شاہد مجید جعفریلکھاریمزاح

لکڑ بابے اور ان کی اقسام ۔۔ شاہد مجید جعفری

کافی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ بندے نے مال روڈ پر ایک اکہرے ،مائل بہ لاغرت ، سوکھے سڑے اور چھریرے بدن والے صاحب کو دیکھا ، ایسا سوکھا بدن کہ انہیں دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ جیسے کسی نے ہینگر پر شرٹ کو لٹکا رکھا ہو کمر ان کی ایک دم سیدھی ،سر پر ہیٹ ہاتھ میں سٹک پکڑے وہ بالکل پریڈ کے انداز میں لیفٹ رائیٹ کرتے چلے جا رہے تھے کہ اچانک سامنے ایک گٹر آگیا جس کا ڈھکن کھلا ہوا تھا وہ موصوف چونکہ گردن اکڑائے ناک کی سیدھ میں چلے جا رہے تھے اس لیے سیدھے گٹر میں جا گرے۔انہیں دیکھ کر لوگ بھاگ کر ان کے پاس پہنچے اور جیسے تیسے ان کو گٹر سے باہر نکالا تو انہوں نے باہر نکل کر ادھر ادھر دیکھے بغیر بڑے مشینی انداز میں انہیں گٹر سے باہر نکالنے والے لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور پھر اسی طرح گردن اکڑائے ناک کی سیدھ میں چلنا شروع ہو گئے انہیں یوں بے نیازی سے جاتے دیکھ کر کسی نے پوچھا کہ یہ کون صاحب تھے؟ تو وہاں پر کھڑے ایک من چلے نے جل کر جواب دیا لکڑ بابا۔
تو پیارے پڑھنے والو ! اوپر بتائے گئے لکڑ بابوں کے علاوہ بھی ہمارے ہاں بابوں کی بے شمار اقسام پائی جاتی ہیں لیکن آج ہم ان میں سے صرف چند ہی بابوں کا تذ کرہ کریں گے۔
مسکین بابے۔ اس کالم میں میرٹ پر بابوں کی جس قسم کا نام سب سے پہلے آتا ہے اسے ہم مسکین بابے کے نام سے پکار سکتے ہیں یہ بابوں کی وہ قسم ہے کہ جو بے چارے پیدائشی مسکین ہوتے ہیں اتفاق یا حُسن ِاتفاق سے عموماً ان کی شادی بھی ایسی خاتون کے ساتھ ہوتی ہے جو کہ رشتے میں نہ سہی عادات میں ہلاکو خان کی بھی ماں ہوتی ہے چنانچہ یہ گھر میں سہمے سہمے رہتے ہیں اورجب یہ مسکین بابے گھر سے بیگم کی جھاڑ کھا کے آفس پہنچتے ہیں تو دفتر میں ان کا سامنا اپنے کھڑوس باس اور اس کے جونئیرز سے ہوتا ہے جو کہ روزانہ کی بنیاد پر خواہ مخواہ یا شاید کارِ ثواب سمجھ کر بات بے بات پر ان کو ڈانٹ ڈپٹ کرتے رہتے ہیں چنانچہ یہ لوگ ساری عمر افسروں کی جھڑکیاں کھا کھا کے اس امید پر ریٹائر ہوتے ہیں کہ اس کے بعد ایک طرف سے تو ان کو سکھ کا سانس ملے گا لیکن جیسے ہی یہ لوگ ریٹائر ہوتے ہیں تو اگلی صبح ان کی سب سے پہلی ڈیوٹی اپنے پوتوں کو سکول چھوڑنے ، بجلی پانی کے بل جمع کرانے اور اگر گھر میں مہمان آ جائیں تو بچوں کو باہر لے جانے کی بھی ان کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔اسی قسم کے ایک بابے کو اپنے پوتے کے پوتٹرے دھو تے دیکھ کر شاعر نے بڑا دل گرفتہ ہو کر کہاتھا کہ ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا۔

سرکاری بابے : سرکاری بابے جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے سرکاری محکموں میں پائے جاتے ہیں یہ سارا دن اپنی سیٹ پر اونگھتے ہیں اپنے آفس میں یہ لوگ کافی سخت اور کرخت واقع ہوتے ہیں لیکن جیسے ہی ان کی نظر کسی سائل پر پڑتی ہے تو یہ ایک دم چوکنے ہو جاتے ہیں ا ور اسے دیکھتے ہوئے زبانِ حال سے ” مینوں نوٹ وکھا میرا موڈ بنے” کی عملی تصویر بن جاتے ہیں اور پھر جیسے ہی سائل ان کو نوٹ دکھاتا ہے تو اسی وقت یہ حضرت ریشم کی طرح نرم و ملائم ہو جایا کرتے ہیں یہ لوگ سائل کا کام اس وقت تک نہیں کرتے کہ جب تک کہ وہ ان کو نوٹ دکھا کر ان کا موڈ نہ بناتا ہے آفس میں یہ لوگ کام کاج کم اور کسی نہ کسی “درک ” کی تلاش میں زیادہ رہتے ہیں۔
فلاسفر بابے۔ بابوں کی یہ قسم نہایت ہی سنجیدہ قسم کے لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔ ان کے چہرے پر اس قدر گمبھیرتا چھائی دیکھ کر بندہ سمجھتا ہے کہ شاید اگلے دومنٹ بعد قیامت آنے والی ہے یہ لوگ عموماً چین سموکر ہوتے ہیں اور ان کا انتخابی نشان ایک مخصوص قسم کی کھانسی ہوتی ہے جسے سن کر مخالف یہ سمجھتا ہے کہ شاید بابا جی کا ٹکٹ کٹ گیا ہے لیکن ہر دفعہ ہی اس کی یہ امید خاک میں مل جاتی ہے ان کی کھانسی اس قدر ریگولر ہوتی ہے کہ اگر یہ لوگ سگریٹ نہ بھی پی رہے ہوں تو بھی وقفے وقفے سے یہ جاری رہتی ہے۔ زیادہ پڑھا لکھا ہونے کی وجہ سے یہ لوگ ہر بات میں کوئی نہ کوئی سازشی تھیوری تلاش کر لیتے ہیں مثلاً کل ہی میں نے بابا جی کو بتلایا کہ ہمارے محلے کے کریانہ سٹور والے نے ایک دفعہ پھر گجک کی قیمت بڑھا دی ہے میری بات سن کر بابا جی نے سگریٹ کا ایک لمبا کش لیا اور پھر گہری سوچ میں ڈوب گئے اور کچھ دیر بعد سر اُٹھا کر بولے ۔ تمہیں پتہ ہے کہ یہ جو کچھ بھی کر رہا ہے نا۔۔ امریکہ کر کررہا ہے ۔ عموماً ان کا ماضی دکھ بھرا ہوتا ہے مثلاً ایک دفعہ میں نے ایک فلاسفر بابے سے کہا کہ آج رات بھی ماسی شیداں نے چاچے کو بہت پھینٹی لگائی ہے میری بات سنتے ہی بابا جی کے جسم پر ایک کپکپی سی طاری ہو گئی اور اس کے ساتھ ہی ان کو کھانسی کا اتنا شدید دورہ پڑا کہ میں سمجھا کہ اب ان کا آخری وقت آ پہنچا لیکن چند ہی سیکنڈز کے بعد ان کی طبیعت سنبھل گئی اور پھر میرے پوچھنے پر کھسیانی سی ہنسی ہنس کر بولے ماسی شیداں سے مجھے تیری چاچی یاد آ گئی۔ اور پھر ادھر ادھر دیکھ کہنے لگے اللہ بخشے اس کا ہاتھ بھی بہت بھاری تھا اس کے ساتھ انہوں نے ضمیر جعفری کا وہ مشہور شعر لہک لہک کر گانا شروع شروع کر دیا جو کہ اپنی بیگم کو یاد کر کے اکثر ہی وہ گایا کرتے تھے
میری بیگم قبرمیں سوئی ہے جس ہنگام سے
وہ بھی ہے آرام سے اور میں بھی ہوں آرام سے

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker