عمران خان ایک ایسی شخصیت ہیں جنہیں کبھی شہرت کی کمی کا سامنا رہا نہ دولت کی۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کپتانی سے لیکر پاکستان کی وزارتِ عظمیٰ کے منصب تک پہنچنے کے لئے ان کی محنت جدو جہد اور اپنے مقصد سے لگن کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ کینسر ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کی تعمیر عمران خان کے کار ہائے نمایاں گنوائے جاتے ہیں۔پاکستان کے لئے کرکٹ کھیلتے ہوئے بطور کپتان ورلڈ کپ کی جیت کا سہرا ہمیشہ ان کے سر پر سجا رہتا ہے۔
اس میں یقیناً بہت کچھ حقیقت اور بہت سا افسانہ ہے۔ان کی زندگی کی کتاب بہت سی ناکامیوں اور بہت سی کامیابیوں سے عبارت ہے۔ان کا شمار ایسی شخصیات میں ہوتا ہے جو ہمیشہ خبروں میں رہتے ہوئے تنقید اور توصیف دونوں کا سامنا ہمہ وقت کرتی ہیں۔
پاکستان کے بے بس و بے کس عوام اپنے مسائل کے حل کے لئے آسمان کی طرف دیکھ دیکھ کر کسی مسیحا کسی اوتار کے ہمیشہ منتظر رہتے ہیں جو ان کی آنکھوں میں بسے ہوئے خوشحالی اور پر سکون و پر امن زندگی کے خوابوں کو تعبیر دے سکے۔۔
میرے ہم عمر و ہمعصر اس ملک میں یہ منظر کئی بار دیکھ چکے ہیں۔سن ستر کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کے روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے سے لیکر آج عمران خان کے پہلے نظام کی تبدیلی پھر ریاست مدینہ کا احیاء اور اب حقیقی آزادی کا حصول کے نعرے تک۔درمیان میں ایٹمی قوت نظام مصطفیٰ کا نفاذ ایشین ٹائیگر قرض اتارو ملک سنوارو سب سے پہلے پاکستان اور پاکستان کھپے جیسے نعروں کو یہاں زیر بحث نہیں لاتے اور ماضی کی گرد میں دبا رہنے دیتے ہیں۔
۔مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کہ عوام ہمیشہ ایسے نعرے بازوں کو اپنے دکھوں اور پریشانیوں کا مداوا کرنے والا مسیحا اور اوتار سمجھ کر ان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ان کے پیچھے چل پڑتے ہیں ۔جبکہ ان سب نے عوام کو ہمیشہ مایوس و نا مراد کیا ہے۔
اس کمی کو پورا کرنے کے لئے عمران خان کھیل کے میدان سے سیاست کے میدان میں اترے اور انہیں سیاسی و حکومتی سطح پر کامیابی سے ہم کنار کروانے کے لئے ممکنہ سہاروں کی دستیابی اور بھرپور مدد و معاونت بھی حاصل رہی۔اس کے باوجود عمران خان بطور وزیراعظم پاکستان کوئی ایسا چمتکار نہ دکھا سکے جو ان کی طرف سے عوام کو دلائی گئی امیدوں کی نوید بن سکتا۔
وہ اقتدار میں تھے تو ان کے ساڑھے تین سالہ دور میں ان سے وابستہ عوام کی امیدیں دم توڑنے لگی تھیں تبدیلی کی آس اپنی موت آپ مرنے لگی تھی ۔مگر ان کے وزارتِ عظمیٰ کی کرسی سے اترنے یا اتارے جانے کے بعد فوراً ہی عوام میں ان کی پذیرائی درجہ کمال تک جا پہنچی۔
آج بلا شبہ عمران خان عوام میں ایک بہت مقبول سیاسی رہنما ہیں۔ان کے جلسوں میں روز بروز عوام کی بھرپور شرکت اور اپنے لیڈر کی پذیرائی کی صورت میں ان کی مقبولیت کا نظارہ ہم ہر روز دیکھتے ہیں۔مگر اب ان بھرپور جلسوں میں عمران خان کی تسلسل سے کی جانے والی تقاریر کے مواد سے یہ خدشہ جنم لینے لگا ہے کہ عمران خان کس راستے پر چل پڑے ہیں اور اب اقتدار میں آنے کے علاؤہ ان کا "ہدف” کیا ہے۔۔
سیاسی جلسوں میں اپنے سیاسی مخالفین کو نشانے پر رکھ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالنا تو سیاسی عمل کا حصہ ہے مگر اس میں بھی اعتدال کی حد سے گزر جانا ہرگز ہرگز مناسب نہیں ہے۔اس سے آگے بڑھ کر اداروں پر تنقید بھی کسی حد تک گوارا کر لی جاتی ہے۔۔جب کہ اسلامی اقدار کی بات کرنے والے عمران خان کو معلوم ہونا چاہئے کہ قرآن پاک کے عین درمیان میں سورۃ الکہف کی آیت نمبر 19 میں اللّٰہ تعالٰی نے "ولیتلطف”کا لفظ نازل فرمایا ہے۔(ترجمہ::بہت احتیاط اور نرمی برتے)۔
عمران خان کی گفتار اس امر کا ثبوت دے رہی ہے کہ ان کی شخصیت احتیاط اور نرمی جیسے دونوں اوصاف سے محروم ہے٫ عدم احتیاط اور سخت لب و لہجہ آئے دن عمران خان اور ان کی جماعت کے لئے مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
کسی بھی قسم کی تعلیمات پر دوسروں کو عملدرآمد کرنے کا درس دینے والے کے لئے کیا یہ لازم نہیں کہ وہ خود اس پر عملدرآمد کا نمونہ بنے۔؟
اب تو عمران خان اپنے سیاسی مخالفین پر الزام اور دشنام طرازی اور ادروں پر تنقیدی سنگباری سے آگے نکل کر اپنی سیاسی جد وجہد اور حصول اقتدار کی اس جنگ میں ریاست مدینہ کے حوالے دیتے دیتے اسلام کے ابتدائی دور میں ہمارے آقا و مولا سرور کون و مکاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسلام کے لئے دعوت و تبلیغ اور کٹھن جدو جہد کو اپنی سیاسی جد وجہد کے لئے حوالے کے طور پر استعمال کرنے تک آ پہنچے ہیں۔کل ملتان کے جلسے میں عمران خان نے اس حوالے سے جو کچھ کہا وہ انتہائی غیر مناسب تھا ۔۔عمران خان یہ کس راستے پر چل پڑے ہیں؟ اور ان کی یہ روش انہیں کہاں تک لے جائے گی؟۔آئیندہ کسی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وہ کیا اعلان کر دیں۔کیا کہہ دیں۔کیا دعویٰ کر دیں۔اللہ ہی جانے۔۔۔اب تک عمران خان کے جلسوں میں ایسی باتیں سن کر تالیاں بجانے والے تو ان کے کسی بھی "دعوے”کو قبول و تسلیم کر لینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے کیونکہ بائیس تئیس کروڑ عوام کی آبادی کے ملک میں اندھے مقلدین کی کمی نہیں ۔
فیس بک کمینٹ

