شاہد راحیل خانکالملکھاری

شاہد راحیل خان کاکالم:طاق راتیں ‘ایماں کی حرارت اور عید کی صبح

طاق راتوں میں عبادات و مناجات سے ایمان کی جو حرارت حاصل ہوئی اس کا عملی نمونہ عید کے صبح نظر آیا۔ ویسے تو حکومت کی طرف سے سخت لاک ڈاؤن ہے مگر بندے کو کسی بھی چیز کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور آج عید کی صبح تو پھول اور پھول کی پتیوں کے ساتھ اگر بتیوں کی بھی ضرورت تھی۔عیدین پر اور محرم میں عاشورے کے دن قبرستان اپنے پیاروں کی قبروں پر جا کر فاتحہ پڑھنا ہماری روایت اور کلچر کا ہی نہیں ہمارے عقیدے کا بھی حصہ ہے۔۔کہ اگر نہ گئے تو کہیں خواب میں بہادر شاہ ظفر کے ساتھ آکر کوئی پیارا یہ گلہ نہ کردے۔۔کہ۔۔””میں وہ بے کسی کا مزار ہوں “””لہٰذا کسی پیارے کی لحد پر “”چار پھول چڑھانا””ہمارے مزاج میں رچا بسا ہوا ہے۔
اب ایسا مزاج رکھنے والی قوم کو آپ کرونائی خوف کی وجہ سے یوم علی ع اور عید میلاد النبی ص یا ایسے ہی کسی اور اجتماع سے کیسے روک سکتے ہیں۔۔کورونا کی ایسی کی تیسی۔مجھے آخری عشرے کے آخری دنوں میں ایک مسجد کے امام صاحب باقاعدہ وائس میسجز کر کر کے بیف پلاؤ کی افطاری کی دعوت دیتے رہے۔۔۔میں نے بصد احترام طبیعت کی خرابی کا کہہ کر بیف پلاؤ کی افطاری سے تو معذرت کر لی مگر افطاری کا حال احوال پوچھنے پر پتہ چلا کہ ایسی تو کئی افطاریاں ہو چکیں۔۔۔کورونا کر لے جو کرنا ہے۔
خیر ۔ طاق راتوں میں حرارت ایمانی حاصل کرنے کا عملی اظہار عید کی صبح اس وقت دیکھا جب قبرستان جاتے ہوئے پھول کی پتیاں خریدنے کے لئے نو نمبر چوک پر رکے۔گل فروشوں کے کھوکھا نما پھٹوں کے گرد کسی قسم کے ایس او پیز سے بے نیاز ہجوم پھل پتیاں خریدنے میں مصروف تھا۔۔میرے بیٹے ڈاکٹر احمد نے گاڑی کا شیشہ اتار کر دو سو روپے کی پتیاں مانگیں۔۔دوکاندار کے”چھوٹے “کے آنے سے پہلے گداگروں کے گروہ نے گاڑی کو گھیر لیا۔۔
“چھوٹے “نے آکر بتایا ۔۔بابو جی پتیاں تین سو روپے کلو ہیں۔۔ڈاکٹر احمد نے کہا۔۔دے دو ۔۔۔۔میرا خیال تھا ایک کلو پتیاں تو بہت ہوں گی۔ پھول کی پتی کا وزن ہی کتنا ہوتا ہے۔مگر جب مٹھی دو مٹھی پتیاں شاپر میں بند پانی ٹپکاتی ہوئی آئیں تو مجھے یقین ہو گیا کہ طاق راتوں میں کی گئی عبادات و مناجات کا اظہار عید کی صبح ایماں کی حرارت والے یہ سمجھ کر کرتے ہیں کہ “”پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر””

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker