شکور پٹھانکھیللکھاری

لٹل ماسٹر اور محمد برادرز : پاکستانی کرکٹ کے ناقابل فراموش کردار ۔۔ شکور پٹھان

ہوش سنبھالا تو قائد اعظم اور شہید ملت کے بعد تین ناموں کا چرچا تھا۔ انہیں میں ملک کی اہم ترین شخصیات مانتا تھا۔ ان میں ایک تو تھے اس وقت کے صدر جنہیں ہم جنرل ایوب کے نام سے جانتے تھے۔ اخباروں، ہوٹلوں، دکانوں، بازاروں اور سنیما ہال، ہر جگہ جنرل صاحب کی تصویر، یونیفارم پہنے ہوئے، نظر آتی۔ جنرلوں سے ہمارے رومانس کا نیا نیا آغاز ہوا تھا۔ دوسری تھیں ملکہ ترنم نورجہاں جن کی مدھ بھری آواز صبح شام سنائی دیتی حالانکہ اس وقت یہ ہوش نہیں تھا کہ نورجہاں کی آواز کونسی ہے اور زبیدہ خانم، کوثر پروین یا آئرین پروین کی آواز کونسی ہے لیکن نورجہاں کا نام ایسا بھاری بھرکم تھا اور ان کے تذکرے اتنے سنتے کہ ہم انہیں کوئی ماورائی ہستی جانتے تھے۔



تیسرے جو تھے انکے نام کے ساتھ ایک لفظ ذہن میں گونج جاتا اور وہ لفظ تھا ،،سنچری،،۔ کہ اس کے ساتھ ہی حنیف محمد یاد آتے تھے۔ اگر ہمارے شروع کے دنوں کی کرکٹ میں فضل محمود اور حنیف محمد نہ ہوتے تو کرکٹ ابتدا ہی سے اتنی مقبول نہ ہوتی کہ ان دنوں صرف پڑھے لکھے اور پیسے والے ہی کرکٹ کا شوق رکھتے تھے۔ عوام النِاس تو فٹبال، ہاکی اور کبڈی جیسے کھیل کھیلتے کہ کرکٹ کا کھیل خاصا مہنگا تھا۔سولہ برس کی بالی عمر یا سے ہی حنیف محمد نے ایسے ایسےکارنامے انجام دئے کہ سالہا تک کوئی ان کے قریب بھی نہیں پہنچ سکا۔ یہ نوخیز نوجوان اس وقت کے سیاہ طوفان، ویزلی ہال (جس کے بارے میں ضمیر جعفری نے کہا تھا کہ
ھال آتا ہے اس سے پہلے حال آتا ہے۔) اور گلکرسٹ کی خونخوار بولنگ کے سامنے ساڑھے سولہ گھنٹے چٹان کی طرح ڈٹا رہا اور 337 رنز کی یادگار باری کھیل کر ایک یقینی ہار کو “ڈرا” میں تبدیل کردیا۔ یہ ایک ایسا ریکارڈ ہے کہ ساٹھ سال گذرنے کے باوجود کوئی اس کے قریب بھی نہ پہنچ سکا۔



عزم و ہمت کا پہاڑ، توجہ اور یکسوئی کے ضرب المثل ،حنیف کے زمانے میں ٹیسٹ کرکٹ کم کم ہی ہوتی تھی۔ ایک روزہ اور بیس اوور کی “تماشہ” کرکٹ کا تو دور دور وجود نہ تھا لیکن حنیف نے ایسے ایسے کارنامے انجام دئے کہ وہ نوجوانی ہی میں انہیں “لیجنڈ” کا درجہ دے دیا گیا اور “لٹل ماسٹر” ہر دل کی دھڑکن بن گئے۔محمد برادرز کا سب سے درخشاں ستارہ تو حنیف محمد ہی تھے لیکن انکے بھائیوں نے بھی ایک سے بڑھ کر ایک ہاتھ اس کھیل میں دکھائے۔
ریاست جوان گڑھ کی بیڈمنٹن چمپئین ‘ امیر بیگم’ کے پانچ بیٹوں میں سے چار نے ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ جب کہ ایک بیٹے رئیس محمد بھی ایک میچ میں بارہویں کھلاڑی تھے۔ حنیف محمد کے بڑے بھائی وزیر محمد کے علاوہ ان کے چھوٹے بھائیوں مشتاق اور صادق نے بھی پاکستان کیلئے ٹیسٹ کرکٹ کھیلی۔ حنیف کے بیٹے شعیب محمد نے بھی پاکستان کی نمائندگی کی اور محمد خاندان کی روایتوں کو برقرار رکھا۔ ستر کی نصف دہائی تک پاکستان کیلئے بنائی جانیوالی سنچریوں میں محمد برادرز کا حصہ نصف سے زیادہ تھا۔ محمد فیملی کے پانچ فر زندوں نے پاکستان کا سبز کوٹ پہنا اور ایسا پہنا کہ حق ادا کردیا۔



سب سے بڑے بھائی وزیر محمد نے پاکستان کے لئے بیس میچ کھیلے اور دو بار سنچری بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔مشتاق محمد ایک بہترین آل راؤنڈر ہونے کیے علاوہ پاکستان کے کامیاب ترین کپتانوں میں سب سے ذہین کپتان تھے۔ اپنے وقت میں مشتاق ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے نوجوان ترین کھلاڑی تھے جنہوں نے پندرہ سال کی عمر میں پاکستان کیلئے کھیلا۔ 57 میچوں میں دس سنچریوں بنانے کے علاوہ مشتاق نے اپنی مشہور گگلی کی مدد سے 79 وکٹ بھی حاصل کئے۔ وکٹ اور موسم کے اور دستیاب ٹیم کے ساتھ کھیل کی بہترین حکمت عملی، مشتاق کا کمال تھا۔ سترہ سال کے وقفے کا بعد جب بھارت اور پاکستان کے کرکٹ تعلقات بحال ہوئے تو یہ مشتاق کی کپتانی کا اعجاز تھا جس نے بھارت کو دو صفر کی شکست سے دو چار کیا۔ یہ اور بات ہے کہ مشتاق نے کبھی اس قوم کو نہیں جتایا کہ “جب میں کپتان تھا”….جیسا کہ ایک سابق کپتان اٹھتے بیٹھتے کہتے رہتے ہیں۔
سب سے چھوٹے بھائی صادق نے 41 میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی اور پانچ سنچریاں بنائیں۔ بائیں ہاتھ سے جارحانہ بلے بازی کرنیوالے صادق کی ماجد خان کے ساتھ افتتاحی جوڑی نے پاکستان کو کئی بار کامیاب آغاز مہیا کیا۔ستر کی دہائی میں ویسٹ انڈیز کی کالی آندھی کے خلاف کراچی ٹیسٹ صادق کا ایک یادگار میچ ہے۔ سر پر شدید چوٹ لگنے کی وجہ سے صادق میدان سے باہر تھے لیکن جب دن کے اختتام سے قبل شکست سامنے نظر آرہی تھی تو صادق سر پر پٹیاں باندھے میدان میں دوبارہ اترے اور نو آموز بالر لیاقت علی جو اپنا پہلا میچ کھیل رہے تھے اور جنھیں بلے بازی کا کوئی تجربہ نہیں تھا، کے ساتھ بے جگری سے کالی آندھی کا مقابلہ کرتے رہے اور لیاقت علی کو سامنے آنے سے بچاتے رہے۔ لیکن کب تک۔ آخر کھیل ختم ہونے سے کچھ دیر قبل لیاقت علی بھی میدان چھوڑ گئے۔

اب صرف ایک کھلاڑی بچا تھا جو اپنی زخمی ٹانگ پر پلاسٹک چڑھائے باہر بیٹھا تھا وہ تھے بہادر کھلاڑی وسیم حسن راجا۔ آخر ملک کو شکست سے بچانے وہ اپنی پلاسٹر شدہ ٹانگ کے ساتھ صادق محمد کا ساتھ دینے میدان میں اترے۔ آخری دو تین اوور باقی تھے اور ایک طرف سر پر پٹیاں باندھے صادق محمد اور دوسری جانب پلاسٹر والی ٹانگ کے ساتھ وسیم راجہ۔ تماشائی آنکھوں میں آنسو لئے ان دونوں اور پاکستان کی عزت کیلئے دعائیں کر رہے تھے۔ آخر صادق اور راجہ کی جوانمردی اور تماشائیوں کی دعائیں کام آئیں اور پاکستان یہ میچ بچانے میں کامیاب ہوگیا
انیس سو انہتر کا نیوزی لیینڈ کے خلاف کراچی کا ٹیسٹ ایک تاریخ ساز میچ تھا جس میں تینوں بھائیوں حنیف، مشتاق اور صادق نے ایک ساتھ شرکت کی۔ صادق محمد کا یہ پہلا میچ تھا جو حنیف کا آخری میچ بھی ثابت ہوا۔
حنیف کھیل سے کیسے اور کیوں باہر ہوئے، اس بارے میں بہت سی کہی ان کہی کہانیاں ہیں۔ وہ کھیل کے میدان سے تو چلے گئے لیکن ہمارے دلوں سے نہیں گئے۔ حقیقی لٹل ماسٹر اگر کوئی ہے تو وہ صرف اور صرف حنیف محمد ہیں جن کے گھرانے نے بے غرضی سے اس ملک کی خدمت کی اور شاندار طور پر کی۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker