شاکر حسین شاکرکالملکھاری

عوام کےلئے صاف پانی کی فراہمی …. ایک خواب؟(1) کہتا ہوں سچ /شاکر حسین شاکر

گزشتہ برس بلوچستان کے دور افتادہ علاقے ڈیرہ بگٹی جانے کی ایک سبیل پیدا ہوئی کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے 6 ستمبر 2017ءکو کچھی کینال کے منصوبے کا افتتاح کرنا تھا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان، وزیرِ داخلہ احسن اقبال، وزیر پانی سیّد جاوید علی شاہ اور دیگر وزراءبھی موجود تھے۔ کچھی کینال کی تعمیر کے بعد ان علاقوں میں پانی کی ترسیل شروع ہوئی۔ یہ پاکستان بننے کے بعد سے لے کر اب تک خشک سالی کا شکار تھے۔ مَیں نے کینال میں پانی بہتا دیکھ کر کینال کے اردگرد ہزاروں لوگوں کے چہروں پر ایسی خوشی دیکھی جس کا تصور وہ گزشتہ ستر برسوں میں کبھی نہیں کر سکتے تھے۔ اس تقریب میں وفاقی وزیر پانی سیّد جاوید علی شاہ نے پانی کے حوالے سے بڑی فکر انگیز تقریر کی۔ وہ تقریر نہ تو کسی بیوروکریٹ کی لکھی ہوئی تھی اور نہ ہی کسی لحاظ سے سیاسی تھی۔ وہ بلوچستان کے دوردراز علاقوں میں بسنے والے پیاسے عوام کے سامنے پانی کا مقدمہ پیش کر رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جنہیں آج اور آنے والے دنوں میں پانی کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وفاقی وزیر پانی سیّد جاوید علی شاہ نے ہمیں یہ بتا کر حیران کر دیا کہ جب پاکستان بنا تھا تو تب پاکستان کے ایک فرد کے لیے سالانہ 5600 کیوبک فٹ پانی دستیاب تھا جو آج کم ہو کر 1017ءکیوبک فٹ رہ گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی اس نعمت کی قدر نہیں کی۔ ہم نے جس بے دردی سے اﷲ کی اس نعمت کو ضائع کیا اس کی مثال پوری دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ اس بے احتیاطی کے سبب صورتِ حال یہ ہے کہ آج ملک میں 16 ملین پاکستانی مضرِ صحت پانی پینے پر مجبور ہیں۔
ملتان کے نواحی علاقہ شجاع آباد سے منتخب ہونے والے سیّد جاوید علی شاہ سے اُس نشست کے بعد بھی ملاقاتیں رہیں اور وہ بڑے دکھی دل سے بتایا کرتے تھے کہ جنوبی پنجاب میں ناقص پانی کی وجہ سے شجاع آباد ہیپاٹائٹس کی بیماری میں سرفہرست گنا جاتا ہے۔ اگرچہ سیّد جاوید علی شاہ نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ذریعے اس بیماری کے لیے طبی سہولیات حاصل کی ہیں لیکن بیماری کی شدت کو دیکھتے ہوئے وہ سہولیات ناکافی ہیں۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سیّد جاوید علی شاہ کی طرح پورے ملک کے کسی اور منتخب نمائندے نے اپنے علاقے میں مضرِ صحت پانی یا پانی کی کی کے بارے میں کوئی آواز بلند کی؟
اگر ہم پانی کے حوالے سے عوام الناس کو جو سہولیات دستیاب ہیں پر بات کریں تو معلوم ہوتا ہے 89فی صد  واٹر سپلائز کا پانی نہ صرف غیر محفوظ ہے بلکہ اس کی وجہ سے ہم تیزی سے بیماریوں کو اپنے گھر میں آنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان دس ممالک میں ہوتا ہے جس کے بیشتر لوگوں کو صاف پانی تو دور کی بات ہے پانی تک میسر نہیں۔ تین میں سے ایک سکلو ایسا ہے جہاں پینے کے لیے پانی نہیں۔ یاد رہے فی الحال مَیں پانی کی بات کر رہا ہوں صاف پانی کی بات تو دور کا معاملہ ہے۔ اس بارے میں میرے اپنے مشاہدے کی بات یہ ہے کہ مَیں چند سال پہلے اپنے ہائی سکول (گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول حرم گیٹ ملتان) ایک تقریب میں شرکت کے لیے گیا تو پانی کی طلب ہوئی تو مَیں نے سکول کے ہیڈماسٹر سے کہا کیا پانی کا ایک گلاس مل سکتا ہے تو میرے میزبان نے فوراً بازار سے ملٹی نیشنل کمپنی کا مقامی پانی منگوایا اور میرے سامنے رکھ دیا۔ پانی کی بازاری بوتل دیکھ کر مَیں نے سوال کیا کہ کیا مجھے سکول میں دستیاب پانی نہیں پلایا جا سکتا تھا۔ تو کہنے لگے کہ وہ پانی مضرِ صحت ہے۔ مَیں نے پوچھا کہ طلبہ کونسا پانی پیتے ہیں تو وہ کہنے لگے ان کے لئے  تو مضرِ صحت پانی ہی دستیاب ہے۔ یہ سنتے ہی مَیں نے کہا تو پھر آپ کے سکول میں طلبہ کی حاضری کتنی رہتی ہے۔ کہنے لگے کہ سکول کی ہر کلاس میں روز آٹھ سے دس بچے بیمار رہتے ہیں۔ میرے سامنے ملٹی نیشنل کمپنی کی بنی ہوئی پانی کی بوتل دھری تھی اور یہ بات سننے کے بعد میرا جی نہیں چاہا کہ مَیں وہ پانی پی لوں۔
اپنے سکول میں منعقدہ تقریب کے اختتام کے بعد مَیں نے اپنے کلاس رومز دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو معلوم ہوا کہ میری وہ تمام کلاسیں نئی عمارت بننے کے بعد اپنے آثار کھو چکی تھیں۔ سکول کا وزٹ کرتے ہوئے مَیں نے واش رومز کو دیکھا تو ان میں صفائی کی حالت ناگفتہ تھی۔ ویسے بھی ہم ایسے ملک میں رہائش پذیر ہیں جہاں ہر پانچ میں سے دو سکول ایسے ہیں جہاں پر واش رومز نہیں ہیں۔ 88فی صد  لوگ پیٹ کی بیماریوں میں صرف پانی کی وجہ سے مبتلا ہیں۔ نکاسی آب اور صفائی کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ علاج معالجہ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
اس صورت حال کے پس منظر میں جب ہم وطنِ عزیز میں پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کی سہولیات کے حوالے سے اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو صورتحال اتنی مایوس کن دکھائی دی۔ مجھے اپنا وطن جنوبی ایشیائی ممالک کے مقابلے میں بہت پیچھے نظر آیا۔ یعنی ہم اپنے ملک کا شمار ان ممالک میں کر سکتے ہیں جو اپنی مجموعی قومی آمدی کا سب سے کم حصہ صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے منصوبوں کے لیے لگاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ منصوبے حکومتوں کی کبھی ترجیح کا حصہ نہیں رہے۔ دور کیوں جائیں اگر مَیں بڑے شہروں کی بات کروں کو علم ہوتا ہے کہ وہاں کی اکثریت سیوریج کی سہولت سے محروم ہیں جبکہ دیہاتوں میں سہولت نہ ہونے کے باربر ہے۔ اگر شہروں میں یہ سہولت موجود ہے تو سیوریج کے پائپ اپنی طبعی مدت پوری کر چکے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ پانی چاہے پینے کا ہو یا سیوریج میں جانے والا دونوں ہی آبادی کے لیے زہرِ قاتل بن چکے ہیں۔(جاری ہے)
( بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس )
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker