شاہد راحیل خانکالملکھاری

کیا قانون صرف اندھا ہوتا ہے؟ ۔۔ شاہد راحیل خان

سنتے آئے ہیں کہ قانون اندھا ہوتا ہے۔مگر ثابت یہ ہوا ہے کہ قانون صرف اندھا ہی نہیں ہوتا ،گونگا بہرہ بھی ہوتا ہے۔ لولالنگڑا ، اپاہج بھی ہوتا ہے اور فالج زدہ بھی۔ظلم و بربریت اور بہیمانہ اندھے قتل کے کیمروں کی آنکھ میں محفوظ وہ مناظر جو ٹی وی سکرینوں کے ذریعے ساری دنیادیکھتی رہی ہے،فیصلے کی گھڑی سفاکی کے وہ مناظر اگر قانون دیکھنے سے قاصر اور معذور ہے تو پھر یہ عمل قتل ناحق سے بڑی سفاکی ہے۔



اور ظلم و بربریت کی گواہی کے لیئے ،اسی روائتی طریقے پر چلتے ہوئے فیصلہ ، انصاف کے قتل کے مترادف ہے۔شک کی بنیاد پر قاتلوں کو بری کرنے والے قانون کے ذہن میں یہ سوال کیوں نہیں آیا کہ اگر قانون کے کٹہرے میں کھڑے ہوئے ان ملزمان نے قتل نہیں کئے تو کیا ان معصوم اور بے گناہ انسانوں کو آسمان سے اتر کر کسی خلائی مخلوق نے قتل کیا ہے؟تو ثابت ہوا کہ قانون نہ صرف اندھا ہے بلکہ اپاہج بھی ہے اور فالج زدہ بھی۔ گونگا اس لیئے کہ مظلوم کے حق میں ایک لفظ بھی ادا کرنے سے قاصر رہا اور بہرہ اس لیئے کہ چشم دید گواہ معصوم بچوں کی گواہی سن کر بھی ان سنی کر دی۔اور معصوم بچوں کے چہروں پر لکھی ہوئی ظلم کی داستان نہ پڑھ سکا۔۔قانون کے نام پر یہ لاقانونیت کب تک رائج رہے گی؟ کسی کے پاس اس کا جواب نہیں۔۔



قانون کے بہرہ ہونے کی ایک اور مثال کل اس وقت سامنے آئی جب مریم نواز نے عدالت میں اپنی پیشی کے دوران انصاف کی کرسی پر برا جمان جج صاحب سے درخواست کی کہ مجھے صرف ایک گھنٹے کے لیئے سروسز ہسپتال جانے کی اجازت دے دی جائے تاکہ میں اپنے بیمار والد سے مل سکوں تو جج صاحب نے انکار کر کے بہرہ پن کا ثبوت دیا ۔کوئی بھی صاحب اولاد ، باپ بیٹی کے رشتے میں موجود احساسات کو سمجھ سکتا ہے۔ تو ثابت یہ بھی ہوا کہ قانون کسی بھی رشتے کی وابستگی اور حساسیت سمجھنے کی صلاحیت سے بھی عاری ہے۔اور اندھا بھی کہ قانون ایک بیٹی کے چہرے پر بیمار باپ سے ملنے کی تڑپ دیکھ سکا نہ انکار کی صورت میں پابند سلاسل بیٹی کی بے بسی و بے چارگی۔



ساہیوال کے المناک سانحے کے قانونی فیصلے پر بھی سوال بہت سے ہیں اور ایک بیٹی کو بیمار باپ سے ملنے کے لیئے ایک گھنٹے کی اجازت نہ دینے پر بھی۔۔قانون انسانوں کے لیئے بنائے جاتے ہیں یا انسانوں کو بھینٹ چڑھانے کے لیئے بنائے جاتے ہیں؟اور اگر قانون مریم نواز کو اپنے بیمار والد سے ملنے کے لیئے ایک گھنٹے کی اجازت دینے پر تیار نہیں تھا تو پھر اب وزیر اعظم کی ہدایت پر مریم نواز کو ہسپتال میں میاں نواز شریف کے پاس ٹھہرانے کی اجازت کیسے دی جا رہی ہے؟ یہ سوچ کے دل دہل جاتا ہے کہ ستر کے پیٹے کی عمر کا ایک شخص ، بھلے وہ قانون کی نظرمیں جتنا بڑا ملزم بھی ہو۔ وہ بیماری کی اس خطرناک حالت میں اپنے کسی قریبی عزیز کے بغیر وقت گزار رہا ہو۔ انسان تو ذرا سی تکلیف کی حالت میں بھی خواہش کرتا ہے کہ اس کا کوئی اپنا ایسے دکھ درد کے لمحوں میں اس کے ساتھ ہو۔ اس کے پاس ہو۔۔



آج ان حالات میں ”کرپٹ شریف خاندان“ موجودہ ”دیانت دارحکمرانوں“پر اخلاقی فتح پا گیا ہے۔اور اس نے اخلاقی اور،روائتی میدان میں ”ایمان داروں اور دیانت داروں“ کو شکست فاش سے دوچار کر دیا ہے۔ہر پاکستانی کہہ رہا ہے ،حوالہ دے رہا ہے، یاد کر رہاہے کہ جب عمران خان جلسے کے سٹیج سے گر کر ہسپتال کے بستر پر جا لیٹے تھے تو ان لمحات میں آج کے مریض قیدی میاں نواز شریف نے کس اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا تھا۔” کرپٹ“ میاں نواز شریف کو سیاسی میدان میں اترنے سے تو روک دیا گیا مگر اخلاقی میدان میاں نواز شریف نے بڑے مارجن سے جیت لیا ہے۔عمران خان اب میاں نواز شریف کو تمام طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کر رہے ہیں۔ اپنے بد زبان ترجمانوں کو بھی میاں صاحب کی بیماری پر تبصرے سے روک دیاہے۔۔۔زندگی اور موت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔۔ اللہ تعالیٰ میاں نواز شریف کو صحت کاملہ عطا فرمائے۔ آمین۔۔ وزیر اعظم عمران خان کے لیئے عرض ہے کہ۔۔۔ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا۔۔۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker