شاہد راحیل خانکالملکھاری

نظریاتی شیطان ،فاروق بندیال اور پی ٹی آئی ۔۔ شاہد راحیل خان

سوشل میڈیا پر وائرل ایک پوسٹ کے مطابق ” اگر پی ٹی آئی میں شیطان بھی شامل ہونے کا اعلان کر دے تو تحریک انصاف والے یہی کہیں گے کہ یہ(شیطان) ہمارے نظریے پر آیا ہے۔ ہمارا لیڈر ٹھیک ہے ،یہ(شیطان) بھی ٹھیک ہو جائے گا“ ۔مجھے اور آپ کو اس پوسٹ سے اتفاق ہو نہ ہو مگر پی ٹی آئی کی آج کل صورت حال اس ضرب المثل جیسی بنی ہوئی ہے جس میں ایسی حالت پر کچھ یوں کہا جاتا ہے کہ ” نانی نے کھسم کیا۔برا کیا۔ کھسم کر کے چھوڑ دیا۔ بہت برا کیا “۔انسان ذاتی حیثیت میں ہو یا کسی اجتماعی حیثیت میں ، اس کا وقار اس کی سوچ اور نظریے کی بنیاد پر ہی قائم ہوتا اور قائم رہتا ہے۔ عمران خان نے بھی پاکستان میں کئی عشروں سے موجود بلکہ تسلسل سے جاری سیاسی صورت کو بدلنے کی سوچ اور نظریے کا پرچار کر کے اس قوم کو جو ایک نئی راہ دکھائی تھی، اس پر عزم وہمت سے چلنے کی بجائے اس سوچ اور نظریے ہی کو بہت جلد دفن کر دیا جو عمران خان کے وقار کا ضامن بنا اور سمجھاجارہاتھا۔ عمران خان کے اپنی سوچ اور نظریے کی راہ سے بھٹکنے کی یوں تو بہت سی مثالیں موجود ہیں مگر گزشتہ دو چار دنوں سے جو تماشہ لگا ہوا ہے اس پر عمران خان کے چاہنے والے بھی سخت اذیت اور مشکل سے دوچار ہو رہے ہیں۔بات صوبہ پنجاب اور کے پی کے میں نگران وزرائے اعلیٰ کے تقرر کی ہو یا پھر پی ٹی آئی میں دھڑا دھڑشامل ہونے والوں کی۔ یہ سب عمران خان کی سچائی، دیانت داری(جس کا کہ بزعم خود دعویٰ کیا جاتا ہے)پر ایک ضرب کاری ثابت ہو رہا ہے۔ فاروق بندیال کے حوالے سے جو شور مچا، اس پر بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ہے۔ سوشل میڈیا کا دور ہے جو بڑا بے رحم دور ہے اور کسی کو معاف نہیں کرتا۔ جس فاروق بندیال کے گلے میں عمران خان نے ایک دن اپنی پارٹی پرچم کا مفلر ڈالااور دوسرے ہی دن اتار کر اسے ” آزاد “ کر دیا ۔ اسی فاروق بندیال کو سوشل میڈیا پر دوہزار پندرہ میں مریم نواز کو چادر پہناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔اسی فاروق بندیال کی ن لیگ سے طویل وابستگی بتائی جاتی ہے ۔ہمارے سیاسی پنڈت کیا فرماتے ہیں اس بارے میں۔ فاروق بندیال نے پی ٹی آئی سے ” آزادی “ ملنے پر بجائے کسی تاسف، شرمندگی یا خفت کااظہار کرنے کے بڑی ڈھٹائی سے بیان دیا ہے کہ کالج کے دور میں ایسی چھوٹی موٹی غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں اور ساتھ ہی موصوف نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان بھی کر دیا۔گویا کسی کے گھر میں گھس کر اس کا مال لوٹنا۔ اس کے معصوم بیٹے اور بے بس شوہر کے سامنے انتہائی وحشت و درندگی سے اجتماعی عصمت دری کرنا، کالج کے دور کی معمولی، چھوٹی موٹی غلطی ہے۔ تف ہے ایسی سوچ پر۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ہماری بااختیار معززعدالتیں ،الیکشن کمشن اور آیئن میں درج شقیں،باسٹھ اور تریسٹھ اس بارے میں کیا فرماتی ہیں۔فاروق بندیال اب عمر کے اس حصے میں ہے جہاں اسے اپنی اولاد کے علاوہ اولاد کی اولاد کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہو گا۔ قبیلے اور برادری سے بھی تعلق ضرور ہو گا۔میں حیران ہوں کہ اپنی چالیس سالہ پرانی وحشت و بربریت بھری کہانی کے ایک بار پھر بھرپور طریقے سے منظر عام پر آنے کے بعد وہ کسی پشیمانی کا اظہار کرنے کی بجائے الیکشن میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے عوام کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔اور میں پیشگی اس عوام کو بھی سلام پیش کرتا ہوں جوایسے امیدوار کے لیئے زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے اپنے ووٹوں سے اس کے پولنگ بکس بھر دیں گے۔اس سارے عمل میں مجھے بیچاری شبنم پر ترس آرہا ہے جو چالیس سال پہلے فاروق بندیال اور اس کے ساتھیوں کے ظلم اور بربریت کا نشانہ بن کر مظلوم بنی تھی اور اب چار دہائیو ں بعد ہمارے ملک میں جاری غیر اخلاقی سیاسی کلچر کی بھینٹ چڑھ کر ایک بار پھر بدنامی اور اذیت کا شکار ہوگئی ہے۔چالیس سال پہلے آپنے آپ گزرنے والی قیامت کا ایک ایک لمحہ شبنم کے دل و دماغ میں تازہ ہو کر اس کی روح کو دوبارہ گھائل کر گیا ہو گا۔ اس پر ہمارے تبصرہ اور تجزیہ نگاروں نے غور ہی نہیں کیا۔ سیاست کتنی ظالم چیز ہے اور ہم ووٹرز بھی صرف ظالم ہی نہیں کتنے بے حس ہیں کہ فاروق بندیال جو کہ صرف ایک نمایئندہ کردار ہے جبکہ یہ معاشرہ ایسے کرداروں سے بھرا پڑا ہے، ان جیسے افراد کو ہی الیکشن میں ووٹ ڈال کر اپنا نمائیندہ چنتے ہیں۔ ہاں۔ میرے نزدیک پی ٹی آئی کے ورکرز اس بات پر شاباش کے مستحق ضرور ہیں کہ انہوں نے بروقت اور مؤثر احتجاج کر کے عمران خان کو فاروق بندیال جیسے لوگوں کو پارٹی میں لینے سے تائب ہونے پر مجبور کر دیا۔ سردار دوست محمد کھوسہ کی پی ٹی آئی میں عدم شمولیت اسی کا شاخسانہ قرار دی جا رہی ہے۔ میری تجویز ہے کہ اب الیکشن کے روز پی ٹی آئی کے ورکرز ایک اوربولڈ قدم اٹھائیں وہ یہ کہ جتنے ” فصلی بٹیرے “ پی ٹی آئی میں صرف الیکٹیبلز ہونے کا زعم رکھنے کی وجہ سے شامل ہوئے ہیں انہیں صرف پارٹی قیادت کے حکم پر ووٹ دینے کی غلطی ہرگز نہ کریں ۔پارٹی قیادت کے غلام بننے سے انکار کر دیں۔ ان الیکٹیبز کی ہار ان کے اس زعم اور عمران خان کی اس غلط فہمی کی موت ثابت ہو گی کہ ان کے بغیر پاکستان کا سیاسی نظام نہیں چل سکتا۔اگر یہ سب مداری ایک بار پھر پی ٹی آئی کے بلے پر لگے ٹھپوں کی وجہ سے ایوان اقتدار میں پہنچ گئے تو ملک وقوم کے مزید پانچ سال ضائع ہو جایئں گے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker