شاکر حسین شاکرکالملکھاری

مولانا محمد حسین آزاد کی آخری مجلسِ عزا : کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر

کئی برس پہلے آج ہی کے دن یعنی نو محرم الحرام 1328ھ کو جب لاہور میں ان کا انتقال ہوتا تو اس سے چند دن پہلے ایک بڑا عجیب و غریب واقعہ اہلِ لاہور کے سامنے رونما ہوتا ہے۔
اس واقعہ کے بارے میں ڈاکٹر اسلم فرخی ، آزاد پر لکھے گئے اپنے خاکہ میں لکھتے ہیں:
’’عشرہ محرم کی ابتدائی تاریخ، نواب نوازش علی کے امام باڑے میں مجلس کی تیاری۔ لوگ جمع ہو رہے تھے، کچھ اور آنے والوں کا انتظار ہے۔ اتنے میں ایک بڈھا، ہانپتا کانپتا اندر داخل ہوا۔ سارے جسم پر لرزہ۔ لمبی لمبی سانسیں، سر پر چکٹ ٹوپی، گلے میں پرانی میلی کچیلی اچکن جس کی چولی کے آدھے بٹن ٹوٹے ہوئے۔ ڈبل زین کا کثیف پائجامہ۔ پیروں میں لیتڑے۔ سب نے اسے دیکھ کر منہ بنایا۔ وہ چپ چاپ اس طرف بیٹھ گیا جدھر روشنی کم تھی۔ ذرا دیر بعد اس نے چلا کر پوچھا ’’مجلس ابھی شروع نہیں ہوئی؟‘‘ کسی نے کہا ’’شروع ہونے والی ہے‘‘ ذرا دیر بعد اُس نے پھر یہی سوال کیا اور چیخ کر کہا نہیں شروع ہوئی تو نہ ہو ہم اپنا سلام پڑھے دیتے ہیں۔ یہ کہہ کر اس نے اپنی کانپتی ہوئی آواز میں سلام شروع کر دیا:
اے مجرئی پھرا سرِ سرورؑ کہاں کہاں
قرآں لیے پھرے ہیں ستم گر کہاں کہاں
پھرتا تھا سرِ سرورؑ کہاں کہاں
تھا آفتاب حشر سے محشر کہاں کہاں
مشکیزہ بھر کے نہر سے عباسؑ لے ہی آئے
کہتے ہی رہ گئے وہ ستم گر کہاں کہاں
قربان جاؤں دلبر مشکل کشا کے مَیں
مشکل کشائی کرتے ہیں جا کر کہاں کہاں
بندے کو رکھیے اپنی غلامی میں یاامامؑ
آزادؔ ہو کے جائے گا در در کہاں کہاں
وہ تو سلام پڑھ، کاغذ پھینک یہ جا وہ جا۔ مجلس میں سناٹا چھا گیا
’’از زمیں تا آسمان اِک سوختن کا باب تھا‘‘
لوگ ذرا سنبھلے تو آوازیں بلند ہوئیں۔ اچھا تو یہ شمس العلماء مولانا محمد حسین آزاد تھے۔ آج انہیں بھی دیکھنے اور سننے کی سعادت حاصل ہو گئی اور بہتوں کی آنکھیں نم ناک ہو گئیں۔‘‘
اور اس واقعہ کے چند دن بعد یعنی آج کے دن (نو محرم الحرام) کو جب انتقال ہوا تو 32 شاندار کتب کے مصنف محمد حسین آزاد کے بارے میں لاہور میں بہت سے عجیب و غریب واقعات سننے کو مل رہے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انتقال سے قبل مولانا آزاد ذہنی طور پر آزاد ہو چکے تھے۔ ان کے عالمِ جنون کے بے شمار واقعات ملتے ہیں جس میں رام سروپ اگروال کی یادیں قابلِ مطالعہ ہیں۔ رام سروپ اگروال مولانا آزاد پر اپنے مضمون میں لکھتے ہیں ’’مولانا کے شوقِ زیارت کی دبی ہوئی چنگاری اس دن چمک اٹھی جب مَیں لاہور پہنچا۔ صبح اکبری منڈی اپنے ایک عزیز لالہ اوم پرکاش کی دکان پر گیا۔ مَیں نے لالہ کو لاہور آنے کا مقصد بیان کیا تو لالہ کہنے لگے تم اس وقت آئے ہو جب مولانا تیاگی ہو چکے ہیں ان سے گھر میں ملنا تو دشوار ہے البتہ وہ روازنہ 9 اور 10 بجے کے درمیان گزرتے ہیں تم ان کا درشن کر لینا۔ کوئی ساڑھے نو بجے کا عمل ہو گا لالہ اوم پرکاش نے مجھ سے کہا رام سروپ کھڑے ہو جاؤ وہ دیکھو مولانا صاحب آ رہے ہیں۔ یہ کہہ کر وہ خود بھی کھڑے ہو گئے۔ مَیں کیا دیکھتا ہوں کہ سب دکاندار اپنی اپنی گدیوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور گاہک بھی مؤدب ہو کر سلام کرنے لگے۔ میرے لیے یہ منظر عجیب و غریب تھا۔ مَیں کبھی کسی درویش کسی سادھو یا کسی مہاتما کا اتنا احترام اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا تھا۔ تھوڑی دیر تو مَیں مبہوت رہا جب حواس ذرا بحال ہوئے تو پھر مولانا کو غور سے دیکھا۔
کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عالی وقار بزرگ۔ نورانی صورت۔ آنکھوں میں جلال۔ سر پر سفید پگڑی۔ لٹر کا چوغہ، سفید کرتا، لٹھے کا سفید پاجامہ۔ سیاہ پمپ شو پاؤں میں۔ ہاتھ میں چاندی کی شام کی وزیرآبادی چھڑی لیے ہوئے۔ چوغے میں چاندی کی زنجیر میں جیبی گھڑی رکھے ہوئے۔ نہایت باوقار اور باتمکین رفتار سے چلے آ رہے ہیں اور جدھر آپ کی نگاہ اٹھتی ہے لوگ بندگی کے لیے جھک جاتے ہیں۔ یہ سب منظر دیکھ کر مجھ پر اس قدر رعب طاری ہوا کہ سمجھ نہ آتا تھا کیا کرو۔ دکان سے اتر کر ان کے سامنے آیا ہاتھ جوڑ کر ہندوانہ طریقے سے بندگی عرض کی مگر مولانا نے میری طرف توجہ نہ کی۔ لیکن مجھے یوں لگا جیسے کوئی طاقت مجھے ان کے پیچھے کھینچ رہی ہے مَیں خاموشی سے ان کے پیچھے چلنے لگا۔ راستے میں مولانا کی عزت و احترام کا وہ منظر دیکھا جو ہندوستان میں غالباً کسی مہا پُرش کو نصیب نہ ہوا ہو گا۔ راہ میں تعلیم یافتہ آدمی پیدل چل رہا تھا وہ تعظیم کے لیے جھک گیا۔ رؤسا اپنی گاڑیوں اور سوار اپنے گھوڑوں سے اتر کر آداب بجا لا رہے تھے۔ لاء کالج کے پرنسپل مسٹر چارلس، گورنمنٹ کالج کے پروفیسرز، ججز اپنی اپنی بگھی سے اتر کر ایک طرف کھڑے ہو کر مولانا کے گزرنے کا انتظار کرنے لگے اور اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
یہ مناظر لاہور ہی کے ہیں۔ یعنی پہلے منظر میں شمس العلماء مولانا محمد حسین آزاد اپنے حواس کھونے کے باوجود عزاداری امام حسین کو یاد رکھے ہوئے تھے جبکہ دوسرے منظر میں لاہور اپنی وضع داری کی خوبصورت مثال بنا ہوا تھا۔ لاہور کے اہلِ علم اس شخص کی قدر و قیمت کو جانتے ہوئے ان کی تکریم کے لیے کمربستہ رہتے تھے۔ وہ محمد حسین آزاد جس نے اُردو ادب کو آبِ حیات، سخن دانِ فارس، دربارِ اکبری اور نیرنگِ خیال جیسی کتب سے مالامال کیا۔ اُردو ادب کے بڑے لکھنے والے تو ان چاروں کتب کو چار ستون قرار دیتے ہیں۔ لیکن یہی لاہور جس نے مولانا کو عروج کے زمانے میں دیکھا وہی لاہور ان کو جب زندگی کے آخری ایام میں لاہور کے ایک امام باڑے (نواب ناصر علی خاں کی حویلی) میں عالمِ وارفتگی میں سلام پڑھتے ہوئے دیکھتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے کہ یہ وہی مولانا آزاد ہیں جن کی قلم کی جولانیاں پڑھنے کے لیے لاکھوں لوگ منتظر رہتے تھے۔
مولانا کی شخصیت کے اتنے پہلو ہیں کہ ان پر بہت سی کتب لکھی جا چکی ہیں اور مستقبل میں بھی ان کے کام پر مزید تحقیق ہو گی۔ وہ ایک بھرپور شخص تھے جنہوں نے اپنی شخصیت کے اثرات ہر شعبہ حیات پر ڈالے۔ ان کی خانگی زندگی کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ وہ اپنی اہلیہ سے بہت محبت کرتے تھے۔ ابھی ان کی اہلیہ کے انتقال کو کچھ عرصہ ہی گزرا تھا کہ آزاد کے گھر کے باہر کہار نے آواز دی کہ کوتوال کے گھر سے ڈولی پر سواری آئی ہے یہ آواز جب آزاد نے سنی تو فوراً زنان خانے کی جانب گئے۔ کوتوال کی بیوی ان کے آگے جا رہی تھیں وہ بیوی بیوی کہتے اس کے پیچھے ہو لیے۔ گھر کی خواتین نے انہیں زنان خانے آنے سے منع کیا آپ کی بیوی تو مر چکی ہیں لیکن وہ کہنے لگے تم غلط کہتے ہو یہ تو میری بیوی ہیں مَیں ان کی شکل ضرور دیکھوں گا۔ تم لوگ مجھے دھوکہ دیتے ہو کہ وہ مر گئی ہیں یہ سب منظر دیکھ کر کوتوالِ شہر کی اہلیہ چھپ گئیں۔ سب کے سمجھانے کے باوجود انہوں نے کسی کی ایک نہ سنی۔ جب تک انہوں نے کوتوالِ شہر کی بیگم کو دیکھ نہ لیا انہوں نے کسی کی بات کا یقین نہ کیا۔ ان کی صورت دیکھ کر کہنے لگے لاحول ولاقوۃ یہ تو واقعی وہ نہیں ہیں۔ وہ تو سچ مچ مر چکی ہیں بار بار لاحول پڑھتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف لوٹ آئے۔
مولانا محمد حسین آزاد کا جب انتقال ہوا تو تب ہجری حساب سے نو محرم کا دن تھا جبکہ عیسوی تاریخ 22 جنوری 1910ء تھی۔ ان کے انتقال کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ مشورہ کیا گیا عاشورہ کے دن تدفین نہ کی جائے 11 محرم یعنی 24 جنوری کو سپردِ خاک کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ لاہور میں جنازے کے دن عام تعطیل کا اعلان کیا گیا۔ ہزاروں لوگ ان کی نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔ کربلا گامے شاہ میں دفن کیا گیا۔ مجھے یقین ہے کہ جب انہیں سپردِ خاک کیا جا رہا ہو گا تو تب ہزاروں لوگوں میں چند لوگ ان کا یہ سلام ضرور پڑھ رہے ہوں گے:
قربان جاؤں دلبرِ مشکل کشا کے مَیں
مشکل کشائی کرتے ہیں جا کر کہاں کہاں
بندے کو رکھیے اپنی غلامی میں یاامامؑ
آزادؔ ہو کے جائے گا در در کہاں کہاں

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker