اختصارئےشہزاد فریدلکھاری

شہزاد فرید کا حرفِ آخر : شہزاد اکبر کے بعد شہباز گل مستعفی ہوں‌گے ؟

سیاست میں ویسے تو کچھ بھی حرف آخر نہیں لیکن موجودہ سیاسی صورتحال میں دیگر جماعتوں کی مشکلات اپنی جگہ لیکن حکمران جماعت کے لیے اب بیرونی سے زیادہ اندرونی مشکلات بڑھنے لگی ہیں ۔۔ جیسے جیسے حکومت اپنی مدت کے اختتام کی جانب گامزن ہے ویسے ویسے عمران خان پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور اس حوالے سے عمران خان کے ماضی کے قریبی دوست جہانگیر ترین کا کردار مزید اہم ہورہا ہے..
ماضی میں جب جہانگیر ترین پر کیسز بنائے گئے تو جہانگیر ترین اپنی بے گناہی اور عمران خان کے فصلی مشیروں کی کارستانیوں کی دہائیاں دیتے رہے لیکن وزیر اعظم سمیت کسی کو بھی جہانگیر ترین کی آہ و بکا سنائی نہ دی اور اب مشیر احتساب شہزاد اکبر سے زبردستی استعفی لینا اس بات کی دلیل بنتا دکھائی دے رہا ہے کہ جہانگیر ترین اس وقت سچ کہہ رہے تھے، لیکن انکی بات پر کسی نے یقین نہ کیا تھا. اس تناظر میں سیاسی مبصرین اور باخبر حلقوں کو مزید استعفے بھی آتے دکھائی دے رہے ہیں جن میں سرفہرست اعظم خان. اور ڈاکٹر شہباز گل کے استعفے شامل ہیں.. وزیراعظم ہاؤ س کے قریبی ذ رائع بتاتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان اس وقت جہانگیر ترین کو واپس اپنے قریب دیکھنا چاہتے ہیں. لیکن اب جہانگیر ترین مکمل طور پر عمران خان سے کنارہ کشی کا ارادہ رکھتے ہیں. عمران خان کی جانب سے جہانگیر ترین کے قریبی ساتھیوں سے بھی رابطوں کی اطلاعات ہیں جن میں سے ایک سابق سینیئر وزیر علیم خان ہیں. جنھوں نے اپنے نجی ٹی وی چینل پر بھی شہزاد اکبر کے استعفے کی بروقت خبر دی اور اس خبر کو فلیش بھی کیا.. جو بعدازاں درست ثابت ہوئی..
اس وقت عمران خان اور جہانگیر ترین کے درمیان علیم خان راہ ہموار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ آئندہ بلدیاتی انتخابات ہوں یا 2023 کے الیکشن. عمران خان اپنے قریبی ساتھی کی کمی کو محسوس کررہے ہیں. دوسری جانب جہانگیر ترین اس وقت اہم سیاسی فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں. کیونکہ اسٹیبلشمنٹ سمیت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی جانب سے بھی جہانگیر ترین کو اشارے مل رہے ہیں.. جہانگیر ترین اپنے ہم خیال گروپ سمیت جلد اپنا آئندہ سیاسی لائحہ عمل ترتیب دیں گے. لیکن ایک بات طے ہے کہ سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں.

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker