پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے جنوبی افریقہ کے خلاف جاری دوسرے ٹیسٹ کے دوران گذشتہ روز ون ڈے سیریز کے لیے نئے کپتان کا اعلان کیا اور شاہین شاہ آفریدی کو یہ ذمہ داری سونپ دی۔
عاقب جاوید کی سربراہی میں پی سی بی نے وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان کی جگہ 25 سالہ فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کو فیصل آباد میں جنوبی افریقہ کے خلاف 4 نومبر سے شروع ہونے والی تین میچوں کی سیریز سے قبل 32ویں ون ڈے کپتان کے طور پر نامزد کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر پاکستان میں کپتانی کی تبدیلی کو ’میوزیکل چیئر کے کھیل‘ سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور اس فیصلے کے بعد جہاں چیف سیلیکٹر عاقب جاوید کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہیں رضوان کے بطور کپتان ریکارڈ کو بھی پیش کیا جا رہا ہے۔
شاہین شاہ نے اس سے قبل ٹی20 انٹرنیشنل میں پاکستان ٹیم کی کپتانی کر رکھی ہے لیکن نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیم کی خراب کارکردگی کے بعد ان کی جگہ سلمان آغا کو یہ ذمہ داری سونپ دی گئی۔
شاہین شاہ کی قیادت میں لاہور قلندرز نے دو پی ایس ایل ٹائٹل جیتے اور یہ ان کا بڑا کارنامہ کہا جائے گا۔ جبکہ محمد رضوان نے آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ میں میزبان ٹیموں کے خلاف سیریز میں تاریخی فتوحات حاصل کیں لیکن چیمپیئنز ٹرافی، نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز میں حالیہ شکستوں کی وجہ سے ان کی ساکھ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔
لوگ اس بات پر بھی حیرت میں ہیں کہ اس تبدیلی کی کوئی وضاحت بھی پیش نہ کی گئی۔ درحقیقت، آفیشل بیان میں وکٹ کیپر بلے باز کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔ پی سی بی کے مطابق یہ فیصلہ اسلام آباد میں سلیکشن کمیٹی اور وائٹ بال کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کے درمیان ہونے والی میٹنگ کے بعد کیا گیا۔
محمد رضوان نے 20 ونڈے انٹرنیشنل میں پاکستان کی قیادت کی ہے جس میں انھیں 9 میچوں میں فتح جبکہ 11 میں شکست کا سامنا رہا۔ لیکن آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ جیسی ٹیم کو ان کے عروج پر ان ہی کے گھر میں شکست دینے کا سہرا بھی ان کے سر جاتا ہے۔
انھوں نے کپتان کی حیثیت سے 41 رنز فی اننگز سے زیادہ کی اوسط سے رنز بنائے۔ انھوں نے دو ٹیسٹ میچز میں کپتانی کی لیکن دونوں میں انھیں شکست ہوئی اور چار ٹی-20 انٹرنیشنل میں بھی شکست کا منھ دیکھنا پڑا۔
اگر شاہین شاہ آفریدی کا ریکارڈ دیکھا جائے تو انھوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹی-20 میں کپتانی کی اور پانچ میچ کی سیریز ایک کے مقابلے چار میچز سے ہار گئے۔
بہر حال پاکستان کرکٹ میں کپتانی کی تبدیلی ٹیم میں عدم استحکام کی نشاندہی کرتی ہے اور وہ بھی اس وقت جب ٹیم 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ کی تیاری کر رہی ہے۔
بی بی سی نے کرکٹ تجزیہ کار سمیع چودھری سے کپتان رضوان کو ہٹانے کے سبب کے متعلق بات کی تو انھوں نے کہا: ’کپتان کی تبدیلی پی سی بی کے لیے بچوں کے کھیل سا بن گئی ہے، اگر رضوان کی معطلی کی بنیاد چیمپئینز ٹرافی میں کارکردگی تھی تو یہ فیصلہ چھ ماہ پہلے کیوں نہیں ہوا؟ پی سی بی نے جو پریس ریلیز جاری کی ہے، اس میں تو رضوان کا نام تک مذکور نہیں ہے، ایسے میں یہ کسی ادارہ جاتی فیصلے کی بجائے ایک شخصی فیصلہ دکھائی دیتا ہے جس میں شخص کا تعین بھی آسان نہیں۔‘
شاہین شاہ کے متعلق ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’شاہین کی عمر ایسی ہے کہ وہ مزید چار سال بآسانی کھیل سکتے ہیں اور پاکستان کے لیے ایک لانگ ٹرم سرمایہ کاری ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کا پچھلا کپتانی کا دورکامیاب نہیں رہا مگر تب پوری ٹیم ہی تعمیرِ نو سے گزر رہی تھی، اب انھیں ایک مستحکم ٹیم ملی ہے اور وہ اسے مزید آگے لے جانا چاہیں گے۔‘
عاقب جاوید اور لاہور قلندر کے حوالے سے سوال کے جواب میں سمیع چوہدری نے کہا: ’اگر کاغذ پر دیکھا جائے تو دو سال پہلے ہی عاقب جاوید لاہور قلندرز سے علیحدہ ہو چکے ہیں اور تب سے اثرورسوخ قلندرز کا نہیں بلکہ عاقب جاوید کا بڑھا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’محسن نقوی کا طریق ہے کہ جب بھی وہ کسی ایک پہ اعتماد کر بیٹھتے ہیں، ساری لگامیں اس کے ہاتھ تھما دیتے ہیں۔ ان سے پہلے وہاب ریاض کو بھی یونہی خودمختاری دی گئی تھی، اب عاقب کا بھی وہی معاملہ ہے۔‘
( بشکریہ : بی بی سی )
فیس بک کمینٹ

