2018 انتخاباتشاہد مجید جعفریکالملکھاریمزاح

متبادل قائد اعظم کے نام این اے 420 کے ٹکٹ کے لئے درخواست ۔۔ شاہد مجید جعفری

بخدمت جناب متبادل قائدِ اعظم، معمارِ نیا پاکستان محترم جناب پارٹی چئیرمین صاحب ۔
گزارش ہے کہ گزشتہ روز بندے کو خواب میں آپ جناب کی زیارت نصیب ہوئی، میں نے دیکھا کہ آپ وزیرِ اعظم ہاؤس میں سر پر جناح کیپ پہنے عالمِ سرور میں کیٹ واک فرما رہے ہیں جبکہ میں نماناں آپ کے عین پیچھے جناب کے قدم مبارک پر قدم رکھتا ہوا چلا جا رہا ہوں اور ہمارے آگے آگے ڈھولچی ڈھول بجا بجا کر آپ کے وزیرِ اعظم ہونے کا اعلان کر رہا تھا واللہ کہ اس ڈھولچی کے اعلان پر میرا جی بھی دھمال ڈالنے پر کر رہا تھا اور ابھی میں نے وجد میں آکر پہلا سٹیپ لیا ہی تھا کہ کم بخت ماری آنکھ کھل گئی ۔ چونکہ اسی طرح کا خواب مجھے گزشتہ روز بھی آ چکا تھا اس لیئے میں نے اپنے پولیٹکل سیکرٹری برکت کانے کو ساتھ لیا اور اس کی تعبیر جاننے کے لیئے حکیم صاحب کی طرف چل پڑا۔جو کہ اتفاق سے مجھے راستے میں ہی مل گئے میرا خواب سن کر انہوں نے میری نبض پر ہاتھ رکھااور پھر کہنے لگے کہ رات آپ نے کیا کھایا تھا؟ تو میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ رات چوہدری صاحب کے بیٹے کا ولیمہ تھا اس لیئے جو کچھ بھی میرے ہتھے چڑھا، کھا گیا تھا ۔ اس پر حکیم صاحب میری نبض سے ہاتھ ہٹا کر بولے لبھا جی آپ کی عمر اب اتنا زیادہ کھانے کی نہیں رہی پھر کہنے لگے چونکہ رات آپ نے زیادہ کھا لیا تھا اس لیئے تبخیرِ معدہ کی وجہ سے آپ کو اس قسم کا خواب نظر آیا ہے ۔ یہ کہہ کر حکیم صاحب نے اپنی راہ لی۔
ان کے جانے کے بعد میرا پولیٹکل سیکرٹری برکت کانا بولا استاد جی لگتا ہے کہ یہ حکیم آ پ کا خواب سن کرجل گیا ہے اس لیئے ہمیں ” سیکنڈ اوپینین” کے لیئے فیکے ملنگ کے پاس جانا چاہیئے۔ برکت کانے کی بات سن کر میں نے ستائیش بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور کہنے لگا کہ علامہ صاحب تیرے جیسے بندے کے لیئے ہی کہہ گئے تھے کہ۔ یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی ۔ دل کو لگتی ہے بات بکری کی ۔اس کے بعد میں نے بطور انعام جیب سے پانچ روپے کا کھوٹا سکہ نکال کر اسے گفٹ کردیا۔ جسے دیکھ کر برکت کانے نے ایک آہ بھری اور کہنے لگا استاد جی آج کل کھوٹے سکہ بھلا کہاں چلتا ہے؟ تو میں نے اسے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بیٹا کیا خیال ہے تمہارا اگر یہ کھوٹہ سکہ چلتا ہوتا تو میں تمہیں دیتا؟۔اسی دوران ہم فیکے ملنگ کے ڈیرے پر چلے گئے۔وہاں پہنچ کر دیکھا تو وہ آلتی پالتی مارے چوکی پر بیٹھا تھا جبکہ اس کا چیلا میدا ڈڈو بھنگ گھوٹ رہا تھا۔ کمرے میں داخل ہو کر برکت کانے نے جیب سے “دوائی” (چرس) نکال کر میدے ڈڈو کے حضور بطور نذرانہ پیش کی ۔ جسے دیکھ کر اس ناشکرے نے بجائے احسان مند ہونے کے الٹا برکت کانے کی تلاشی شروع کردی ۔ اور اس کی جیب سے بچھی کھچی دوائی بھی نکال لی اس پر برکت کانا کہنے لگا کہ میدا جی آ پ نے میری دوائی بھی نکال لی ہےتو آگے سے میدا ڈڈو آنکھیں نکال کر بولا تمہارا کیا ہے تم تھانے سے اور خرید لو گے ۔ ان دنوں کی نوک جھوک سے محظوظ ہوتے ہوئے فیکا مجھ سے کہنے لگا سنائیں لبھا جی آپ کا کیسے آنا ہوا؟ تو اس پر میں نے اسے اپنا خواب سنا دیا میرا خواب سن کر وہ خوش ہوا اور مجھ سے کہنے لگا کہ لبھا جی سب پہلے تو آپ دافع بَلِّیات کے لیئے صدقہ دو (اس پر میں نے دل میں سوچا کہ صدقہ تو میں کردوں لیکن ابھی تک ہماری کوئی مرغی بیمار نہیں ہوئی) دوسری بات یہ ہے کہ تمہارا خواب اس بات کا غیبی اشارہ ہےکہ جناب چئیرمین صاحب وزیرِاعظم اور تم ان کی حکومت میں کوئی اعلیٰ عہدہ حاصل کرنے والے ہو۔اس لیئے پرانی پارٹی کو گولی مارو اور اس پارٹی کی ٹکٹ کے لیئے درخواست دے دو۔ تو جناب عالی اس مختصر سی تمہید کے بعد میں میری آپ سے التماس ہے کہ مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر مجھے حلقہ این اے 420 کے لیئے پارٹی کا ٹکٹ عطا کیا جاوے۔
سب سے پہلی اور اصلی وجہ یہ ہے کہ آپ کی خواہش و منشا کے عین مطابق میں الیکٹ ایبل کی تعریف پر پورا اترتا ہوں کیونکہ چالیس پچاس ہزار ووٹ تو میرے اپنے گھر کے ہیں۔اور اتنے ہی میں نے جعلی بنوائے ہوئے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر الیکشن میں مرنے والے خواتین و حضرات کے ووٹ ہمارے ہی بندے کاسٹ کرتے ہیں میری ایک خوبی یہ بھی ہے کہ میں عوام الناس کو (بہت اچھی طرح سے) سبز باغ دکھا کر بےوقوف بنا سکتا ہوں میری اس خوبی کا آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تیسری بیوی میں نے سبز باغ دکھا کر ہی بھگائی تھی ۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ الیکشن کمپین کے دوران روزانہ کی بنیاد پر میں لوگوں کو بریانی کھلا سکتا ہوں بلکہ میں تو اس سلسلہ میں دو تین پولٹری فارمز والوں کو ایڈوانس بھی دے چکا ہوں چنانچہ الیکشن کمپین شروع ہوتے ہی وہ لوگ اپنے فارمز کی ساری “خاموش “مرغیاں ہوٹل اور شوارمے والوں کی بجائے ہمیں دیا کریں گے۔
تیسری وجہ یہ ہے یہ کہ میرے ڈیرے پر ہر وقت چالس پچاس مشٹنڈے موجود ہوتے ہیں جو کہ میرے ایک اشارے پر ڈانگ سوٹا ۔۔وا ۔۔۔ بلکہ ” انے وا ” پھیر سکتے ہیں جس کی وجہ سے مخالف یونین پر میری دھاک بیٹھی ہوئی ہے ۔
ٹکٹ دینے کی چوتھی وجہ یہ ہے کہ جیسا کہ آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ا لیکشن کی اصل سائینس پولنگ والے دن ہی لڑی جاتی ہے اور یہ سائینس لڑانے کے لیئے بندے کے پاس کن ٹٹوں کے علاوہ نوسر بازوں کے پورےگروہ کی سہولت بھی میسر ہے اور جب مقطع میں بات سُخن گسترانہ آ ہی پڑی ہےتو یہ بتانے میں کوئی حرج نہیں کہ بندہ بقلم خود بہت بڑا نوسر باز بلکہ نوسر بازوں کے وٹس ایپ گروپ کا ایڈمن بھی ہے۔
جنابِ عالی !مندرجہ بالا معروضات کے پیشِ نظر مجھے پکا یقین ہے کہ اس حلقے کا ٹکٹ مجھے ہی عطاکیا جاوے گا –
نوٹ: اگر میرے لائق کوئی ” خفیہ” خدمت ہے تو بندہ وہ بھی کرنے کو تیار ہے۔ تسی آرڈر لاؤ بادشاہو!

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker