شاکر حسین شاکرکالملکھاری

مقدر کا سکندر – مرزا سکندر بیگ .. شاکر حسین شاکر

ڈیرہ غازی خان میں یومِ آزادی کے سلسلہ میں مشاعرہ ہو رہا تھا۔ اس مشاعرے کی خوبی یہ تھی کہ اس میں اُردو و سرائیکی زبان کے شعراءکرام وطن کے حضور اپنا کلام پیش کر رہے تھے کہ سٹیج سیکرٹری نے اعلان کیا کہ اب اُردو و پنجابی کے نامور شاعر مرزا سکندر بیگ اپنی شاعری عطا کریں گے۔ مَیں نے حیرت سے یہ اعلان اس لیے سنا کہ ڈیرہ غازی خان میں پنجابی شاعری کو پذیرائی ملنا ناممکن تھا کہ اس علاقے کے لوگ پنجابی شاعری کی بجائے سرائیکی شاعری سننا اور کرنا پسند کرتے ہیں۔ مَیں یہ سب باتیں سوچ رہا تھا کہ سٹیج پر دیکھا ایک گورا چٹا شاعر پنجابی میں اپنی غزل سنانے لگا۔ ابھی اس نے مطلع سنایا ہی تھا کہ ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ مَیں بھی مرزا سکندر بیگ کی طرف متوجہ ہوا تو وہ بہت ہی خوبصورت انداز میں ”دھپاں پچھلے پہر دیاں“ کو ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھا اور اُسی کتاب سے شاعری پڑھ کر سنا رہے تھے۔ ہال سے ”مکرر مکرر“ کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں اور مرزا سکندر بیگ مسلسل داد حاصل کرنے کے لیے مزید اوراق کھولے جا رہے تھے۔
راضی جے کر مولا ہوندا
کہڑی گل دا رولا ہوندا
بے قدراں دی یاری ہوندی
دل دی بازی ہاری ہوندی
تھل وچ رات گزاری ہوندی
نہ بوہا نہ باری ہوندی
بھانویں لکھ خواری ہوندی
ساڈا وی اِک ڈھولا ہونا
راضی جے کر مولاہوندا
کہڑی گل دا رولا ہوندا
مشاعرہ تمام ہوا تو مرزا سکندر بیگ سے تعارف ہوا تو پتہ چلا کہ مرزا سکندر بیگ ڈیرہ غازی خان کی ضلعی حکومت کے ”وزیرِ خزانہ“ ہیں۔ لیکن وہ اپنے عہدے کی تشہیر پسند نہیں کرتے تھے کہ انتظامی طور پر بعض اوقات انہیں دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا۔ لیکن وہ افسری کو شاعری سے الگ رکھتے تھے۔ کچھ عرصے بعد ہمیں علم ہوا کہ ان کا تبادلہ ڈیرہ غازی خان سے ملتان ہو گیا تو ہم ان سے ملنے گئے تو دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وہ ڈسٹرکٹ اکاونٹ افسر ہونے کے باوجود ہر ایک سے محبت سے مل رہے ہیں اور فائلوں پر دستخط بھی کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے روایتی افسروں کی طرح اپنے دفتر کا دروازہ بند نہیں کر رکھا تھا۔ لوگ آ رہے تھے اور انہوں نے اپنے فیض کا چشمہ جاری کیا ہوا تھا۔ لاکھوں کروڑوں کے بل سائن کرتے ہوئے انہیں کوئی تکلیف نہیں ہوتی تھی۔ کام، کام اور کام۔ اس کے دوران اپنے دوستوں کے لیے لذت کام و دہن کا سلسلہ بھی برقرار رکھا ہوا تھا۔ پھر مَیں نے ایک دن کہا مرزا صاحب اُردو کا مجموعہ کب لا رہے ہیں۔ کہنے لگے کمپوز ہو رہا ہے جلد ہی آپ کے ہاتھوں میں ہو گا۔ پھر ایک دن فون آیا ملتان سے تبادلہ ہو گیا ہے کیا جانے سے پہلے ہم اکٹھے ہو سکتے ہیں؟ مَیں نے کہا ابھی تو بہت سی باتیں اور قہقہے لگانے تھے۔ ہم دونوں نے بیٹھ کر تو بولے کوئی بات نہیں کچھ عرصے بعد حکومتی جبر سے آزادی ملنے والی ہے پھر ہم ہوں گے اور آوارگی ہو گی اور ہاں جہلم میں تو آپ آتے جاتے ہوں گے۔ تو میرا مستقل ٹھکانہ اب جہلم ہی ہو گا۔ پھر ایک دن انہوں نے اپنی وال پر لکھا کہ آج کل مَیں جہلم میں ہوتا ہوں۔ ملازمت نے بہت سی دوریاں پیدا کر دی تھی۔ اب میرا گھر ہے، بچے ہیں، والدہ محترمہ کا ساتھ ہے، اہلیہ کے کام ہیں، شاعری ہے اور کبھی کبھار لاہور کی ہوا ہے۔
ایک دن ڈاک سے دو کتب آئیں، یہ کتاب مرزا سکندر بیگ کا تازہ شعری مجموعہ تھا ”خاموش صدائیں“۔ دورانِ ملازمت لگن، محنت اور دیانت سے لوگوں کو خاموش صدائیں دینے والا مرزا سکندر بیگ اپنی شاعری میں بول رہا تھا۔ حساب کتاب کے کھاتوں میں زندگی بسر کرنے والا جب آزاد فضا میں آیا تو کہنے لگا:



خالی ہاتھ دُعا اور مَیں
پاک کلامِ خدا اور مَیں
دیر تلک ہم ساتھ رہے
رات چراغ ہوا اور مَیں
کیسے تم سے آن ملوں
میلوں بیچ خلا اور مَیں
دور کہیں دَم توڑ گئے
زخمی کونج صدا اور مَیں
مرزا سکندر بیگ کی شاعری کے رنگ خوبصورت ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے وہ پنجابی میں شعر کہتے ہیں۔ اس لیے ان کے پاس ذخیرہ¿ الفاظ بہت ہے۔ مصرع رواں، چھوٹی بحر میں غزل کہہ کر ناصر کاظمی کی یاد دلا دیتے ہیں۔ شاعری ایسی ہے کہ سردیوں کی سہ پہر میں نمکین بسکٹ اور اس کے ساتھ کشمیری چائے کی چسکیاں اور ”خاموش صدائیں“ بہت لطف دیتا ہے۔ وہ اُردو اور پنجابی دونوں میں باکمال شاعری کرتے ہیں اور پھر جس کی توصیف جناب افتخار عارف نے کی ہو۔ برادرِ من قمر رضا شہزاد نے طویل دیباچہ لکھا ہو۔ سوشل میڈیا پر بے رحم نقاد علی اکبر ناطق نے پسندیدگی کی نگاہ سے ان کی شاعری کا جائزہ لیا ہو تو ایسے میں مرزا سکندر بیگ کو مَیں مقدر کا سکندر کیوں نہ کہوں کہ ان کی ”خاموش صدائیں“ اس دل پر دستک دے رہی ہیں جو خاموش تو ہوتے ہیں لیکن خاموشی سے سرگوشی کرنا چاہتے ہیں:
آج تکمیل نہ کر لیں کسی افسانے کی
آخری شب ہے ترے شہر میں دیوانے کی
….٭….
اِک نئی لہر ہے اجنبی درد کی
مار دے گی مجھے تازگی درد کی
ان کی کتاب ایسے شاندار اشعار سے بھری پڑی ہے اور خاموشی سے آپ کو صدائیں دے رہی ہے کہ:
حقیقت سامنے اب کھولنے دیں
خدارا کچھ مجھے بھی بولنے دیں
گلے میں پہن لی ہے جو سکندر
مجھے منکے اسی کے رولنے دیں

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker