شاکر حسین شاکرکالملکھاری

مشتاق احمد یوسفی ۔ باتیں اور یادیں(3) : کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر

مشتاق احمد یوسفی سے ملتان میں ملاقات کے بعد اگلی ملاقات عالمی اہلِ قلم کانفرنس میں ہوئی۔ جہاں ان کے ساتھ بہت سا وقت ہم گزارتے رہے۔ ان کی گفتگو سننے میں سینکڑوں لوگوں کو ہمہ تن گوش دیکھا۔ وہ اپنی وضع کے بالکل مختلف انسان تھے۔ بہت جلد گھلتے نہیں تھے بلکہ وہ آہستہ آہستہ اپنی شخصیت کے پرت کھولتے تھے۔ رضا علی عابدی نے اُن کے بارے میں لکھا کہ ہم ہیں مشتاق اور وہ بھی ہیں مشتاق۔ لطف کی بات یہ ہے کہ سارا زمانہ ان کا مشتاق ہے۔ اسی لیے تو جنابِ رضا علی عابدی نے لکھا:
”ایک بار کسی نے ہم سے پوچھا کہ تم مشتاق احمد یوسفی کو کب سے جانتے ہو۔ ہم نے کہا جب سے ہمیں جاننے کا سلیقہ آیا۔ پوچھنے والا بھی کوئی صاحبِ کمال تھا۔ کہنے لگا تمہیں یقین ہے کہ تمہیں جاننے کا سلیقہ آ چکا ہے؟
”نہیں“ کہنے میں اس سے پہلے کبھی ہم نے اتنی جلدی نہیں کی۔ یوسفی صاحب کی جس ادا پر ہم ہزار جان سے فدا ہیں وہ ان کا نت نئے لفظ تلاش کر کے لانے کا ہنر ہے۔ مثلاً کیا آپ کو پتہ ہے کہ پہلی بار بچہ دینے والے گائے یا بھینس کو کیا کہتے ہیں؟ سودا خریدنے کے بعد جو چیز دکاندار اوپر سے مفت دے دے اسے کیا کہتے ہیں؟ یہ سب جاننے کے لیے کسی کھکھیڑ میں پڑنے کی ضرورت نہیں بس یوسفی صاحب کی کتاب زرگزشت پڑھ لیں۔“
یوسفی صاحب اپنی اہلیہ سے بہت محبت کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی تحریروں میں جہاں خواتین کے ذریعے مزاح پیدا کیا لیکن اپنی زندگی میں ان کی بہت عزت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے اپنی اہلیہ ادریس فاطمہ کے ساتھ مثالی ازدواجی زندگی بسر کی جس کے بارے میں ان کا یہ کہنا تھا کہ مرحومہ بہت مشفق اور وفا شعار خاتون تھیں۔ مشتاق احمد یوسفی جب اپنی تحریریں پڑھا کرتے تھے تو ان کے پڑھنے کا ایک خاص انداز بھی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے نہ صرف ان کو شوق سے پڑھا بلکہ شوق سے ان کو دیکھا اور سنا بھی۔ جس طرح فیض احمد فیض اور احمد فراز نے شاعری کے ذریعے لوگوں پر حکمرانی کی اسی طرح مشتاق احمد یوسفی نے اپنی نثر کے ذریعے یہی کام کیا۔ وہ اپنے گھر میں اتنے بھولے بھالے انداز میں رہتے کہ ایک مرتبہ ان کی بیگم صاحبہ اپنے والدین کے گھر گئیں تو یوسفی صاحب گھر میں لگے ہوئے پودوں کو روزانہ اٹھ کے پانی دیتے رہے۔ چند ہفتوں بعد علم ہوا کہ وہ پودے تو پلاسٹک کے ہیں۔
یوسفی صاحب سے ہماری آخری ملاقات سوموار یکم نومبر 2004ءکو ایوانِ صدر راولپنڈی میں ہوئی جہاں پر جنرل پرویز مشرف نے ملک کے ادیبوں شاعروں کے اعزاز میں افطار کم ڈنر کا اہتمام کر رکھا تھا۔ اس زمانے میں پرویز مشرف نے صدارتی کیمپ آفس پنڈی میں قائم کیا ہوا تھا۔ اس تقریب میں ہمارا حاصل تو مشتاق احمد یوسفی کے ساتھ ملاقات ہی تھی۔ صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ جنرل پرویز مشرف بھی جناب مشتاق احمد یوسفی کو خود کئی موقعوں پر پلیٹ میں کچھ ڈال کر دیتے رہے۔ انہیں معلوم تھا کہ وہ اُردو کے سب سے بڑے ادیب کے ساتھ ایوانِ صدر میں کھڑے ہوئے نہ صرف باتیں کر رہے ہیں اور بطور میزبان اُن کی عزت بھی کر رہے ہیں۔ اس ملاقات میں جہاں پر احمد فراز، مستنصر حسین تارڑ، کشور ناہید، افتخار عارف، خاطر غزنوی سمیت وہ تمام لکھنے والے موجود تھے جو ماضی میں ہمیشہ فوجی آمریت کے مخالف رہے لیکن پرویز مشرف کے بلاوے پر سب ہی وہاں موجود تھے۔
یوں توجناب مشتاق احمد یوسفی کی لکھی ہوئی ہر تحریر ہمیں بہت پسند ہے لیکن ان کی کچھ تحریریں ہم آپ سے بھی شیئر کرنا چاہتے ہیں کہ وہ تحریریں صرف مشتاق احمد یوسفی ہی لکھ سکتے تھے۔
٭…. ہمیں بھی اپنی پسندیدہ نیوز ریڈر عشرت فاطمہ کے جمبو سائز لونگ کے لشکارے کی روشنی میں خبر کا پس منظر صاف نظر آ جاتاہے۔
٭…. الیکشن سے ایک ہفتہ قبل اک چھوٹی سی مگر چٹخارے دار خبر پڑھی کہ جام صادق علی مرحوم کے فرزند دلبند جام معشوق علی اپنی الیکشن کمپین کے لئے بطور خاص پری چہرہ ایکٹریس ریما کو ٹنڈو آدم بلایا تھا۔ ہم تو اس الیکشن میں اس حد تک غیر جانبدار رہے کہ اگر ہمارا نام متعلقہ حلقے کے ووٹرز کی لسٹ میں ہوتا تو ہم اپنا قیمتی ووٹ نہ جام معشوق علی کو دیتے نہ ان کے مخالف کوبلکہ دھڑلے سے ریما کو دیتے کہ ریما کو ووٹ دینے کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ ہم نے جام معشوق علی کو دیکھا ہے اور ریماکو نہیں دیکھا۔ اتنا لکھنے کے بعد اخبار کے ایک اشتہار سے یہ معلوم کر کے ہمیں خوشی ہوئی کہ ریما بھی وہی صابن استعمال کرنے لگی ہیں جو تیس چالیس برس سے ہماری جلد اور موجودہ رنگت کا ذمہ دار ہے۔
٭…. ہماری سوچ میں کچھ ایسی بات ضرور ہے ہر شخص کا بے اختیار نصیحت کرنے کو جی چاہتا ہے۔
٭…. کھیل کے شروع میں ٹاس کیا جاتا ہے جو کپتان ٹاس ہار جاتا وہ ہمیں اپنی ٹیم میں شامل کرنے کا پابند ہوتا۔
٭…. ہم نے پہلا کتا چوکیداری کے لیے پالا اور اسے کوئی چرا کر لے گیا۔
٭…. کراچی کو دنیا کے تمام شہروں کے مقابلے میں یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہاں کبھی چھتریاں اور برساتیاں نظر نہیں آتیں۔ یوں تین چار مہینے گھنگھور گھٹائیں چھائی رہتی ہیں۔ بھولے سے کسی پروگرام ڈائریکٹر کی کھڑکی کھل جائے تو ریڈیو سٹیشن ساون کے گیت نشر کرنے شروع کر دیتا ہے۔
٭…. کراچی کا مچھر DDT سے بھی نہیں مرتا۔ صرف قوالوں کی تالیوں سے مرتا ہے یا غلطی سے کسی شاعر کو کاٹ لے تو باولا ہو کر بے اولاد مرتا ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker