شاکر حسین شاکرکالملکھاری

یادیں سید قسور گردیزی کی ۔۔کہتا ہوں سچ /شاکر حسین شاکر

ہر سال جب ستمبر آتا ہے تو بے ساختہ درویش منش سیاستدان سید قسور گردیزی کی یاد آتی ہے جو چھ ستمبر کو پیدا اور گیارہ ستمبر کو ہم سے جدا ہوئے، وہ کیا تھے؟ اور اپنے ہم عصر سیاستدانوں سے مختلف کیوں تھے، حالانکہ وہ سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوئے، ایسے میں ان کی تو پوری زندگی ایوان اقتدار کی غلام گردشوں میں گزرنی چاہیے تھی، لیکن انھوں نے اپنے اسلاف سے بغاوت کی ۔ کیوں کی؟ یہ سوال ہم سال کی یاد میں منعقدہ تقریب میں اٹھاتے ہیں؟
اس کے تعاقب میں ہر سال ان کی شخصیت کے نئے پہلو وا ہوتے ہیں سو اس برس بھی ان کی برسی سے قبل ہماری ایک ملاقات سبی کے سابق کمشنر سید محمد علی گردیزی سے ہوئی اور باتوں میں قسور گردیزی کا ذکر آیا تو کہنے لگے کہ جن دنوں میں سبی میں تعینات تھا تو نواب خیر بخش مری سے ملاقات ہوئی، تب بلوچستان کے حالات خراب تھے تو مجھے نواب صاحب کا تعاون درکار تھا، میں نے اپنا تعارف سید قسور گردیزی سے کرایا اور بتایا میرے چچاقسور گردیزی آپ کے ساتھی رہے ہیں، تو انھوں نے فوراً کہاوہ میرے ساتھی نہیں ،بلکہ ہم ان کے سپاہی رہے ہیں، آپ میرے محسن کے قریبی عزیز ہیں، اب آپ سے لڑائی جھگڑا ختم ۔آپ بتائیں ہم آپ کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ یہ سید قسور گردیزی کی شخصیت کا وہ پہلو تھا جس سے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ قسور گردیزی کیسے سیاستدان تھے ۔
بقول ڈاکٹر انوار احمد کے۔ ہمارے ملک میں بہت کم ایسے صاحب مطالعہ اور ثابت قدم سیاست دان گزرے ہیں جو ہر آمریت کے خلاف سینہ سپر ہو کے کھڑے رہے ۔ جب ہم پراگریسو پیپرز لمیٹیڈ کے میاں افتخار الدین کی بات کرتے ہیں تو امروز،پاکستان ٹائمز اور لیل و نہار کا فکری کردار زیر بحث آتا ہے اس کے ساتھ شاہ جی کے خلاف ایوبی آمریت اور ضیائی آمریت کے اقدامات بھی زیر بحث آتے ہیں اور ان کے گھر پر ہونے والی (عین سہ پہر )کی”خفیہ ” میٹنگ کا ذکر آیا تھا جس کے سبھی شرکا گرفتار ہوئے سوائے صاحب زادہ فاروق علی اور انوار احمد کے ۔ عارف محمود قریشی مرحوم کئی برس کہتا رہا کہ آپ دونوں میں سے کوئی ایک “مخبر” تھا،
بھٹو پی پی کی تشکیل کے لئے ملتان آئے تو انہیں علم ہوا کہ قسور گردیزی اگر پارٹی کو جوائن کر لیں، ملتان میں ان کوفتح آسانی سے مل جائے گی، دوسری جانب قسور گردیزی بھی پی پی میں دھڑا دھڑ شامل ہونے والوں کی فہرست کو دیکھ رہے تھے تو ایسے میں انھوں نے بھٹو کو انکار کر دیا،کہ آپ کی جماعت میں میرے جیسے شخص کی جگہ نہیں بنے گی ۔
ایک مرتبہ قسور گردیزی کے گھر مولانا بھاشانی آئے ۔صحافیوں کو ملاقات کے لیے گردیزی کے گھربلایا گیا وقت مقررہ پر صحافی ان کے گھر پہنچ گئے تو مولانا بھاشانی غائب،تقریبا ایک گھنٹہ کی تاخیر سے مولانا بھاشانی آئے اور معذرت کرنے لگے کہ میرے پاس پہننے کے لیے ایک ہی سوٹ تھا جو میلا ہو چکا تھا سو اسے دھونے، خشک کرنے کے بعد پہن کر آیا ہوں کہ خود قسور گردیزی کو بھی کھدر کا لباس پسند تھا،اور اکثر وہی لباس زیب تن کیے رکھتے ۔
ان کا شمار ملتان کے ان سیاست دانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے سیاست میں آ کر اپنے اثاثے کم کئے، اسی وجہ سےسیاست کے سنجیدہ حلقوں میں ہمشیہ ان کا احترام کیا جاتا رہا ۔یہ ان کی دور اندیشی تھی کہ پی این پی کے پلیٹ فارم سے انھوں نے سب سے پہلے پانچویں صوبے کی بات کی،جس کی کچھ صورت اب جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی شکل میں سامنے آ رہی ہے ۔
ان کے ہونہار بیٹے زاہد حسین گردیزی کے بقول ایک شخص جو کبھی بی ڈی ممبر نہ بنا، نہ رکن اسمبلی کے لیے لابی کی ،اس کے باوجود ملکی سیاست میں ان کا احترام آج لاکھوں لوگوں سے کہیں زیادہ ہے کہ انھوں نے اپنے آدرش کی خاطر کہیں پر سودے بازی نہیں کی ۔مزدوروں، کسانوں اورہاریوں کے لیے انھوں نے اپنے آپ کو وقف کر رکھا تھا، کہ وہ کہتے اصل لوگ یہی ہیں جن کے لیے ہمیں کام کرنا ہوگا ۔
مجھے آج بھی سیّد قسور گردیزی کی پہلی برسی یاد ہے جب ان کے گھر کے وسیع و عریض صحن میں لوگوں کا جوش و خروش ہمیں لاہور میں ہونے والے فیض اَمن میلے کی یاد کروا رہا تھا۔ دورِ آمریت کی گھٹن کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ لوگ اپنے کتھارسس کے اظہار کے لیے میلے، مشاعرے، اور کانفرنس وغیرہ کروا لیا کرتے تھے۔ ملکی سیاست میں اب جس طرح کے لوگ آ رہے ہیں ان کی حالت بھی شاعری کے ایس ایم ایس جیسی ہے ان میں کوئی بھی بزنجو، بھٹو، قسور گردیزی، ولی خان جیسا نہیں۔ اب جو لوگ ہم پر مسلط کیے جاتے ہیں ان پر تو پھر کبھی لکھوں گا فی الحال سیّد قسور گردیزی کے بارے میں اتنا کہنا چاہوں گا کہ انہوں نے اپنی اکہتر سالہ حیات میں کبھی کوئی ایسا کام نہ کیا جس پر انہیں شرمندگی ہوئی ہو۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سیّد قسور گردیزی جس گھرانے میں پیدا ہوئے وہاں پر چاروں جانب آسودگی ہی آسودگی تھی۔ لیکن سیّد قسور گردیزی کی حیات نو کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے وہ پیدا ہوتے ہی بغاوت کے نظریئے سے واقف ہو گئے تھے۔ عملی زندگی کے آغاز میں بڑے منصوبے ترتیب دیئے گئے لیکن سیّد قسور گردیزی کی تربیت میں بچپن سے مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کی تربیت دی گئی۔ ایک طرف یزیدی قوتوں کے سامنے سینہ سپر ہو کر بات کرنا ان کی سرشت ہو گیا تو دوسری طرف ان کو سیاسی جدوجہد میں ایوبی اور ضیاءکی آمریت ملی۔ اس دوران جن ان کو بھٹو کا اندازِ حکمرانی پسند نہ آیا تو وہ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ یعنی ساری زندگی سیاست کی وادی میں گزار دی۔ جہاں پر طویل اور تھکا دینے والے مقدمات اور انسانیت سوز سزائیں جھیلیں۔ اہلِ خانہ اور بچوں سے دوری صرف اس لیے برداشت کی کہ جھوٹ نہیں بول سکتے تھے۔ پوری زندگی سیاست دانوں کے ساتھ بسر کی لیکن نہ لوٹے بنے اور نہ ہی کسی نے ان کو بکاؤ مال کہا۔ کہیں پر ہارس ٹریڈنگ کا حصّہ نہ بنے۔ البتہ ملتان میں ٹریڈرز کے لیے چیمبرز آف کامرس قائم ضرور کیا۔ اپنا کاروبار پوری ایمان داری سے کیا اور خسارہ بھی اُسی انداز میں برداشت کیا۔ جس طرح انہوں نے اپنی سیاست کی یعنی ان کی پوری زندگی اس بات کی غماز رہی،
طاقت کو کریں سجدہ یا سچ کا بھریں دم
یہ راز اب بھی تشریح طلب ہے۔
اُن کے قریبی عزیز مخدوم سجاد حسین قریشی جب گورنر پنجاب بنے تو وہ اُن سے ملنے گورنر ہاؤ س نہ تو رات کی تاریکی میں گئے اور نہ ہی دن میں۔ کہ یہ وہی دن تھے جب وہ ضیاء کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے تھے اور ایسے میں کوئی ایک خبر اُن کے عزم کو کمزور کر سکتی تھی۔ خاندان کی غمی خوشی کی تقریبات میں گورنر پنجاب سجاد حسین قریشی باقاعدگی سے آتے۔ سیّد قسور گردیزی اُن سے ملنے کے لیے لائن میں نہیں کھڑے ہوتے تھے۔ بلکہ ایسے مواقعوں پر وہ ہجوم میں گم ہو جاتے کہ نہ وہ گورنر پنجاب کو دکھائی دیں اور نہ ہی اُن کے ساتھ ملاقات ہو۔ قسور گردیزی کے اس رویے کو اُن کی اہلیہ بہت محسوس کرتیں کہ میرا بھائی گورنر تو بعد میں بنا ہے تعلق تو ہمارا پرانا ہے۔ اب آپ اُسے گورنر سمجھ کے ملتے ہیں۔ قسور گردیزی مسکرا دیتے اور کہتے کہ جب تک مخدوم صاحب گورنر ہیں تب تک مجھے احتیاط کرنی ہے ورنہ لوگ کیا کہیں گے؟
(بشکریہ: روزنامہ خبریں)

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker