شاہد راحیل خانکالملکھاری

سنجیاں گلیاں ، مرزا یار اور اعدادوشمار ۔۔ شاہد راحیل خان

کرونا وائرس جب چین کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا تو دنیاکے اکثر ممالک اسے صرف چین کا مسئلہ سمجھتے ہوئے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ دنیا کی بزعم خود سپر پاور امریکہ کے صدر ٹرمپ کے خیال میں امریکہ میں حالات قابو میں تھے اور سب ٹھیک تھا۔اور کچھ ایسا تاثر دیا جا رہا تھا کہ دنیا کی معیشت پر اپنی گرفت مضبوط کرتا ہوا چین ایک دم دھڑام سے زمین پر آگرا ہے۔دیسی زبان میں اگر بیان کیا جائے تو امریکی صدر کا رویہ اور سوچ کچھ یوں محسوس ہوتی تھی کہ۔۔کتی مرے فقیر دی ۔جہڑی چوں چوں نت کرے ۔۔پنج ست مرن گوانڈھناں۔تے باقیاں نوں تاپ چڑھے۔۔سنجیاں ہو جان گلیاں ۔تے وچ مرزا یار پھرے۔۔
سچ ہے کہ قیادت کی سوچ ، اس کارویہ اور فیصلہ ، بحران میں مبتلا قوموں کو بحران سے نکال بھی لیتا ہے ، اور بحران میں ڈبو بھی دیتا ہے ۔اپنی طاقت کے زعم میں بدمست ٹرمپ کا امریکہ آج کرونا وائرس کے متاثرین میں پہلے نمبر پر ہے اور وہی امریکہ کرونا پر قابو پانے کے لیئے چین کی طرف دیکھ رہا ہے۔
ہمارے وزیر اعظم عمران خان کو بھی ایک حلقہ ، امریکی صدر ٹرمپ کا ہم مزاج و ہم خیال سمجھتے ہوئے ان پر پاکستانی ٹرمپ کی پھبتی کستا رہا ہے۔کرونا کے بارے میں ہماری مرکزی حکومت نے وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں ٹرمپ جیسی سوچ کا ہی ثبوت دیا ہے۔ اپنے دوست چین میں کرونا کی وبا کے بھرپور وار دیکھ کر بھی مرکزی حکومت اور اس کے تمام ادارے پاکستان میں کرکٹ کی بحالی پر تالیاں پیٹتے رہے اور رہے پاکستانی عوام تو ہم اتنا ضرور کہیں گے کہ حکمرانوں کی طرح ہمارے عوام بھی ”’بادشاہ“‘ہیں۔انہیں جس ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جائے اسی کے پیچھے دوڑنے لگتے ہیں ۔
پاکستان میں جب اس وبا نے اپنا پہلا شکار کر لیا تو بھی وزیر اعظم عمران خان ”گھبرانا نہیں“ کا ورد ہی کرتے ہوئے عوام کے سامنے جلوہ افروز ہوئے۔اور عوام کو تسلی دیتے ہوئے اس امر کا اعلان کیا کہ گھبرانا نہیں۔کرونا سے نمٹنے کے لیئے” میرا مرزا یار ہی کافی ہے“۔ جب بھی تفتان بارڈر کا ذکر ہوتا ہے تو وزیر اعظم فرماتے ہیں۔۔تفتان ، کوئٹہ سے بہت دور ہے۔آٹھ سو کلو میٹر۔وہاں کچھ بھی نہیں ہے۔ہم نے ڈاکٹر ظفر مرزا کو وہاں بھیجا۔۔جناب ۔آپ کا فرمان سر آنکھوں پر۔ مگر عرض یہ ہے کہ ڈاکٹر ظفر مرزا نے وہاں جا کر کیا کیا؟ اگر ڈاکٹر ظفر مرزا نے آپ کو تفتان کا آنکھوں دیکھا حال بتایا تھا تو پھر آپ نے اپنی فوج کو جو ہر طرح کے وسائل سے مالا مال ہے اور ایسے حالات میں بہترین انتظامات کرنے کی صلاحیت و اہلیت سے مالامال ہے ، اسے تفتان میں خیموں کا ایک نیا شہر ، جس میں مناسب سہولیات بھی ہوں ، بسانے کی ذمہ داری کیوں نہیں سونپی؟؟اور ہمارے ”’بحر ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے“‘کے فلسفے کا کیا ہوا؟
چلئے ،جو ہوا سو ہوا ۔ اب ڈاکٹر ظفر مرزا مرکز کی طرف سے اور ڈاکٹر یاسمین راشد پنجاب کی طرف سے ،عوام کو کیا درست معلومات فراہم کر رہے ہیں؟ جوا ب ہے نہیں۔ ہرگز ہیں۔ اس لیئے کہ حکومت کے پاس خود ابھی تک نہ درست معلومات ہیں نہ درست اعداد وشمار۔اور نہ ہی ایسا ڈیٹا اکھٹا کرنے کی صلاحیت۔بس اندازوں سے کام چلایا جا رہا ہے ۔ اس کی ہمارے اپنے شہر ملتان میں مثال یہ ہے کہ دو تین روز پہلے تک یہ خبر دی جا رہی تھی کہ ملتان کے قرنطینہ سینٹر میں ۔۔ستے خیراں نے۔۔اور کل بتایا گیا کہ وہاں پر متاثرین کی تعداد چھیالیس ہو گئی ہے۔اسی طرح ڈیرہ غازی خان میں متاثرین کی تعداد دوسو سات بتائی گئی ہے۔ پنجاب کے وسیم اکرم پلس کا پنجاب اب متاثرین کی تعداد میں دیگر تینوں صوبوں کو پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ اور جنوبی پنجاب ، پورے پنجاب سے آگے ہے۔ ایسے میں متحدہ جنوبی پنجاب کے محاذ پر لڑنے والی مجاہدین منظر سے غائب ہیں۔مرکز سے ڈاکٹر ظفر مرزا ، اور پنجاب سے ڈاکٹر یاسمین راشد ہر روز فرماتے ہیں کہ ڈاکٹروں کو حفاظتی کٹس اور ضروری سامان مہیا کر دیا گیا ہے ، مگر ڈاکٹرز اسے تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ وسیم اکرم پلس کے بقول تمام ڈاکٹروں کے لیئے حفاظتی کٹس کی ضرورت نہیں ہوتی۔اس سے حکومت کی سنجیدہ سوچ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
گزشتہ دنوں ڈیرہ غازی خان میں دو ڈاکٹرز اور گزشتہ روز نشتر ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں کام کرنے والے پانچ ڈاکٹرز کرونا کا شکار ہو چکے ہیں۔مرکز اور دو صوبائی حکومتوں، پنجاب اور کے پی کے میں اٹھائے جانے والے اقدامات میں کوئی ہم آہنگی اور یگانگت دکھائی نہیں دیتی۔جمعہ نماز پر پابندی کے نیم دلانہ فیصلے سے ہی اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ،کرونا میں مبتلا افراد کی تعداد حکومتی اعلانات سے کہیں زیادہ ہے اور اس کے مزید بڑھنے کے امکانات ہیں۔خدا را ، مصیبت اور آفت کی اس گھڑی میں تو قوم کو درست حالات بتا کر اور معلومات پہنچا کر ، حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کی فضاءپیدا کریں۔۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker