اپنے لڑکپن اور نوجوانی میں ہم ڈھاکہ چٹاگانگ سلہٹ اور کھلنا کا نام اسی طرح لیا کرتے تھے جیسے کراچی لاہور راولپنڈی پشاور ملتان منٹگمری اور لائلپور کا۔۔اس وقت تک منٹگمری ساہیوال اور لائلپور فیصل آباد نہیں ہوئے تھے اور فیصل آبادی بھی لہوری پشوری اور ملتانی کی طرح لیلپوری کہلواتے تھے۔مشرقی پاکستان میں پٹ سن کی کاشت اور چاۓ کے باغات کا ذکر بھی اسی طرح ہوتا تھا جیسے مغربی پاکستان میں کپاس گندم اور گنے کی فصلوں کا۔۔ہم نے تو پٹ سن کی فصل کی کھپت اور اس سے مصنوعات بنانے کے لئے مظفر گڑھ میں تھل جیوٹ مل بھی بنا لی تھی۔ریڈیو پاکستان سے بنگالی زبان سکھانے کا پروگرام بھی نشر ہونے لگا تھا۔ڈھاکہ بھی لوگ اسی طرح جایا آیا کرتے تھے جیسے لاہور اور کراچی۔۔۔ہمیں یہ سب ماضی یاد رکھنے کی ضرورت نہیں کہ ہم حال مست لوگ ہیں۔
ڈھاکہ وہ شہر جہاں پاکستان کی بانی جماعت نے آل انڈیا مسلم لیگ کے نام سے جنم لیا تھا اور متحدہ ہندوستان میں سن1935 کے بعد ہونے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے آل انڈیا مسلم لیگ نے متحدہ بنگال میں اپنی پہلی حکومت قائم کی تھی اور پھر پاکستان کے قیام کے عمل میں بنگالی لیڈروں نے ہندوستان کے کسی بھی دوسرے حصے کے مسلم لیڈروں سے زیادہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔قیام پاکستان کے بعد آبادی کے لحاظ سے اکثریت میں ہونے کے باوجود ڈھاکہ کی بجائے پہلے کراچی اور پھر اسلام آباد کو دارالحکومت تسلیم کیا تھا۔
عوامی سطح پر اتنی محبت اور بھائی چارے کے باوجود آزادی کے صرف ڈیڑھ دو عشروں بعد ہی مشرقی پاکستان کے لیڈروں کو نئے نویلے دارالحکومت اسلام آباد کی سڑکوں سے پٹ سن کی خوشبو اور مغربی پاکستان کے کرتا دھرتاؤں کو مشرقی پاکستانیوں کے طور اطوار سے غداری کی بو آنا شروع ہو گئی۔

حالانکہ سن 1965 کی جنگ کے فضائی معرکے میں ایک منٹ میں پانچ بھارتی لڑاکا طیارے مار گرا کر عالمی ریکارڈ بنانے والے ایم ایم عالم نامی ہیرو کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا۔(یہ قومی ہیرو کس کسمپرسی کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا وہ الگ کہانی ہے )
اس جنگ کے بعد ہم فتح کے ترانے گاتے رہے اور آمریت کے خلاف تحریک چلاتے رہے اور شکست خوردہ بھارت اپنے زخم چاٹنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو دو لخت کر کے کاری زخم لگانے کی منصوبہ بندی کرتا رہا۔پھر سن 1970 آیا جمہوریت کی بحالی کے لئے چلنے والی تحریک اور مطالبات کے نتیجے میں پہلے آزادانہ اور منصفانہ طور پر منعقد ہونے والے انتخابات کا سال 1970۔ جب حالات کے جبر سے مشرقی اور مغربی پاکستان کے عوام میں ایک تناؤ ایک خلیج پیدا ہو چکی تھی جسے انتخابی نتائج تسلیم کر کے ہی پر کیا جا سکتا تھا مگر ایسا ہو نہ سکا اور انتخابات کے نتائج پاکستان کو ہی دو حصوں میں تقسیم کر گئے۔

اس تقسیم اور ” جدائی” پر دونوں طرف کے عام آدمی کا احساس امرتا پریتم کی پنجاب کی تقسیم پر کہی گئی ایک نظم کے اس مصرعے جیسا تھا ” اے اکھ دی لالی دسدی اے۔ روۓ تسی وی او روۓ اسی وی آں”۔اس کے مختلف عوامل اور وجوہات پر بہت کچھ لکھا اور تاریخ کی کتابوں میں محفوظ کیا جا چکا ہے اور کیا جاتا رہے گا۔اس سارے عمل میں بدلہ چکانے کے منتظر بھارت نے بھرپور کردار ادا کیا۔
پہلے پہل "بنگلہ دیش نا منظور” کی آوازیں اٹھیں مگر جہاں بنگلہ دیش کے قیام میں سہولت کاری کا فیصلہ ہوا تھا وہیں اسے منظور کرنے کا فیصلہ بھی ہو چکا تھا لہٰذا لاہور میں منعقد ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر بنگلہ دیش کو آزاد ریاست تسلیم کر لیا گیا۔
یہ سب اور اس کے علاوہ بہت کچھ گزشتہ روز مجھے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو بنگلہ دیش کے دورے کے دوران ڈھاکہ میں تقریر کرتے ہوئے ٹی وی سکرین پر دیکھ کر یاد آتا رہا۔دہائیوں کے بعد ان دو خطوں کے درمیان جن کا کبھی پرچم ایک، قومی ترانہ ایک اور مقصد و منزل ایک تھی، خیر سگالی اخوت و مروت اور بھائی چارے کے مناظر دیکھ کر خوشگوار مستقبل کی کرن دکھائی دینے لگی۔ٹی وی چینلز پر معمول کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے اس دورے کے ” فوائد و ثمرات ” پر بحث جاری ہے اور کوئی نیا موضوع ملنے تک جاری رہے گی۔مگر میرے نزدیک ایک ہی گھر کے مکینوں کے "جدا” ہو جانے والوں کا دہائیوں بعد یہ ملاپ بہت خوش کن اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔۔
” ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی ملاقاتوں کے بعد
"پھر بنیں گے آشنا کتنی مداراتوں کے بعد”
فیس بک کمینٹ

