شاکر حسین شاکرکالملکھاری

“کسے دا یار نہ وِچھڑے”۔۔کہتا ہوں سچ/ شاکر حسین شاکر

کچھ پیارے ایسے ہوتے ہیں کہ اُن سے اگر روز ملاقات نہ بھی ہو تو تب بھی اُن کے لیے محبت کے جذبات بہتے رہتے ہیں‘ ایسے پیاروں میں ایک نام سید حیدر عباس گردیزی کا بھی تھا۔ قارئین کرام! میں نے سید حیدر عباس گردیزی کے بارے میں ”تھا“ لکھا اور آپ نے پڑھ لیا لیکن یہ تھا کا لفظ لکھتے ہوئے مجھے جس اذیت کا سامنا کرنا پڑا ‘ وہ ناقابل بیان ہے کہ سید حیدر عباس گردیزی ایک وفادارسیاست دان ‘ خوبصورت دانشور‘ اپنی ثقافت اور مادری زبان سے جڑا ہوا ایک شخص تھا جو اَب ملتان کے باسی دوبارہ نہیں دیکھ پائیں گے۔
وہ کیسا شخص تھا؟ اُس کا نظریہ حیات کیا تھا؟ وہ معاشرے میں کیا تبدیلی چاہتا تھا؟ اُس نے اقتدار کی منازل طے کرنے کے لیے اپنی پارٹی کو کیوں نہیں چھوڑا؟ اور پی پی پی کے اندر رہ کر وہ موجودہ قیادت سے کیوں اختلافات کرتے تھے؟ اتنے سوالات صرف ایک ہی شخص کی ذات کے ساتھ وابستہ تھے تو اُس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے نظریے کے اعتبار سے بہت اہم فرد تھے‘ یہاں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اُن کی نظریاتی تربیت کس نے کی؟ اُس کا سادہ سا جواب یہ بنتا ہے کہ وہ نظریاتی طور پر سید قسور گردیزی سے متاثر تھے‘ یہی وجہ ہے کہ وہ پی پی پی کے بار بار اقتدار میں آنے کے باوجود مراعات لینے والی لمبی لائن کا کبھی حصہ نہ بنے۔محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ اُن کا خصوصی تعلق تھا بلکہ جب 1987ء میں نئے منشور پر کام شروع ہوا تو اُس کے لیے سید حیدر عباس گردیزی سے طویل مشاورت کی گئی پھر محترمہ بے نظیر بھٹو کے لیے تقاریر بھی ڈرافٹ کرتے رہے کہ حیدر عباس گردیزی کا ویژن بہت اہم تھا کہ وہ خود ہر وقت مطالعہ میں مصروف رہتے تھے۔اُن کے والد گرامی سید حسن رضا گردیزی بھی سرائیکی ‘اردو اور انگریزی کے نامور شاعر و ادیب تھے تو یقینی طور پر سید حیدر عباس گردیزی اپنے والد گرامی سے بھی متاثر تھے۔ یوں سید حیدر عباس گردیزی کو اپنے نظریے کو واضح کرنے کے لیے کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑا اور اُس نے سید حیدر عباس گردیزی کی شخصیت کو نکھار کر رکھ دیا۔ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران جیل گئے تو معافی مانگنے سے انکار کر دیااور اپنے نظریے پر کوئی کمپرومائز نہ کیا۔
سید حیدر عباس گردیزی کی اچانک وفات سے جنوبی پنجاب کے دوستوں کے دُکھ ناقابل بیان ہیں۔ میرے اور حیدر عباس گردیزی کے مشترکہ دوست اَسد پتافی کا لکھا ہوا مرثیہ دیکھیں کہ وہ حیدر عباس گردیزی کو کیسے جانتے تھے؟
”ہر شہر ہر خطہ بلاشبہ اپنی متاع رکھتا اور سب سے قیمتی متاع انسان ہوتے‘ انہی ہنستے بستے جیتے مرتے انسانوں میں ہی کچھ انسان‘ اپنے مزاج‘ اپنے ادراک‘ اپنے شعور اور اپنی فکری وابستگی کی بدولت جیتے جی ایک امتیازی وصف سے مزین ہوتے جاتے! اور ٹھیک ہوتے!
میں جب ملتان مہاجر ہوا تھا تو ہم مزاجی ہم آہنگی کا تقاضا اور جنون مجھے یہاں کے سرپھرے‘ سر شناس اور سربلند انسانوں سے ملنے کیلئے سرگرداں کیے رہا اور اُسی آتش زیر پائی نے مجھے حیدر عباس گردیزی سے نہ صرف ملوایا بلکہ ہمارے بیچ ایک ہم نظری ہم سخنی ہم وارفتگی ایسی بن گئی جو جنموں پرانی تھی۔ یقین نہیں آتا کہ ایسا انسان جس سے مل کر جس کے ساتھ بیٹھ کر جس سے دنیا جہان کی شاعری‘ فکر‘ فلسفے اور تاریخ پر گھنٹوں مکالمے ہوتے‘ ایسا یکتائے روزگار انسان کہ جن کی بدولت زندگی سے پیار ہوجائے‘ زندگی پر اعتبار مزید مستحکم ہو جائے‘ وہ بچھڑ گیا لیکن پھر یہ سچائی کہ موت زندگی ہی کا تسلسل ہوتی۔ہم نے کتنے سفر ساتھ کیے! کیا سوہنے ہمسفر تھے شاہ جی آپ! کتنی یادگار تقریبات بشمول فیض میلے‘ ایک ساتھ مل کر مرتب و منظم کیں۔ ایک طالب علم کے طور پر مجھے یہ مان کہ مختصر نگاری لکھنے میں شاہ جی جیسا کوئی میری نظر میرے مطالعے سے نہیں گزرا۔ یہ بات میری اُن سے لاڈلی محفلی نوک جھونک کا سبب بھی بنتی کیونکہ وہ نہ لکھنے کے برابر لکھتے جس کا مجھے دکھ ہوتا اور ہے اور رہے گا بھی۔ مجھے نثر لکھنے کی ہمت اور صلاحیت انہی کی لکھت کی بدولت نصیب ہوئی! کسی محفل یا تقریب میں بولتے بھی کمال تھے‘ اپنی لکھتوں کی مانند! ہر قسم کی فکری سیاسی عالمانہ جذباتیت‘ تعصب اور پست جوصلگی سے وہ یکسر پاک لکھتے اور بولتے تھے جو برصغیر کا عمومی وطیرہ چلی آ رہی۔ وہ اپنی اس طرز میں سراپا تاٹیر تھے۔
بہت نقصان ہوا بہت ارمان ہورہا ‘اس وچھوڑے کا! وہ دوست تو تھے ہی‘ اماں بھی تھے ہم سب کی‘ شفیق استاد بھی تھے اور طالبعلم بطور کلاس فیلو بھی!
شہر سے اور خطے کے اہل دل سے تعزیت!
زندگی کی ہما ہمی بھی عجیب! کبھی یہ کہتی کہ اہل ہمت کے نہ ہونے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا اور کبھی یہ بھی کہتی یہی نمانڑی نیانری زندگی کہ ” ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے! “
مجھے حیدر عباس گردیزی کی بیماری کا علم ڈاکٹر آفتاب حیدر زیدی سے ہوا اور موت کی اطلاع برادرم معین الدین ریاض قریشی نے دی۔کورونا کی وجہ سے جنازے کی اطلاع بھی نہ دی گئی‘ دوست احباب گھروں میں بیٹھ کر شاہ جی کو یاد کر کے آبدیدہ ہوتے رہے‘ انھیں اپنے والد گرامی کے قدموں میں سپردخاک کیا گیا اور اُس کے ساتھ ایک پورا عہد دفن ہوگیالیکن اُن کے آدرش اُن کی تینوں بیٹیوں کی آنکھوں میں زندہ ہیں۔وہ خود تو چلے گئے لیکن جاتے ہوئے ہمیں کہہ گئے کہ جب کبھی میری یاد آئے تو میں اپنے بعد تین اپنے جیسے وجود چھوڑے جا رہا ہوں‘ کہ یہی میرے روشن خیال نظریے کو آگے لے کر بڑھیں گی کہ وہ اپنی بیٹیوں پر بہت مان کرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ جب میں اپنی تینوں بیٹیوں کو پرسہ دینے گیا تو سوائے آنسو بہانے کے کچھ نہ کہہ سکا اور میں تو اُن سے یہ بھی نہ کہہ سکا کہ
”کسے دا یار نہ وچھڑے “
اور میں برادرم زاہد حسین گردیزی‘ ڈاکٹر علی رضا گردیزی‘ برادرم مظفر عباس گردیزی ‘سید عون رضا گردیزی اور اُن کے داماد سید عمران گردیزی کو فاتحہ دے کر نکل آیا کہ اب اُس گھر میں نہ کبھی حسن رضا گردیزی کی ہم شاعری سن سکیں گے اور نہ کبھی سید حیدر عباس گردیزی کی دانش سے بھر پور گفتگو۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker