے جائیں گے۔ پارٹی پوزیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے اس فارمولے کے تحت 11 میں سے چھ نشستیں حکومت جبکہ اپوزیشن کو پانچ نشستیں ملنی چاہییں یعنیٰ ٹیکنوکریٹ اور خواتین کی چار نشستوں میں سے دو حکومت اور دو پر اپوزیشن کے امیدوار کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح سات جنرل میں سے چار حکومتی اتحاد اور تین اپوزیشن کی نشستیں بنتی ہیں۔ کامیابی کے اس تناسب کو قائم رکھنے کے لیے حکومت اوپن ووٹنگ کے لیے ترمیم چاہتی ہے مگر اپوزیشن کا کہنا ہے کہ جس طرح سابقہ سینیٹ الیکشن میں پنجاب سے مبینہ طور پر اراکین ’خرید‘ کر خفیہ ووٹنگ کے تحت پی ٹی آئی نے اپنے امیدوار چوہدری سرور کو کامیاب کرایا تھا، اب انہیں خوف ہے کہ ان کے اراکین وفاداریاں تبدیل نہ کریں۔ پنجاب میں حکومت اور اپوزیشن کے دعوے سینیٹ انتخابات کے حوالے سے مسلم لیگ ن پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جس طرح وفاق میں وزیر اعظم نے سینیٹ انتخابات میں فنڈز دینے کا اعلان کیا اسی طرح پنجاب میں بھی اڑھائی ارب روپے کے فنڈز ترقیاتی فنڈز کے نام پر صرف حکمران جماعت کے ممبران کو جاری کیے جا رہے ہیں۔ ’یہ دراصل ممبران کو ووٹ دینے کے لیے رشوت دی جا رہی ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی میں تین گروپ بن چکے ہیں، جو ان کے جھانسے میں آنے کو تیار نہیں لہذا حکومت اپنی پالیسیوں کی وجہ سے متوقع نشستوں سے کم ہی جیتے گی۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے جس طرح ہارس ٹریڈنگ سے چوہدری سرور کو جتوایا تھا اب اسی طرح انہیں خوف ہے کہ ان کے اراکین وفاداریاں تبدیل نہ کرلیں۔ ’حکمران اتحاد کافی مشکلات سے دوچار ہے اسی لیے کبھی ووٹنگ کا طریقہ بدلنے، کبھی اراکین کو لالچ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں کوئی خوف نہیں ہمارے اراکین اپوزیشن امیدواروں کو ہی ووٹ دیں گے۔‘ دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن بلاوجہ پروپیگنڈہ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ممبران کو فنڈز کا اجرا معمول کا حصہ ہے جبکہ اپوزیشن جماعتیں اوپن ووٹنگ کی مخالفت اس لیے کر رہی ہیں کہ ان کے اپنے اراکین قیادت سے مایوس ہوگئے ہیں اور یہ ہارس ٹریڈنگ کا خاتمہ نہیں چاہتے کیونکہ چور راستوں سے کامیاب ہونے کے علاوہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں۔فردوس عاشق اعوان نے دعویٰ کیا کہ حکمران اتحاد پنجاب سے سینیٹ کی مطلوبہ نشستوں سے زائد حاصل کرے گا۔ ’ہمیں کوئی خوف نہیں اس بار انتخابات شفاف کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘ اطلاعات کے مطابق سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ نے حکومت اور اپوزیشن کو تجویز پیش کی ہے کہ معاملات افہام و تفہیم سے حل کیے جائیں، جوڑ توڑ چھوڑیں اور فارمولے کے تحت حکومت اور اپوزیشن امیداروں کو کامیاب کرائیں تاکہ جس کا جو آئینی حصہ ہے اسے مل جائے اور کوئی اپ سیٹ بھی نہ ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر جوڑ توڑ کی سیاست ہوئی تو حکومت اور اپوزیشن ممبران اپنی مرضی کے مطابق کسی کو بھی ووٹ ڈال سکتے ہیں، جس سے دونوں طرف نشستیں اوپر نیچے ہونے کا خطرہ رہے گا۔ تاہم دونوں جانب سے اس تجویز پر اپنی قیادتوں سے مشاورت کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ ( بشکریہ : انڈپینڈنٹ اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker