شکور پٹھانکالمکھیللکھاری

میانداد اور ضیاءکے کیریئر کیسے شروع ہوئے ؟ پویلئین اینڈ سے(12) / شکور پٹھان

بحرین ایک نئی دنیا تھی۔ اس مینڈک نے پہلی بار کنوئیں سے نکل کر کھلا آسمان دیکھا تھا۔ زندگی اب نئے رخ سے اپنی چھب دکھلا رہی تھی اور فکرذات نے کچھ دنوں کے لئے غم زمانہ بھلا دیا ۔ سچ تو یہ ہے کہ اب توجہ اپنی ملازمت اور نئی جگہ پیر جمانے پر تھی۔ پاکستان کے حالات اور وہاں کی خبریں فی الحال ذہن سے محو ہوچکے تھے۔



یو بی ایل کی ملازمت بھی کوئی باقاعدہ ملازمت نہیں تھی۔ یہ Casual Vacancy تھی اور میں کسی باقاعدہ اور دیرپا ملازمت کی تلاش میں تھا۔ یہ سب کچھ وہ تھا جس کا سامنا ہر پردیس آنے والے کو بہرحال کرنا ہی پڑتا ہے۔ لیکن زندگی کا یہی دور ہوتا ہے جو انسان کو بہت کچھ سکھلادیتا ہے۔ تقریباً تین ماہ بعد میں نے اس وقت کے بحرین کے واحد پنج ستارہ ہوٹل ” ہلٹن” میں ملازمت کرلی۔ یہاں میری ڈیوٹی رات کو ہوا کرتی تھی۔ اس کا فائدہ اٹھا کر میں نے دن میں ایک جگہ جز وقتی ملازمت بھی شروع کردی۔ ساتھ ہی چچا کے ایک دوست جن کا قالین کا کاروبار تھا ان کے حسابات بھی دیکھنے لگا۔ گویا میں بیک وقت تین جگہ کام کررہا تھا۔ نوجوانی کے دن تھے، حوصلہ تھا کچھ کرنے کا اور آگے بڑھنے کی لگن تھی۔ یہ سب کچھ ذرا بھی مشکل نہ لگتا۔ لیکن کچھ عرصہ بعد پارٹ ٹائم ملازمت کا دباؤ بڑھنے لگا اور وہ میری مستقل ملازمت میں حارج ہونے لگی تو ایک یعنی جزوقتی ملازمت چھوڑ دی۔



ان دنوں آج کی طرح پل پل کی خبریں ملنے کا تصوّر بھی نہیں تھا۔ ریڈیو ٹیلیویژن پر پاکستان کی خبر شاذ ہی آتی ۔ اور ہم بھلا ٹی وی دیکھتے بھی کب تھے کہ وہاں صرف عربی اور انگریزی میں خبریں ہوتی تھیں اور ہمیں ایسی کوئی خاص فکر بھی نہیں تھی ملکی حالات جاننے کی۔ اس بے فکری کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ملکی حالات بھی مجموعی طور پر پُرسکون ہی تھے۔ ایک دکان پر دو یا تین دن پرانا پاکستانی اخبار آتا، جسے ہم کبھی کبھار ہی خریدتے۔ لیکن خبریں رکھنے والے خبریں رکھتے تھے اور انہی سے ہمیں بھی خبر مل جاتی تھی۔
ان دنوں ایک خبر پڑھی جس پر ذرا بھی دھیان نہ دیا۔۔ یہ تھی جنرل ٹکّا خان کے ریٹائرمنٹ کے بعد نئے آرمی چیف کے انتخاب کی۔ سننے میں آیا کہ بھٹو صاحب نے ٹکاخان اور دیگر لوگوں کی سفارشات کو نظر انداز کرکے کسی جنرل ضیاءالحق کو ، جس کا سنیارٹی میں آٹھواں نمبر تھا ترقی دے کر فوج کا سربراہ بنا دیا۔ بظاہر یہ ایک عام سی بات تھی لیکن کسے خبر تھی کہ بھٹو صاحب کے اس اقدام کا خود ان کی ذات اور پاکستان کی تاریخ پر کیا اثر پڑنے والا ہے۔ پاکستان کی سیاست اور معاشرت آج تک اس کے اثرات سے باہر نہ آسکی اور شاید بہت عرصہ تک نہ آسکے۔
اور جیسا کہ میں نے کہا کہ خبریں رکھنے والے خبریں رکھتے تھے۔ جوانی کے دن تھے، ملکی سیاست اور حالات حاضرہ یعنی غم زمانہ ہمارا غم نہیں تھا۔ البتہ کھیل کود کی خبریں ہمیں برابر ملتی رہتی تھیں۔ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ بحرین ٹیلیویژن بھی یہ خبریں دیا کرتا تھا، جولائی میں کینیڈا کے شہر مانٹریال میں اولمپک کھیل ہورہے تھے۔۔ہم پاکستانیوں کی دلچسپی اولمپکس میں صرف ہاکی کی حد تک رہتی تھی جس میں تمغہ ملنے کی امید رہتی تھی اور اس وقت تک اگر طلائی نہیں تو نقرئی تمغہ ضرور مل جاتا تھا۔ لیکن اس بار ہمیں نہ گولڈ میڈل ملا نہ سلور۔۔سیمی فائنل میں آسٹریلیا سے ہارنے کے بعد تیسری پوزیشن کے لئے ہالینڈ کو ہرا کر ہم نے کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا، گویا خالی ہاتھ واپس نہ آئے۔



اکتوبر میں نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم پاکستان آئی۔ نیوزی لینڈ جسے ہم نے کبھی زیادہ اہمیت نہ دی تھی اور اس بار بھی اس کا دورہ کوئی خاص بات نہیں تھی، یہ سیریز ہم نے دو صفر سے جیت لی۔ دوسرے میچ میں مشتاق اور صادق محمد نے سنچریاں کیں ۔ یہ آئن اور گریگ چیپل کے بعد دوسرے بھائی تھے جنہوں نے ایک میچ میں سنچریاں کیں، اسی سیریز میں ماجد خان نے لنچ سے پہلے سنچری بنانے کا کارنامہ انجام دیا، نیوزی لینڈ کے باؤلر ‘پیتھرک’ نے اپنے پہلے ہی میچ میں ہیٹ ٹرک کی۔۔۔یہ سب باتیں اپنی جگہ ، لیکن اس سیریز میں ایک ایسا نوجوان کھلاڑی سامنے آیا جس نے بعد میں تن تنہا پاکستان کی کرکٹ کانقشہ ہی بدل دیا۔ اس جیسا جنگجو مزاج کھلاڑی دنیا نے شاید ہی دیکھا ہو۔ جس کا دماغ کرکٹ کا کمپیوٹر تھا۔
جی ہاں یہ تھا جاوید میانداد جس نے اپنے پہلے ہی میچ میں سنچری بنا کر ٹیسٹ ڈیبو میں سنچری بنانے والے کم عمر ترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا۔ تیسرے میچ میں ڈبل سنچری بناکر سب سے کم عمر میں ڈبل سنچری بنانے والے کا اعزاز حاصل کیا۔ یہ تو جھلک تھی اس بات کی کہ دنیا اس کھلاڑی کو دیکھنے والی ہے جس سے دنیا کے بڑی بڑی ٹیمیں خائف ہوں گی اور جب تک وہ میدان میں موجود ہوگا شکست پاکستان سے دور رہے گی۔
میانداد کے بارے میں ایک بھارتی صحافی نے کیا خوب تجزیہ کیا تھا کہ اگر کسی کی زندگی صرف بیٹنگ کرنے سے بچائی جاسکتی ہے تو اس کام کے لئے واحد قابل بھروسہ کھلاڑی جاوید میانداد ہے۔
دسمبر میں ہماری ٹیم آسٹریلیا پہنچی اور جنوری 1977 سے ٹیسٹ میچز شروع ہوئے جن کا ذکر بشرط زندگی اگلی قسط میں۔
1977ء۔۔۔یہ ہماری ملکی تاریخ کا ایک اور ہنگامہ خیز سال تھا جو ہماری سیاسی تاریخ کا رخ موڑنے والا تھا۔۔۔اس کی بات ذرا حواس مجتمع کرکے اور تازہ دم ہوکر کرینگے۔۔تب تک کے لئے خُداحافِظ

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker