اختصارئےبلوچستانشاہد راحیل خانلکھاری

وزیر اعظم ، چئیرمین سینیٹ اور ہز ماسٹرز وائس ۔۔ شاہد راحیل خان

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے صادق سنجرانی کو سینیٹ کا چئیرمین تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے آج تک اپنے آپ کو وزیر اعظم تسلیم نہیں کیا تو وہ بھلا صادق سنجرانی کو سینیٹ کا چیئرمین کیسے تسلیم کر لیں ؟جن کے میاں نواز شریف کی مرضی اور اجازت کے بغیر انتخاب نے جمہوریت ہی خطرے میں ڈال دی ہے۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک چھوٹے، پسماندہ صوبے کے ایک غیر معروف پاکستانی کو یہ حق کیسے دیا جا سکتا ہے کہ وہ پنجاب کے ”پردھانوں“ کے سامنے کسی اونچی کرسی پر بیٹھ سکے۔ سرکشی بلوچ فطرت کا خاصہ ہے لہٰذا صادق سنجرانی میں تا بعداری کے وہ جوہر تو نہیں ہوں گے جو ایاز صادق اور شاہد خاقان عباسی میں ہیں۔ اس لیئے وہ صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ ماننے سے انکاری ہیں اور جب میاں نواز شریف صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ نہیں مانتے تو وزیر اعظم شاہد خاقان عبا سی کیوں مانیں گے؟یہ خبریں بھی گرم ہیں کہ صادق سنجرانی کوعدم اعتماد کے ذریعے ہٹانے کا پلان زیر غور ہے ۔چلیئے مان لیتے ہیں کہ صادق سنجرانی کولا کر چئرمین سینیٹ ” لگایا “ گیا ہے توکیا چیئرمین سینیٹ کو لا کر لگانے والے اسے آسانی سے جانے دیں گے؟ میاں نوازشریف آج کل جلسوں میں شریک لوگوں سے مجھے کیوں نکالا؟ کے ساتھ ساتھ یہ بھی پوچھتے ہیں۔ کیا تم صادق سنجرانی کو جانتے ہو؟ کسی نے نام سنا ہے اس کا؟اور پھر فرماتے ہیں کہ ایک غیر معروف شخص کو جسے کوئی نہیں جانتا ، اٹھا کر سینیٹ کا چیئرمین لگا دیا۔دراصل میاں نواز شریف جتنے دباﺅ میں ہیں اس نے انہیں بڑی حد تک نفسیاتی مریض بنا دیا ہے ۔ طویل عرصہ حکمرانی نے میاں نواز شریف کے دل و دماغ میں یہ بات راسخ کر دی ہے کہ ہر ادارے کا سربراہ لگانا صرف ان کا استحقاق ہے ۔ اور وہ اپنی ذات میں جمہوری طرزحکومت کا ایک مکمل پیکج ہیں۔ ایک ایسا شخص کہ ایک مدت تک جس کے حکم سے کاروبار سلطنت کا آغاز ہوتا رہاہو اسے اب ہر دن کے آغاز پراپنے آفس کی بجائے احتساب عدالت میں ایک ملزم کے طور پر حساب دینے کے لیئے جانا پڑتا ہے۔ بھلے اس کے ساتھ کتنا بھی لاﺅ لشکر کیوں نہ ہو۔اس کی بے بسی مکافات عمل اور نشان عبرت ہی کہلائے گی۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ، میاں نواز شریف کی تا بعداری کے خول اور ان کی شخصیت کے سحر سے باہر نکل کر سوچیں توآئینی اور قانونی طور پر وہ صرف ایک جماعت کے نہیں پورے پاکستان کے وزیر اعظم ہیں۔وزارت عظمیٰ کا حلف ریاست پاکستان سے وفاداری کا حلف ہے کسی شخصیت سے نہیں۔ وزیر اعظم اپنے آپ کو خود ہی ڈی گریڈ اور انڈر ایسٹیمیٹ کریں تو اس کاکیا علاج۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا صادق سنجرانی کو چیئرمین تسلیم نہ کرنا بھی ” ہز ماسٹرز وائس“ کہا جا رہاہے۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے وزیر اعظم شاہدخاقان عباسی سے ملاقات کی خواہش کا اظہارکیاہے اور شاہد خاقان عباسی نے ملنے سے انکار کر دیاہے۔جس سے چھوٹے صوبوں کے بارے میں پنجاب کے مقتدر اصحاب کے متعصبانہ رویئے کا اظہار ہوتا ہے۔پہلے دیگر صوبوں کو بیورو کریسی سے ایسے متعصبانہ رویئے کی شکایت ہوا کرتی تھی اب یہ تعصب پاکستانی سیاست میں بھی در آیا ہے۔سیاست میں ویسے بھی بڑا گند پڑا ہوا ہے ۔گز گز بھر کی زبانیں ایک دوسرے کے خلاف زہر اگلتے ہوئے تمام اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ دیتی ہیں۔اور تو اور دوران سماعت عدالتوں کی طرف سے دیئے جانے والے ریمارکس بھی جس انداز میں سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں ، وہ بھی اس مکدر ماحول میں سونے پر سہاگہ کا کام دیتے ہیں۔عجیب دھینگا مستی کا سماں ہے ۔سب ہی سب کچھ جمہوریت بچانے اور ملک وقوم کے حالات بہتر کرنے کے مدعی ہیں۔اپنے اس دعوے میں کون مخلص ہے؟ کون حق پر ہے؟سب ہی بائیس کروڑ عوام کے حقوق کے محافظ بنے ہوئے ہیں اور بایئس کروڑ عوام ہر ماہ پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے بڑھنے والی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے انگشت بدنداں یہ تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ اوروزیر اعظم شاہد خاقان عباسی عوام کی نہیں صرف اپنے قائد میاں نواز شریف کی نمایئندگی کا پورا پورا حق ادا کر رہے ہیں۔وہ اگر صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد لاکر انہیں چیئرمین سینیٹ کے عہدے سے ہٹانے میں کامیاب ہو گئے تو اپنے قائد میاں نواز شریف کی نظروں میں سرخ رو ہو جائیں گے۔ عوام اور عوام کے مسائل جائیں بھاڑ میں۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker