شاہد مجید جعفریلکھاریمزاح

پاکستان محلے کا محلِ وقوع ۔۔ شاہد مجید جعفری

پیارے پڑھنے والو جیسا کہ آپ لوگ جانتے ہیں کہ انٹر نیٹ اور دیگر زرائع ابلاغ ، مواصلات و دیگر میڈیاذرائع کی بدولت آج کی دنیا بہت سمٹ گئی ہے اسی لیئے پڑھے لکھے لوگ اسے گلوبل ویلج اور ہم جیسے ان پڑھ اسے عالمی گاؤں کے نام سے موسوم کرتے ہیں تو جناب اس عالمی گاؤں کے چکا چوند اور امیر و کبیر محلوں کو چھوڑ اس کے غالباً جنوب مشرق کی طرف واقعہ میرے اس محلے کا نام پاکستان ہے ( یہاں پر میں اس بات کی وضاحت کر دوں کہ خاص طور پر ” غالباً ” میں نے اس لیئے لکھا ہے کہ ہمارے بڑوں کا کچھ پتہ نہیں ۔ کل کلاں مکھیا کے کہنے پہ ۔۔۔ یہ۔۔۔ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ آج سے ہمارے محلے کو جنوب مشرق کی بجائے شمال مغرب لکھا اور پڑھا جائے ورنہ جمہوریت کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے) دوسری طرف عالمی گاؤں والے ہمارے محلے کو نہ صرف چنگڑ (شودر) محلہ کہتے ہیں بلکہ انہوں نے ہمارے محلے کا نام مستقل مشکوک بلکہ بستہ الف کے ملزموں کی فہرست میں درج کر رکھا ہے ۔ اسی لیئے دنیا میں کہیں بھی کوئی واردات ہو جائے تو سب کی نظریں ہماری طرف ہی اُٹھتی ہیں اور ہمارے بڑوں کو انکوائری کا کہا جاتا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے بڑے اور کچھ کریں نہ کریں موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کی ضرور پابندی لگا دیتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے محلے کے چوہدریوں نے ہمیں بڑی عیاری کے ساتھ ازبر کروا رکھا ہے کہ ہم ایک آزاد اور خود مختار قوم ہیں چنانچہ یہی بات جب میں نے ہمارے محلےمیں آئے ہوئے ایک مغربی محلے کے سیاح کو بتائی۔۔ تو میری بات سن کر پہلے تو وہ مردِ سفید بھوں بھوں کر کے رونا شروع ہو گیا ۔۔۔۔ پھر روتے روتے اچانک ہنسنے لگ پڑا ۔۔۔ اس مردِ سفید کی یہ عجیب حرکت دیکھ کر بندہ متجسس ہوا ۔ اور اس مردِ سفید سے پوچھا کہ بھائی صاحب آپ نے یہ عجیب حرکت کیوں فر مائی ؟ تو میری بات سن کر اس مرِدِسفید نے مجھے شرمندہ کرنے والی نظروں سے دیکھا لیکن اتفاق سے میں نے اس وقت میں نے اپنی آنکھوں پر بے غیرتی کی سیاہ عینک لگا ئی ہوئی تھی جس کی وجہ سے میں اس کی نظروں کی تاب لا گیا۔ اپنا وار خالی جاتا دیکھ کر وہ مردِ سفید خود ہی شرمندہ ہو گیا اور پھر۔۔۔مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا ۔۔اے مردِ براؤن ۔۔۔ جب تم نے میرے سامنے یہ بات کی تھی کہ ہم ایک آزاد اور خود مختار قوم ہیں تو یقین کرو ۔۔۔ تمہاری اس سادگی کو دیکھ کر میری چیخیں نکل گئی تھیں ۔اور میرا جی چاہا کہ میں اونچی آواز میں روؤں لیکن پھر میں نے ( غالباً 73 کے آئین کے تناظر میں ) بھوں بھوں کر کے رونے پر ہی اکتفا کر لیا ۔۔ اتنی بات کر کے اس مردِ سفید نے ایک بار پھر میری طرف دیکھا اور پھر سے غیرت کی رتی تلاش کرنے لگا ۔۔ لیکن الحمداللہ اس بار بھی وہ ناکام رہا اسی دوران تنگ آ کر میں اس سے پوچھنے ہی والا تھا کہ اے ناہنجار مردِ سفید یہ جو تم میری آنکھوں میں غیرت کی رتی تلاش کر نے کی کوشش کر رہے ہو ذرا یہ تو مجھے بتاؤ کہ میرا گناہ کیا ہے ؟ لیکن اس کی نوبت نہ آئی اور ۔۔۔ وہ ایک بار پھر مجھ سے مخاطب ہو کر بولا کہ اے ڈھیٹ الارض مردِ براؤن ۔اب دوسری بات سنو اور وہ یہ کہ ۔۔ ہنسا میں اس لیئے تھا ۔۔۔ کہ دل کے خوش رکھنے کو تمہارا یہ خیال اچھا ہے۔
۔۔ ۔ دوستو ہمارے محلے کا ” شریکا” ساتھ والے محلے سے بنتا ہے جسے ہم ہندو محلہ کہتے ہیں آج سے کچھ عرصہ قبل ہندوپاک محلہ ایک ہی ہوا کرتا تھا پھر ہم میں علیحدگی ہو گئی جس کی دیگر وجوہات کے علاوہ ایک وجہ بقول ہمارے قائد اعظم کے یہ بھی تھی کہ وہ لوگ گائے کو پوجتے تھے جبکہ ہم اسے کھاتے ہیں۔آزادی کے بعد اب ہم ان کی ثقافت کو پوجتے اور وہ ہمیں کھانے کو دوڑتے ہیں ۔۔
دوستو اس محلے سے تھوڑا آگے ایک اور محلہ آباد بھی ہے کہ جن کے ساتھ ہمارا ، مذہبی ثقافتی اور قبائلی تعلق بنتا ہے اس محلے کا نام افغانیہ ہے یہاں پر چونکہ عرصہ ء دراز سے جنگ مسلط ہے اس لیئے ہمارے اس برادر محلہ میں کوئی پیداواری کام نہیں ہوتا ۔۔ چنانچہ اسی بات کے پیشِ نظر ہم لوگ بڑی محبت اور خلوص سے اپنے برادر بھائیوں کے لیئے کھانے پینے کی اشیاء از قسم آٹا دال چاول اور چینی وغیرہ بھیجتے رہتے ہیں جواباً وہ بھی ہمیں بڑے خلوص کے ساتھ اسلحہ ، ہیروئن اور چرس وغیرہ بھیجتے رہتے ہیں تا کہ ہماری نئی و پرانی نسل کا منورنجن ہوتا رہے ۔ کچھ عرصہ قبل پتہ نہیں کس نے ہمارے برادر محلے کو کہہ دیا تھا کہ ہمارے محلے کی آبادی بہت بڑھ گئی ہے چنانچہ اس آبادی کو کم کرنے کے لیئے ہمارا یہ برادر ملک گاہے بگاہے ہمارے ہاں خود کُش حملہ آور بھیجتا رہتا ہے تا کہ ہماری آبادی کو ایک کینڈے میں رکھا جا سکے۔
ان دو کے علاوہ اور بھی دو تین محلے ہیں کہ جن کا آپ سے تعارف ضروری ہے لیکن جگہ کی کمی کے باعث ہم ان کا تعارف مؤخر کر کے آپ سے ایک ایسے محلے کا تعارف کراتے ہیں جو کہ ہے تو ہم سے دور بہت دور لیکن بقول شخصے۔۔یہ ہر ملک کا پڑوسی ہے اس کا نام امریکہ ہے جس کے بارے میں سنا ہے کہ وہ ہم سے ہر وقت ڈو مور (do more) کا ہی تقاضہ کرتا رہتا ہے کہتے ہیں کہ ہمارے محلے میں اس کی مرضی کے بغیر چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی اسی لیئے ہمارے محلے میں اگر دو مرغے بھی آپس میں لڑ جائیں تو محلے والے یہی سمجھتے ہیں کہ یہ جو کچھ بھی کروا رہا ہے امریکہ کروا رہا ہے۔ ہمارے محلے کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ایک انٹرنیشنل چوک ہے اور جیسے ہر چوک پر مزدور لوگ صبح صبح اپنا سامان لے کر مزدوری کے لیئے بیٹھے ہوتے ہیں اسی طرح اس چوک پر بھی علمائے سو، طلبہ ، سیاستدان اور میڈیا ہاؤسس کے لوگ اپنے اپنے ہتھیار سجا کر بیٹھے ہوتے ہیں بس پیمنٹ کیجیئے اور کام لیجیئے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو بقول چاچا شیدا ہمارے محلے کا اللہ ہی خدا ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker