تجزیےشاہد راحیل خانلکھاری

لاڑکانہ الیکشن بھٹو کے قاتل اور بلاول ۔۔ شاہد راحیل خان

شہید بی بی کے اکلوتے سپوت بلاول نے جب اپنے نام کے ساتھ بھٹو شہید کی نسبت جوڑ کر سیاست کے میدان میں قدم رکھا تو ہم جیسے پرانے ”پپلیوں“ نے بلاول سے بہت سی امیدیں باندھ لیں۔شروع شروع میں بلاول ہماری امیدوں پر پورا اترتا ہوا بھی نظر آنے لگا۔عوامی جلسوں میں بلاول کے خطابات ، نئی سوچ، اور اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو شہیدسے مشابہت کے ساتھ ساتھ ان کے انداز کی نقل کرتا ہوا بلاول کم از کم پیپلز پارٹی کے پرانے چاہنے والوں کے دلوں میں جگہ بنانے لگا تھا۔



قومی اسمبلی میں بلاول کی ایک تقریر نے بڑے بڑوں کو بلاول کی تعریف کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔آج بھی ، سیاست میں مذہب کو استعمال نہ کرنے جیسا نظریہ اور عزم، بلاول کو دیگر سیاست دانوں سے الگ شناخت دیتا ہے۔۔مگر۔۔وائے افسوس کہ بلاول ، بہت جلد پاکستان کے ان ہی سیاست دانوں کی صف میں جا کھڑا ہوا ہے، جن کی سیاسی بصیرت محض ایک حلقے کا انتخاب جیتنے تک محدود ہوتی ہے۔



بلاول کے سیاسی رویے میں بہت جلد ایسی تبدیلی آئی ہے ، جس میں دور اندیشی اور تدبر کی بجائے ، جھنجھلاہٹ ہٹ دھرمی اور غصے کا عنصر نمایاں ہوتا چلا جا رہا ہے۔ لاڑکانہ کے ایک حلقے میں ایک صوبائی نششت ہار جانے پر بلاول نے الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دے کر نتائج ماننے سے انکار کرتے ہوئے اور الیکشن چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ، دوبارہ انتخاب کرانے کا مطالبہ سرکاری نتیجہ آنے سے پہلے ہی کر دیا ہے۔اس کی بجائے اگر بلاول اپنی پارٹی کی لاڑکانہ میں شکست کے اسباب پر غور کرنے پر توجہ دے اور خاص طور پر ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں پارٹی کے اس قدر سکڑ جانے کی وجوہات جاننے کی کوشش کرکے ان وجوہات کو دور کرے تو شاید آئیندہ انتخابات میں بہتر نتائج حاصل کر سکے۔



بہتر مستقبل کے لیئے بد حال ماضی کے چھوڑے ہوئے نشانات سے سبق حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ مگر ایساکوئی سبق پاکستانی سیاست دانوں نے نہ پہلے حاصل کیا ہے ،نہ آنیندہ ایسا کوئی امکان نظر آتا ہے۔ملک کا بیڑہ غرق ہونے کی بے شمار وجوہات ہیں۔ ہر مقتدر ادارے اور فرد نے اس خرابیءبسیار میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے۔مگر سب سے زیادہ مطعون ہمیشہ سیاست دان ہوتے رہے ہیں۔اس کے پیچھے کیا اور کون سے عوامل کار فرما ہوتے ہیں اس سے قطع نظر عوام کی نظروں میں سب سے زیادہ بدنام سیاست دان ہوتے ہیں۔اور طرفہ تماشہ یہ ہے کہ سیاست دان اس بدنامی سے نکلنے کی بجائے گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ بدنامی کی اس دلدل میں مزید دھنستے چلے جا رہے ہیں۔ایسے میں غیر سیاسی قوتیں جب مسیحائی کا روپ دھار کر اقتدار پر قابض ہوتی ہیں تو عوامی سطح پر کوئی مزاحمت نہیں ہوتی بلکہ عوام سکھ کا سانس لیتے ہیں۔۔



بات کہاں سے کہاں جا پہنچی۔۔ میں بات کر رہا تھا بلاول کے سیاسی رویے میں بدلاؤ ¾ کی۔۔آج بلاول ، مولانا فضل الرحمان کے پیچھے، چلیئے پیچھے نہ سہی ، ساتھ کھڑا ہے۔ ہم پرانے ”پیپلیوں“ نے بھٹو شہید اور مولانا مفتی محمود کی سیاسی مخاصمت اور مخالفت کا دور بھی دیکھا ہے۔ایک بلاول ہی کا دوش نہیں۔مولانا مفتی محمود کے اور ولی خان کے ایک دوسرے کے مخالف سیاسی و مذہبی نظریات کی شدت بھی دیکھی ہے۔ اور آج ، مولانا فضل الرحمان اور اسفند یار ولی کو ایک پیج پر بھی دیکھ رہے ہیں۔اور مسلم لیگ ن کی طرف سے بیگم نصرت بھٹو اور بی بی شہید کے کردار پر غلیظ الزامات کی بوچھاڑ بھی ہماری سیاسی تاریخ کا پراگندہ حصہ ہے۔۔ہم آج بھی یہی سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کے تختے تک پہنچانے کے لیئے ہمت و حوصلہ اور اپنی پوری امداد و حمایت مذکورہ بالا سیاسی جماعتوں نے فراہم کی تھی۔



آج بھٹو کے اصل وارث تو سیاست کے میدان سے باہر ہیں۔مگر بھٹو کا نواسہ بلاول ، بھٹو کے نام پر ہی سیاست میں سرگرم ہے اور ان جماعتوں کے ساتھ کھڑا ہے جن کے ہاتھ بھٹو شہید کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔۔کبھی سنا کرتے تھے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔۔اب یہ ثابت ہو رہا ہے کہ سیاست میں ضمیر نام کی کوئی چیز بھی نہیں ہوتی۔۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker