2018 انتخاباتسرائیکی وسیبشاکر حسین شاکرکالملکھاری

الیکشن ( 1) جب یوسف رضا گیلانی نے اولاد کےآگےہتھیار ڈالے : کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر

انتخابات کا شور تمام ہوا اور ضلع ملتان کی قومی اسمبلی کی چھ نشستوں پر تحریکِ انصاف کے اُمیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔ شدید گرمی، حبس اور تھکا دینے والی طویل انتخابی مہم نے بڑے بڑوں کے چھکے چھڑوا دیئے۔ سیّد یوسف رضا گیلانی، مخدوم شاہ محمود قریشی اور حاجی سکندر حیات بوسن نے موٹر سائیکل پر بیٹھ کر بھی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے گھروں میں ذاتی موٹرسائیکل نہیں لیکن اُن کے کارکنوں نے ووٹ کی خاطر عوامی سواری کی سیر کروا دی۔ اس کے پہلے کہ ہم ملتان کے ان چھ حلقوں کا جائزہ آپ کے سامنے پیش کریں ایک کہانی سن لیں۔ نواز حکومت کے ایک وفاقی وزیر حاجی سکندر حیات بوسن کو انتخابی مہم کے آغاز میں پاکستان تحریکِ انصاف نے حلقہ NA154 کا ٹکٹ جاری کیا اور اس حلقے میں تحریکِ انصاف کے ایک اور اُمیدوار ملک احمد حسین ڈیہڑ نے اس فیصلے کے خلاف بنی گالا میں جا کر اپنے کارکنوں سمیت طویل دھرنا دیا۔ جس کے نتیجے میں عمران خان کو حاجی سکندر حیات بوسن سے ٹکٹ لے کر احمد حسین ڈیہڑ کو دینا پڑ گیا۔ حاجی سکندر حیات بوسن کو جب تحریکِ انصاف سے انصاف نہ ملا تو مبینہ طور پر انہوں نے سابق وزیراعظم سیّد یوسف رضا گیلانی سے رابطہ کیا اور کہا کہ مَیں NA154 میں آپ کی حمایت کرتا ہوں اگر میرے بھائی شوکت بوسن کو آپ اپنے پینل میں شامل کر لیں۔ گیلانی صاحب نے اپنے مشیروں سے مشورہ کیا جس کے بعد انہوں نے حاجی سکندر حیات بوسن کو انکار کر دیا۔ ہمارے خیال میں حلقہ NA154 میں یوسف رضا گیلانی کے بیٹے عبدالقادر گیلانی کی شکست کا یہ آغاز تھا جب انہوں نے سکندر بوسن کو گیلانی ہاؤ س سے یہ کہہ کر رخصت کیا
سکندر جب گیلانی ہاؤ س سے گیا تو اس کے دونوں ہاتھ خالی تھے
اس کے ساتھ ہم اپنے پڑھنے والوں کو یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ جب مختلف حلقوں نے گیلانی خاندان کے اُمیدواروں کا فیصلہ کیا جا رہا تھا تو یوسف رضا گیلانی کو ان کی کچن کابینہ نے مشورہ دیا کہ وہ اپنے آبائی حلقے NA154 سے انتخاب لڑیں اور یہ مشورہ اس اعتبار سے صائب تھا کہ اس حلقے میں اگر یوسف رضا گیلانی خود آ جاتے تو اُن کی جیت یقینی تھی۔ لیکن یہاں پر بھی عبدالقادر گیلانی نے ضد کی کہ میرا اس حلقے میں بہت زیادہ رابطہ ہے آپ حلقہ NA158 میں لڑیں۔ عمر کے اس حصے میں یوسف رضا گیلانی کو اولاد کے آگے ہتھیار ڈالنا پڑے اور وہ ایک ایسے حلقے میں جا کر انتخاب لڑا جہاں پر ان کے مدِمقابل تحریکِ انصاف کے محمد ابراہیم خان گزشتہ دس سالوں سے دامے درمے سخنے موجود تھے۔ ان کا جینا مرنا اسی حلقے کے لوگوں کے ساتھ تھا اور یوسف رضا گیلانی کی حیثیت نوارد امیدوار کے طور پر تھی۔ یوسف رضا گیلانی نے اپنی انتخابی مہم میں پرانے سیاسی حلقے آزمائے۔ بڑے سیاسی لوگوں کو اپنے ساتھ ملایا اور طویل اور تھکا دینے والی انتخابی مہم کے ذریعے انہوں نے اس حلقے میں خوب محنت کی۔ اُن کی ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی سمجھی جا رہی ہے کہ اُن کے نیچے صوبائی اسمبلی میں خرم فرید خاکوانی ایک کمزور اُمیدوار کے طور پر موجود تھا جس نے اُن کے اتنا سپورٹ نہیں کیا جتنا اُن کے دوسے صوبائی اُمیدوار کامران مڑل نے کیا۔ اگر اس حلقے کا ہم جائزہ لیں تو ابراہیم خان نے 83297 ووٹ جبکہ یوسف رضا نے 73985 ووٹ اور جاوید علی شاہ نے 72000 سے زیادہ ووٹ لیے۔ اگر ابراہیم خان کے مخالفین آپس میں اتحاد کر لیتے تو PTI کو یہاں پر شکست دی جا سکتی تھی لیکن اس حلقے میں یوسف رضا اور جاوید علی شاہ دونوں اتنے پُر اُمید تھے کہ اُن کو یہ احساس ہی نہ ہوا کہ ابراہیم خان اس حلقے میں فتح حاصل کر لیں گے۔ انتخابات میں اصل تدبر کا مظاہرہ اس وقت ہوتا ہے جب آپ اپنے انتخابی حلقے کا انتخاب کرتے ہوئے بار بار سوچیں لیکن سابق وزیراعظم سیّد یوسف رضا گیلانی کی شکست کے اصل ذمہ دار وہ ہیں جنہوں نے اُن کو NA158 میں انتخاب لڑنے کا نہ صرف مشورہ دیا بلکہ انہیں سبز باغ بھی دکھائے۔
بات ہو رہی تھی حلقہ NA154 کی جہاں پر احمد حسین ڈیہڑ نے پیپلز پارٹی کے عبدالقادر گیلانی مسلم لیگ ن کے سلمان علی قریشی اور آزاد اُمیدوار سکندر بوسن کو تو شکست دی لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس نے اپنی پارٹی کے مقتدر طاقتوں کو بھی چِت کیا جو درونِ خانہ یہ خواہش رکھتے تھے کہ احمد حسین ڈیہڑ اسمبلی کا حصہ نہ بنے۔
حلقہ NA155 ملک محمد عامر ڈوگر فاتح قرار پائے یہاں پر بھی تحریکِ انصاف کی مقامی قیادت اُن کے خلاف تھی حتیٰ کہ تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما ڈاکٹر خالد خاکوانی بھی عامر ڈوگر کے خلاف آزاد کھڑے ہو گئے۔ اسی طرح اعجاز جنجوعہ بھی حلقے میں اُن کے خلاف مہم چلاتے رہے۔ شاہد محمود خان تحریکِ انصاف چھوڑ کر ن لیگ میں شامل ہو گئے۔ ان تمام جھٹکوں کے باوجود ملک محمد عامر ڈوگر نے اپنا سفر جاری رکھا اور ملتان ضلع میں تحریکِ انصاف کے اُمیدوار کے طور پر سب سے زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ اس حلقے میں اُن کو جو ووٹ ملے وہ اصل میں تحریکِ انصاف اور پیپلز پارٹی کے ہی ووٹ ہیں کہ اس حلقے سے پیپلز پارٹی کے پاس کوئی اُمیدوار نہ تھا اس لیے عامر ڈوگر نے پیپلز پارٹی کے اُن تمام رہنماؤ ں اور ووٹرز سے رابطہ کیا جو اس حلقے میں موجود تھے۔ یہ حلقہ پچھلے انتخابات میں بھی تحریکِ انصاف کے پاس تھا اور اس مرتبہ تو نئے ووٹرز نے تحریکِ انصاف پر اعتماد کرتے ہوئے عامر ڈوگر کو اسمبلی میں پہنچا دیا یوں ان کی شاندار فتح میں کسی نہ کسی حد تک پیپلز پارٹی کے ووٹرز کا بھی حصہ موجود ہے کہ آخر اُن کا خاندان ایک عرصے تک اسی پارٹی کے ساتھ وابستہ رہا ہے۔ ڈوگر فیملی کی کامیابی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اُن کا ڈیرہ ہر وقت آباد رہتا ہے۔ لوگوں کے کام ہوں یا نہ ہوں اس خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد عوام سے اُن کے مسائل سننے کے لیے بیٹھا رہتا ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے 2008ءکے انتخابات میں جب جاوید ہاشمی ن لیگ کے پلیٹ فارم سے ملک عامر ڈوگر کے والد ملک صلاح الدین ڈوگر کو شکست دی تو شکست کے چند دن بعد ایک دوست کے کام کے لیے ہمیں صلاح الدین ڈوگر کے پاس جانا پڑا، خیال تھا کہ ملک صاحب اپنے ڈیرے میں اکیلے بیٹھے ہوں گے کہ لوگ ہارے ہوئے اُمیدوار کے پاس کہاں آتے ہیں۔ جیسے ہی مَیں اُن کے کمرے میں داخل ہوا تو حلقے کے لوگوں کا ہجوم دیکھ کر حیران ہو گیا۔ اور اس ہجوم سے ملک صلاح الدین ڈوگر یہ کہہ رہے تھے کہ جس کو ووٹ دیا ہے اس کے پاس اپنے کاموں کے لیے جاؤ میرے پاس کیوں آئے ہو؟ اُن کی اس بات پر ایک شخص نے کہا ووٹ اگرچہ ہم نے جاوید ہاشمی کو دیا ہے لیکن ہم نے کام آپ سے کروانا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر مَیں نے صلاح الدین ڈوگر سے کہا کہ ملک صاحب یہ کیا معاملہ ہے جس پر وہ ہنستے ہوئے کہنے لگے کہ میرے ساتھ یہی المیہ ہے کہ لوگ ووٹ میرے مخالف کو دیتے ہیں اور اپنے مسائل کے حل کے لیے میرے ڈیرے پر آ کر ڈیرہ ڈال دیتے ہیں۔(جاری ہے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker